"راحیل شریف" کے نسخوں کے درمیان فرق

4,286 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
==عوامی مقبولیت اور پذیرائی==
راحیل شریف نے جس وقت پاکستانی آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر تھی۔انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اخیتار کیا اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان آرمی نے تمام تر ملک دشمن قوتوں کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں کی۔اس سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری ہونے لگی اور راحیل شریف ملک میں ایک مقبول آرمی چیف کی حثیت سے ابھرے۔حالیہ ایران سعودیہ کشیدگی میں وہ بھی ملکی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگے کم کرنے کے لیے دورے پر تھے۔<br />
راحیل شریف ایک آرمی چیف کی حثیت سے نومبر 2016 تک خدمات انجام دے سکتے ہیں۔انکے عہدے کے دورانیے میں توسیع کے حوالے سے زیر گردش افواؤں پر انھوں نے آئی ایس پی آر کے ذریعے اعلان کیاہے کہ "پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے۔ میں ایکسٹینشن میں یقین نہیں رکھتا۔"<ref>http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/01/160125_raheel_sharif_no_extension_rh</ref>
 
لاہور (جیوڈیسک) پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف سعودی حکومت کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ جلدہی اسلامی فوج میں دفاعی مشیر کی حیثیت سے فرائض سنبھالیں گے۔
 
34ممالک کی مشترکہ فوج میں بطوری دفاعی مشیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں گے جہاں انہیں نیٹو افواج کے سربراہ سے بھی کہیں زیادہ معاوضہ اور مراعات کی پیشکش ہو چکی ہے۔
 
ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کا کنٹریکٹ دو سال کے لیے ہو گا ۔اطلاعات کے مطابق سابق آرمی چیف نے اسلامی ملٹری اتحاد کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے رضا مندی کا اظہار کردیا ہے۔
 
مشترکہ فورس کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہے جسے جوائنٹ کمانڈ سنٹر کہا جاتا ہے ،یہ تنظیم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کی کوششوں سے قائم ہوئی جو و بظاہر
 
داعش اور اس طرح کی دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بنائی گئی ہے۔
 
داعش جیسی تنظیموں کے خلاف بننے والے اس فوجی اتحاد کی ایک خاص بات یہ کہ اس میں داعش سے برسر پیکار ممالک، منجملہ شام، عراق اور ایران کو شامل نہيں کیا گیا ہے۔ مسلمہ طور یہ نام نہاد اتحاد امریکی ایما پر امت مسلمہ کو گمراہ کرنے اور انہيں مزید کئی ٹکڑیوں میں بانٹنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا ہے۔   
 
جب تنظیم بنانے کا اعلان کیا گیا تو رکن ممالک کی تعداد 34تو جو اب بڑھ کر 39ہو گئی ہے جن میں سعودی عرب ،پاکستان ،ترکی ،اردن ،متحدہ عرب امارات ،بحرین ،بنگلہ دیش ،تیونس ،سوڈان ،سینگال ،ملائیشیا ،مصر ،مر اکش اور یمن جیسے ممالک شامل ہیں۔
 
راحیل شریف اسم با مسمی جنرلوں میں سے ہیں، ان کے نام کے پہلے حصے میں سے اگر " حیل " حذف کردیا جائے تو صرف " را " بچتا ہے اور اگر ان کے نام کے دوسرے حصے سے " یف" کو نکال دیا جائے تو ان کا پورا وجود " شر" میں خلاصہ نظر آئے گا اور یہ بات بھی سبھی جانتے ہيں کہ پاکستان میں جتنا شر " را " نے پھیلایا ہے اتنا کسی نے نہيں، اور اب موصوف 34 ملکوں کے نام نہاد فوجی اتحاد کے سربراہ کی حثیت سے آل سعود کی گود میں جا بیٹھے ہيں۔ ملکوں کے درمیان اس قسم کے معاملات ہوتے رہتے ہيں لیکن یہاں معاملہ کسی ملک کا نہيں بلکہ ایک خاندانی اور مورثی بادشاہت کو نجات دلانے کا ہے، کہ جس کی چولہيں ہل چکی ہیں، جو شاہی خاندان کے شہزادوں اور شہز‍ادیوں کی عیاشیوں اور لوٹ کھسوٹ کے سبب اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔ ایک ایسے ملک جاکر "راحیل شریف" پاکستان کی کوئی خدمت کرسکتے ہيں نہ ہی آل سعود کو نجات دلا سکتے ہيں۔ البتہ آل سعود کے دربار کی خدمت کرکے ان کی ذاتی جیبیں ضرور بھر سکتی ہیں۔ نہيں معلوم کہ آل سعود نے راحیل شریف کو کتنے کا خریدا ہے لیکن چند سال قبل ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ پاکستانی "حکام"  بیس ڈالر کے عوض اپنی " ماں " کو بھی بیچ ڈالتے ہیں۔ امریکی عہدیدار کے بیان کی روشنی میں " راحیل شریف" کی قیمت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہيں ہے۔   
 
<ref>http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/01/160125_raheel_sharif_no_extension_rh</ref>
 
== اعزازات ==
گمنام صارف