"کتاب استثنا" کے نسخوں کے درمیان فرق

211 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
درستی، دعائیہ جملوں کا خاتمہ
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(درستی، دعائیہ جملوں کا خاتمہ)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم القاب)
'''کتاب استثنا''' ([[عبرانی زبان|عبرانی]]: דְּבָרִים‎، [[یونانی زبان|یونانی]]: Δευτερονόμιον) [[عبرانی بائبل]] کی چوتھی اور [[تورات]] کی پانچ کتابوں میں سے ایک ہے۔ تورات کی یہ پانچویں کتاب [[حضرت موسیٰ علیہ(مذہبی السلامشخصیت)|موسیٰ]] کی آخری تصنیف ہے۔ آپ نے یہ کتاب غالباً 1400 قبل مسیح میں لکھی، جب [[بنی اسرائیل]] [[موآب]] کے میدانوں میں خیمہ زن تھے اور [[ارض موعود|ملک موعود]] [[کنعان]] میں داخل ہونے کے منتظر تھے۔
 
اس کتاب میں حضرت موسیٰ علیہ االسلام کے آخری خطبات درج ہیں اور ساتھ ہی آپ کی زندگی کے آخری ایام کے واقعات اور آپ کی وفات کا ذکر بھی پایا جاتا ہے۔ بائبل کے عالم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آخری واقعات اور حضرت موسیٰ کی وفات کا بیان [[حضرت یشوع]] کی تالیف ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ نے حضرت یشوع کو اپنے انتقال سے پہلے اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا اور یہ حضرت یشوع ہی تھے جن کی قیادت میں [[بنی اسرائیل]] کی نئی نسل [[کنعان|ملک کنعان]] میں داخل ہوئی۔
 
[[کتاب مقدس]] کے [[عربی زبان|عربی]] ترجمہ میں اس کتاب کا نام "تثنية" اور اُردوترجمہ میں "استثنا" رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ نے اپنی پچھلی کتابوں میں مندرج شریعت کے احکام و قوانین کو اختصار سے دوسری بار تحریر فرمایا ہے۔ یہ احکام و وقوانین مجموعی طور پر وہی ہیں جو حضرت موسیٰ خدا کی ہدایت کے بموجب بنی اسرائیل کو اُن کی اڑتالیس سالہ صحرانوردی کے مختلف اوقات میں دیتے رہے تھے۔
 
کتاب استثنا کا مقصد یہ تھا کہ [[بنی اسرائیل]] کی نئی نسل جو [[حضرت یشوع]] کی قیادت میں [[کنعان]] کی [[ارض موعود|موعود سرزمین]] پر قدم رکھنے والی تھی بخوبی جان لے کہ احکام خداوندی کو ماننے کے فوائد اور نہ ماننے کے نقصانات کیا ہیں۔ خداوند خدا کا بنی اسرائیل سے تقاضا تھا کہ اُس کی برگذیدہ قوم پاک زندگی بسر کرے اور خدا کی وفادار رہے تاکہ وہ زندہ رہے، برکت، صحت، خوشحالی اور کامیابی سے ہمکنار ہو۔ لیکن اگر وہ عہد شکنی کی مرتکب ہوگی اور راہ راست سے دور ہو جائے گی تو لعنت، بیماری، افلاس اور موت کا شکار ہو گی۔
 
شروع شروع میں [[یہود|یہودیوں]] کے ہاں یہ کتاب یعنی کتاب استثنا نہیں پائی جاتی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوئی چھے سو سال بعد ایک جنگ کے زمانے میں ایک شخص ملک کے اس وقت کے یہودی بادشاہ کے پاس ایک کتاب لایا اور کہا یہ مجھے یہ کتاب ایک غار سے ملی ہے۔ معلوم نہیں کس کی ہے؟ مگر اس میں دینی احکام نظر آتے ہیں۔ بادشاہ نے اپنے زمانے کی ایک نبیہ عورت(یہودیوں کے ہاں عورتیں بھی نبی رہی ہیں یا کم از کم وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں) کے پاس بھیجا۔ اس نبیہ نے جس کا نام [[ہلدا]] (Hulda) بیان کیا جاتا ہے یہ کہلا بھیجا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کی کتاب ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چھ سوسال بعد اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔
 
==حوالہ جات==