"ریاست ہائے متحدہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

←‏سیاسی نظام: درستی املا
(←‏سرزمین: درستی املا)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(←‏سیاسی نظام: درستی املا)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
ریاست ہائے متحدہ دنیا کی سب سے زیادہ عرصہ تک قائم رہنے والی آئینی جمہوریہ ہے جس کا آئین دنیا کا سب سے پرانا اور مکمل طور پر تحریری ہے۔ اس کی حکومت کا انحصار کانگریسی نظام کے تحت نمائندہ جمہوریت پر ہے جو آئین کے تحت اختیارات کی حامل ہوتی ہے۔ تاہم یہ کوئی عام نمائندہ جمہوریت نہیں ہے بلکہ اس میں اکثریت کو اقلیت کے حقوق کے لئے آئینی طور پر پابند کیا گیا ہے۔ حکومت تین سطحی ہے، وفاقی، ریاستی اور مقامی۔ ان تینوں سطحوں کے اراکین کا انتخاب یا تو رائے دہندگان کے خفیہ ووٹ سے یا پھر دوسرے منتخب اراکین کی طرف سے نامزدگی کی مدد سے ہوتا ہے۔ ایگزیکٹو اور قانون ساز دفاتر کا فیصلہ شہریوں کی طرف سے ان کے متعلقہ حلقوں میں اجتماعی ووٹ سے کیا جاتا ہے، عدلیہ اور کابینہ کی سطح کے دفاتر کو ایگزیکٹو برانچ نامزد کرتی ہے اور مقننہ انہیں منظور کرتی ہے۔ کچھ ریاستوں میں عدلیہ کی نشستیں عام انتخابات سے پر کی جاتی ہیں۔
 
وفاقی حکومت تین شاخوں سے مل کر بنتی ہے جن کی تشکیل ایک ایک دوسرے کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس کی خاطر کی گئی ہے:
* مقننہ: کانگریس جو سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز ( ایوان نمائیندگان ) سے مل کر بنتی ہے اور یہ وفاقی قوانین بناتی ہے، اعلان جنگ کرتی ہے، معاہدوں کی منظوری دیتی ہے اور مواخذےاسےمواخذے کا اختیار شاملبھی حاصل ہے۔
* ایگزیکٹوز: صدر، جو سینیٹ کی رضامندی کے ساتھ کابینہ اور دیگر افسران کی نامزدگی کرتا ہے، وفاقی قوانین کی دیکھ بھال اور ان کی بالادستی قائم کرتا ہے، بلوں کو مسترد کرسکتا ہے اور فوج کا کمانڈر ان چیف بھی ہوتا ہے
* عدلیہ: سپریم کورٹ اور زیریں وفاقی عدالتیں جن کے ججوں کا تعین صدر سینیٹ کی منظوری سے کرتا ہے، جو قوانین کی تشریح کرتے ہیں اور آئین کے تحت ان کی معیاد مقرر کرتے ہیں اور وہ قوانین جو غیر آئینی ہو گئے ہوں، انہیں ختم بھی کرسکتے ہیں۔
 
امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل مقننہ ہے۔ایوانِ نمائندگان( ہاؤس آف رپریزنٹیٹوز) کے ارکان کی تعداد 435 ہے، ہر ایک الگ ضلعے کی نمائندگی دو سال کے لئے کرتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کی شرح سے سیٹوں کی تعداد ملتی ہے۔ آبادی کا تعین ہر دس سال بعد از سر نونوء کیا جاتا ہے۔ہر ریاست کو کم از کم ایک نمائندے کی اجازت ہوتی ہے: سات ریاستوں کے ایک ایک نمائندے ہیں، کیلیفورنیا کے نمائندگان کی تعداد سب سے زیادہ 53 ہے۔ ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو ریاستی سطح پر چھ سال کے لئے منتخب ہوتے ہیںْ۔ ایک تہائی سینیٹ کے انتخابات ہر دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔
 
ریاست ہائے متحدہ کا آئین امریکی نظام میں سب سے اعلٰی قانونی دستاویز ہے اور اسے سماجی معاہدہ بھی سمجھا جاسکتا ہے جو امریکی شہریوں اور ان کی حکومت کے مابین ہے۔ وفاقی اور ریاستی حکومت کے تمام قوانین پر نظر ثانی کی جاتی ہے جو کسی طور پر بھی آئین کے خلاف ہوں اور عدلیہ انہیں ختم بھی کرسکتی ہے۔ آئین ایک زندہ دستاویز ہے اور اس میں ترمیم کئی طریقوں سے کی جاسکتی ہے لیکن اس کی بہر طور منظوری ریاستی اکثریت ہی دیتی ہے۔اب تک آئین میں 27 بار ترمیم کی جاچکی ہے۔ آخری ترمیم 1992ء میں کی گئی تھی۔گئی۔
آئین میں آزادی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھہی حقوق کی بھی وضاحت موجود ہے اور دیگر ترامیم بھی جن میں آزادئ اظہار رائے، مذہب، پریس کی آزادی، منصفانہ عدالتی کارروائی، ہتھیار رکھنا اور ان کا استعمال، ووٹ کا حق اور غریبوں کے حقوق شامل ہیں۔ تاہم ان قوانین کو کس حد تک استعمال کیا جاتاجا ہے،ئے، قابل بحث بات ہے۔ آئین ایک عوامی طرز کی حکومت کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس کی بہت کم وضاحت کی گئی ہے۔
 
امریکی سیاست پر ریپبلک اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے اثرات بہت گہرے ہیں اور انہی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ وفاقی، ریاستی اور نچلے درجوں کی حکومت میں انہی پارٹیوں کی اکثریت موجود ہے۔ آزاد امیدوار نچلے درجوں پر بہتر کام کرسکتے ہیں اگرچہ ان کی کچھ مقدار سینیٹ اور ایوان نمائیندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز ) میں بھی موجود ہے۔ امریکی سیاسی کلچر کے مطابق ری پبلک پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت یا قدامت پرست جماعت کہا جاتا ہے جبکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو بائیں بازو کی جماعت یا آزاد خیال جماعت کہا جاتا ہے۔ تاہم پارٹیوں کے حجم اور ان کے قوانین میں لچک کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے اراکین کی رائے بہت مرتبہ پارٹی سے مختلف بھی ہو جاتی ہے اور آپ محض پارٹی کے نام کی وجہ سے اس کے رائے کا اندازا نہیں لگا سکتے۔
 
2001ء سے امریکی صدرجارج ڈبلیوبش ایک ری پبلکن صدر ہیں۔تھے۔اور 2006ء کے وسط مدتی انتخابات کے دوران ڈیمو کریٹس کوکو، 1994ء کے بعد دونوں ایوانوں میں پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ہے۔
 
=== حالت جمہوریت ===
119

ترامیم