"صلح حدیبیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,978 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: القاب ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
{{حرب
[[File:Suleh Hudebia.png|thumb|صلح حدیبیہ]]
|محاربہ= صلح حدیبیہ
|سلسلۂ_محارب=
|تصویر= [[تصویر:Suleh Hudebia.png|تصغیر]]
|بیان= [[صلح حدیبیہ]] خطاطی
|تاریخ= ذوالقعدہ سنہ [[6ھ]]
|مقام= [[حدیبیہ]]
|محل_وقوع= حدیبیہ نامی قریہ جو مکہ سے ایک منزل تقریباً 24 کلومیٹر کے فاصلے پر اور مدینہ سے 9 منزلوں کے فاصلے پر واقع ہے۔(موجودہ علاقہ شمیسی)۔
|نتیجہ= [[بیعت رضوان]] اور مشرکین کے ساتھ صلح بعنوان '''صلح حدیبیہ'''؛ جو اسلام اور امت کے لئے عظیم برکات کا سبب بنی:
* قریش نے اسلامی حکومت اور اس کی قوت کو تسلیم کیا؛
* قریش نے مسلمانوں کے حقِ عمرہ کو تسلیم کیا؛
* مسلمین اپنے سب سے بڑے دشمن کے شر سے محفوظ ہوئے؛
* دوسرے قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معاہدات کا راستہ ہموار ہوا جو قبل ازاں قریش کے خوف سے مسلمانوں کے قریب آنے سے کتراتے تھے اور قبیلۂ خزاعہ [[محمد {{درود}}]] کے حلیفوں میں شامل ہوا؛
* حبشہ ہجرت کرکے جانے والے مسلمان محفوظ ہوئے چنانچہ اس معاہدے کے بعد وہ پلٹ کر مدینہ چلے آئے۔
| اسباب = حضرت محمد {{درود}} نے خواب میں دیکھا کہ مکہ تشریف فرما ہوئے ہیں اور خانۂ کعبہ کا طواف اور مناسب عمرہ کی بجاآوری کی توفیق حاصل کرچکے ہیں؛ جس کے بعد آپ({{درود}}) نے عمرہ انجام دینے کے لئے مکہ عزیمت کرنے کا فیصلہ کیا۔
| خطۂ_اراضی = [[حجاز]]
|متحارب1= مسلمان
|متحارب2= قریش{{زیر}} مکہ
|متحارب3=
|قائد1= [[محمد {{درود}}]]
|قائد2= [[خالد بن ولید]]
}}
 
[[مکہ]] معظمہ سے ایک منزل کے فاصلے پر ایک کنواں حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے ۔ وہاں [[مدینہ منورہ|مدینہ]] اورمشرکینِ مکہ کے درمیان مارچ 628ء کو ایک معاہدہ ہوا جسے '''صلح حدیبیہ''' (عربی میں {{عربی متن|صلح الحديبية}}) کہتے ہیں۔ 628ء (6 ھجری) میں 1400 مسلمانوں کے ہمراہ حضرت [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]] {{درود}} [[مدینہ منورہ|مدینہ]] سے [[مکہ]] کی طرف [[عمرہ]] کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ عرب کے رواج کے مطابق غیر مسلح افراد چاہے وہ دشمن کیوں نہ ہوں [[خانہ کعبہ|کعبہ]] کی زیارت کر سکتے تھے جس میں رسومات بھی شامل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ [[مسلمان]] تقریباً غیر مسلح تھے۔ مگر عرب کے رواج کے خلاف مشرکینِ مکہ نے حضرت خالد بن ولید (جو بعد میں مسلمان ہو گئے) کی قیادت میں دو سو مسلح سواروں کے ساتھ مسلمانوں کو [[حدیبیہ]] کے مقام پر [[مکہ]] کے باہر ہی روک لیا۔ رسول اللہ نے حضرت عثمان غنی کو سفیر بنا کر [[مکہ]] بھیجا۔ انھیں وہاں روک لیا گیا۔ ان کے واپس آنے میں تاخیر ہوئی تو آپﷺ نے صحابہ سے بیعت لی جو [[بیعت الرضوان|بیعت رضوان]] کے نام سے مشہور ہے۔اس بیعت میں مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ مرتے دم تک حضور {{درود}} کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔ تھوڑی دیر بعد [[عثمان ابن عفان|حضرت عثمان]] {{رض مذ}} واپس آگئے اس بیعت کی خبر مکہ والوں کو ہوئی اور انھوں نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار پایا۔ تو صلح پر آمادہ ہوگئے۔ رسول پاک نے مکہ والوں کی شرائط قبول فرما لیا اور [[علی بن ابی طالب]] سے یہ صلح نامہ لکھوایا گیا۔
صلح حدیبیہ تک مسلمان انتہائی طاقتور ہو چکے تھے مگر یہ یاد رہے کہ اس وقت مسلمان جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ اسی لیے بعض لوگ چاہتے تھے کہ جنگ ضرور ہو۔ خود مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جن کو معاہدہ کی شرائط پسند نہیں تھیں۔ مثلاً اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ مگر حضرت [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]] {{درود}} کی دانشمندی سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ اس کی بنیادی شق یہ تھی کہ دس سال تک جنگ نہیں لڑی جائے گی اور مسلمان اس سال واپس چلے جائیں گے اور [[عمرہ]] کے لیے اگلے سال آئیں گے۔ چنانچہ مسلمان واپس [[مدینہ منورہ|مدینہ]] آئے اور پھر 629ء میں حج کیا۔ اس معاہدہ کے بہت سود مند اثرات برآمد ہوئے۔
<br />
اس سال مسلمان جو تعداد میں تھوڑے اور غیر مسلح تھے جنگ سے بچ گئے اور اس سے اگلے سال مکہ میں داخل ہوئے۔ معاہدہ کے دوران پہلے حضور {{درود}} کا نام 'محمد رسول اللہ' لکھا گیا مگر مشرکین کو اعتراض ہوا تو حضور {{درود}} نے اپنا سادہ نام لکھوا لیا۔
 
 
== حوالہ جات ==
92,366

ترامیم