"ناموسی قتل" کے نسخوں کے درمیان فرق

3,193 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
(ویکائی)
 
==بھارت میں عزت و آبرو سے جڑے قتل کے معاملے==
{{اصل|بھارت میں ناموسی قتل}}
حالانکہ عزت و آبرو سے جڑے قتل کے معاملے بھارت کے کئی شہری اور دیہی علاقوں میں رونما ہوئے ہیں، تاہم ان واقعات کی کثرت گاؤں کے علاقوں میں زیادہ ہے۔
 
===کھیپ پنچاہت===
کھیپ پنچایتیں [[بھارت]] کے خود ساختہ ادارے ہیں۔ یہاں لڑکیوں کی اپنی مرضی سے شادی بھی ایک قابل سزا جرم ہے۔ [[ہریانہ]] کے کچھ گاؤں میں لڑکیوں کو دھمکایا جانا، بے عزت کیا جانا یا پنچایتی فیصلے کے تحت قتل ہونا ایک عام بات ہے۔ یہاں خاندان والے ہی کئی بار اپنی لڑکیوں کو کیڑاکُش ادویہ دے کر مار ڈالتے ہیں اور پولیس کو اطلاع دیے بغیر لاشوں کو جلا دیتے ہیں۔ اگر لڑکی کہیں لڑکے کےساتھ فرار ہوتی ہے، تب پورے خاندان کا مقاطعہ کیا جاتا ہےاور خاندان کو بھاری جرمانہ دینا ہوتا ہے۔ مگر عمومًا لڑکے کے لوگوں کو کوئی اُف تک نہیں کہتا۔
 
===قتل کے معاملوں کو روکنے کی پہل===
;(الف) عدالتی پہل
[[22 جون]]، [[2010ء]] کو سپریم کورٹ نے ایک غیرسرکاری تنظیم کی [[بھارت کے مفاد عامہ مقدمات|مفاد عامہ درخواست]] پر مرکزی حکومت اور نو ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قتل کے معاملوں میں کچھ بھی عزت و تعظیم کا پہلو نہیں ہے۔
 
;(ب) قانونی پہل
[[قومی کمیشن برائے خواتین]] (National Commission for Women) نے ایک اکائی قائم کی ہے جو جرائم کو دیکھتی ہے اور متاثرین قانونی جارہ جوئی میں مدد کرتی ہے۔
 
;(ج) قانون سازی کی کوشش
[[بھارت]] کی حکومت کے زیر غور ایک تجویز ہے [[تعزیرات ہند]] کی دفعہ 300 میں ایک ذیلی دفعہ جوڑ دی جائے جو عزت و آبرو سے جڑے قتل کے معاملوں پر مرکوز ہو۔ یہ دفعہ قتل کے جرم پر روشنی ڈالتی ہے، جس کی سب سے بڑی سزا موت ہے اور کم ترین سزا جرمانہ ہے۔ یہ بھی زیر غور ہے کہ ان معاملوں میں مدد کے لیے [[بھارت]] کے قانون شہادت (Indian Evidence Act) اور خصوصی شادی کے قانون (Special Marriage Act, 1954) میں ترمیم کی جائے تاکہ دو الگ سماجی پس منظر کے لوگ شادی کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کرنے کے بعد انہیں شادی کی قانونی کارروائی کے لیے لازمی 30 دنوں کے انتظار کے مرحلے سے گزرنا نہ پڑے۔ یہ ترمیم اس لیے ضروری سمجھی جارہی ہے کیونکہ ان شادی بیاہ کے مواقع پر جوڑوں کے بیچ قانونی طور پر رشتہ تسلیم کیے جانے جانے کے لیے عموماً 45 دن لگتے ہیں۔ اس دوران لڑکے اور لڑکی دونوں کی جانوں کو خطرہ ہوسکتاہے۔<ref name = IJMTP>”Honor Killing”, Shivam Joshi, Journal of IPEM (Noida), Volume 8, No.2, July-Dec 2014, ISSN 0974-8903 pp 80-85.</ref>
 
==مزید دیکھیے==
35,061

ترامیم