"لوط (اسلام)" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,712 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: القاب ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: القاب ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ یہ لوگ عراق میں شہر ''بابل'' کے باشندہ تھے پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے ہجرت کر کے ''[[فلسطین]]'' تشریف لے گئے اور حضرت لوط علیہ السلام ملک شام کے ایک شہر '''اُردن''' میں مقیم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرما کر ''سدوم'' والوں کی ہدایت کے لئے بھیج دیا۔
مدائن صالح اوتھی[[دمشق]] کے درمیان بحیرہ لوط جو سی سالٹ کہلاتی ہے اس کےنزدیک آپ کی قوم آباد تھی .
 
== آل لوط ==
'''آل لوط''' سے [[لوط علیہ السلام]] اور ان کے پیروکار مراد ہیں۔ یہ [[قرآن]] میں چار مرتبہ آیا ہے۔
*{{قرآن-سورہ 15 آیت 59}}
*{{قرآن-سورہ 15 آیت 61}}
*{{قرآن-سورہ 27 آیت 56}}
*{{قرآن-سورہ 54 آیت 34}}
 
آل لوط سے مراد خود حضرت لوط علیہ الصلا ۃ و السلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں جن میں حضرت لوط علیہ الصلاۃ و السلام کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ لوط علیہ الصلاۃ و السلام کی دوبیٹیاں ان کے ساتھ جن کو نجات دی گئی۔<ref>تفسیر جلالین جلال الدین سیوطی سورہ القمر آیت33</ref><br />
آل لوط سے یہاں پر مراد حضرت لوط کی صرف صلبی اولاد نہیں بلکہ آپ کی معنوی اولاد بھی اس میں داخل ہے، یعنی آپ کے اتباع اور پیروکار کہ ان سب ہی کو اس نجات سے سرفراز فرمایا گیا<ref>تفسیر مدنی مولانا اسحاق مدنی سورۃ القمر</ref><br />
آل لوط سے مراد ان پر ایمان لانے والے تھے، اسی لیے لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے بارے میں فورًا ہی کہا گیا کہ وہ کافروں کے ساتھ رہ جائے گی اور ضرور ہلاک کی جائے گی، اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لائی تھی۔<ref>تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن ،محمد لقمان سلفی،سورۃ الحجر57</ref>
 
==قوم لوط==
92,487

ترامیم