"تلنگانہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

184 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور با اثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انہوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں تلنگانہ کے عوام نے احتجاج کی قیادت کرنے والی تلنگانہ پرجا سمیتی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا۔ لیکن انتخابات کے بعد اسی پارٹی نے قلا بازی کھائی اور خود کو کانگریس میں ضم کرلیا۔ اس دھوکا دہی سے تلنگانہ کے عوام اتنے بدظن ہوئے کہ اگلے دو تین دہایوں تک کسی نے بھی تلنگانہ ریاست کا نام نہیں لیا۔2001 کے دوران یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشم سے عیلحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راو نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کیلئے اپنی مہم کا آغاز کیا۔رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہوگئی کہ 2004کے انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔اس موقع پر دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ کے مسئلہ کو علاقہ کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور اس معاہدہ کی دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے تشریح کی۔ جہاں ٹی آر ایس کو امید تھی کہ یو پی اے کی حکومت جلد ہی آندھراپردیش کو دو حصوں میں بانٹ کر انہیں تلنگانہ ریاست تحفے کے طور پر پیش کرے گی جبکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ کی طرح ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا اور اب اس کا یہ کہنا ہے کہ محض ریاستوں کی تنظیم جدید کے ایک اور کمیشن کے قیام کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔جہاں تک دوسری پارٹیوں کے موقف کا سوال ہے۔ تلگودیشم ، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم آندھراپردیش کے بٹوارے کے خلاف ہیں۔ مجلس اتحاد السملمین جو اس علاقے میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرتی ہے وہ بھی علاحدہ تلنگانہ کے حق میں نہیں ہے۔ صرف بی جے پی نے ہی اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اب تلنگانہ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔چنانچہ جہاں اب اس مسئلہ پر گڑبڑ اور تشدد کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے وہیں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ آگے چل کر ایک نیا سیاسی محاذ تشکیل پائے جس میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے علاوہ ایک تلگو اداکارہ وجے شانتی کی تلنگانہ تلی پارٹی بھی شامل ہو۔
== اضلاع ==
استلنگانہ علاقے میں ذیلریاست کے اضلاع31 واقعاضلاء ہیں۔
* [[عادل آباد ضلع]]
 
2۔ [[بھدرادری کوتاگوڈیم]]
3۔ [[حیدرآباد]]
4۔ [[جگتیال]]
5۔ [[جنگاؤں]]
6۔ [[جیاشنکر بھوپال پلی]]
7۔ [[جوگولامبا گدوال]]
* [[ورنگل ضلع]]
* [[عادل آباد ضلع]]
* [[کھمم ضلع]]
* [[محبوب نگر ضلع]]
16

ترامیم