"ابو طالب بن عبد المطلب" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
ویکائی
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم القاب)
م (ویکائی)
(ٹیگ: القاب)
{{صفائی نو لکھائی}}
حضرت '''ابو طالب بن عبد المطلب''' ( {{عربی|أبو طالب بن عبد المطلب‎المطلب‎}} ولادت [[549]]ء - وفات [[619]]ء) [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد]] {{درود}} کے چچا اور [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] {{ع مذ}} کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔ رسول اللہ {{درود}} اپنی والدہ [[حضرت آمنہ بنت وہب|حضرت آمنہ بنت وھب]] {{ع مو}} اور دادا حضرت [[عبدالمطلب]] کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔ آپ نے ایک بار [[شام]] اور [[بصرہ]] کا تجارتی سفر کیا تو آنحضرت {{درود}} کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اس وقت حضور {{درود}} کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ [[بحیرا راہب]] کا مشہور واقعہ، جس میں راہب نے حضور {{درود}} کو نبوت کی نشانیاں دیکھ کر پہچان لیا تھا، اسی سفر کے دوران میں پیش آیا تھا۔
 
حضرت '''ابو طالب بن عبد المطلب''' ( {{عربی|أبو طالب بن عبد المطلب‎}} ولادت [[549]]ء - وفات [[619]]ء) [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد]] {{درود}} کے چچا اور [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] {{ع مذ}} کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔ رسول اللہ {{درود}} اپنی والدہ [[حضرت آمنہ بنت وہب|حضرت آمنہ بنت وھب]] {{ع مو}} اور دادا حضرت [[عبدالمطلب]] کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔ آپ نے ایک بار [[شام]] اور [[بصرہ]] کا تجارتی سفر کیا تو آنحضرت {{درود}} کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اس وقت حضور {{درود}} کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ [[بحیرا راہب]] کا مشہور واقعہ، جس میں راہب نے حضور {{درود}} کو نبوت کی نشانیاں دیکھ کر پہچان لیا تھا، اسی سفر کے دوران میں پیش آیا تھا۔
 
== خاندان ==
آپ کے والد کا نام [[عبدالمطلب]] اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا۔ آپ حضور {{درود}} کے والد [[عبداللہ بن عبد المطلب]] کے واحد سگے بھائی تھے چونکہ دیگر کی والدہ مختلف تھیں۔<ref name="سیرت ابن ہشام">سیرت ابن ہشام{{مکمل حوالہ درکار}}</ref>
 
== قبولیت{{زیر}}قبولیتِ اسلام و ایمان ==
آپ نے [[اسلام]] قبول کیا یا نہیں، ایک متنازع موضوع ہے۔ آپ نے تاحیات اشاعت اسلام میں حضور {{درود}} کا ساتھ دیا اور ان کی بت پرستی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی جبکہ سیرت ابن ہشام میں ان کے کلمہ پڑھنے کا ذکر ہے۔{{حوالہ درکار}} حضرت عبد المطلب کی وفات (578ء) کے بعد انہوں نے ہی حضور {{درود}} کی پرورش کی۔ آپ کی تقلید میں [[ابولہب]] کے سوا باقی تمام بنو ہاشم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پشت پناہ بنے رہے اور حضور اکرم {{درود}} کی خاطر بڑی سختیاں جھیلیں۔ حضرت [[خدیجہ بنت خوید|خدیجہ]] کے ساتھ رسول اللہ {{درود}} کا نکاح انہوں نے ہی پڑھایا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا۔<ref> name="سیرت ابن ھشام<ہشام" /ref>
سیرت ابن ہشام کے مطابق وفات کے قریب آپ نے کلمہ اسلام زبان پر جاری کیا تھا۔<ref name="سیرت ابن ہشام" /> تاہم کئی مؤرخین ان کے قبول اسلام کو مستند نہیں سمجھتے اور رسول اللہ {{درود}} کا نکاح پڑھانے کو قبولیت اسلام کی دلیل نہیں سمجھتے۔ {{حوالہ درکار}}
ایمان حضرت ابو طالب علیہ السلام پر علامہ [[صائم چشتی]] اور ڈاکٹر [[طاہرالقادری|طاہر القادری]] نے بڑے سکہ بند حوالوں کے ساتھ کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو ایمان ابوطالب پر کئے جاتے ہیں۔ دونوں علماء مسلک اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کتب کے مطابق حضرت عبدالمطلب کے دس بیٹے تھے جن میں حضرت عبداللہ علیہ السلام آخری نمبر پر تھے اور سب بھائیوں میں بہت زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔ ان کا انتقال حضور {{درود}} کے ولادت سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ جب ہاشمی خاندان میں آقا {{درود}} کی کفالت کا معاملہ اٹھا تو حضرت عبدالمطلب نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے سامنے بٹھایا اور ان سب کے دلوں پر روحانی نظر دوڑائی اور حضرت ابو طالب علیہ السلام کو اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے میرے بیٹے میں نے تیرے دل میں اپنے پوتے حضرت محمد {{درود}} کی محبت کو دیکھا ہے اس لیے اس کی کفالت تمہارے ذمے ہے اس دن سے حضرت ابوطالب علیہ السلام نے حضرت محمد {{درود}} کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آقا {{درود}} کی پرورش شروع کردی۔ آپ علیہ السلام کسی بھی وقت اپنے بھتیجے کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ حضرت [[فاطمہ بنت اسد]] سلام اللہ علیہا بھی آقا درود سے والہانہ محبت کرتی تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان انتقال ہوا تو آقامحمد {{درود}} ان کو دفن کرنے سے پہلے ان کی قبر مبارک میں لیٹے اور اپنی نورانی چادر ان کے کفن کے ساتھ لپٹا کر ان کو دفن کیا گیا۔ جب آقا {{درود}} کا اس دنیا میں ظہور ہوا تو آقا درود کا نام محمد ({{درود}}) حضرت عبدالمطلب اور حضرت ابو طالب علیہ السلام نے تجویز فرمایا جبکہ آقا {{درود}} کا فرمان ہے کہ میرا نام محمد ({{درود}}) عرش معلیٰ پر نور کے ستر ہزار حجابات میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔
 
=== ایمان ابوطالب پر اثباتی دلیلیں ===
* اسلام سے پہلے آپ [[دین]] [[ابراہیم علیہ السلام]] پر تھے چنانچہ ان کی بت پرستی کی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
* آپ نے [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضور {{درود}}]] کا نکاح پڑھایا تھا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا تھا۔ اللہ کا نام وہ لوگ استعمال کرتے تھے جو دینِ ابراہیمی پر عمل کرتے تھے۔
* ان کی زوجہ حضرت [[فاطمہ بنت اسد]] {{رض مو}} نے اسلام قبول کیا تو ان کا نکاح فسخ نہ ہوا جبکہ اگر کسی مشرک یا کافر کی زوجہ اسلام قبول کرتی تو اس کی شادی فسخ ہو جاتی۔
* آپ نے [[علی بن ابی طالب|حضرت علی کرم اللہ وجہہ]] کو مسلمان ہونے پر کچھ نہ کہا حالانکہ وہ سن و سال میں چھوٹے تھے۔
* آپ کے اشعار جو [[سیرت ابن اسحاق]]، [[سیرت ابن ہشام]]، [[تاریخ الرسل والملوک|تاریخ طبری]] وغیرہ کے علاوہ عربی ادب میں عموماً ملتے ہیں، آپ کے ایمان پر سند ہیں۔
* حضور اکرم {{درود}} اسلام کے عمومی اعلان کے بعد بھی حضرت ابو طالب کے دسترخوان پر کھانا کھاتے جبکہ کسی مشرک و کافر کے ساتھ نہ کھاتے۔
* جس سال حضرت ابوطالب اور حضرت [[خدیجہ بنت خویلد|خدیجہ]] {{رض مو}} کا انتقال ہوا، حضور {{درود}} کو شدید دکھ ہوا اور انہوں نے اس سال کا نام عام الحزن (یعنی غم کا سال) رکھا۔
* حضرت ابوطالب نے ہمیشہ حضور {{درود}} کی حفاظت کی یہاں تک کہ ان کے بستر پر بدل بدل کر اپنے بیٹوں خصوصاً حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو سلاتے تاکہ [[قریش]] حضور {{درود}} کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ بھتیجے کی محبت کے علاوہ اسلام سے بھی محبت کا ثبوت ہے کیونکہ بھتیجے کی محبت بیٹوں سے فوقیت نہیں رکھتی۔
* سیرت ابن ہشام و سیرت ابن اسحاق کے مطابق وفات کے وقت ایک [[صحابی]] نے کان لگا کر سنا تو حضور {{درود}} کو کہا کہ خدا کی قسم یہ وہی کلمات کہہ رہے ہیں جو اس سے قبل آپ ان کو کہنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ حضور {{درود}} نے انہیں کلمہ پڑھنے کو کہا تھا۔
 
مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے : {{عربی|1=لِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي حَقِّهِ بِاتِّفَاقِ الْمُفَسِّرِينَ: إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ}} اللہ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے جو باتفاق مفسرین اس (ابو طالب) کے بارے میں ہے : اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو۔
 
* رسول اللہ {{درود}} کا نکاح بے شک آپ ہی نے پڑھایا۔ تا ہم یہ خطبہ نکاح آج کل کے خطبہ نکاح کی طرح نہ تھا اس میں نہ تو لاالہ الا اللہ کا اقرار ہوتا تھا اور نہ ہی اس میں رسول اللہ {{درود}} کی رسالت کا اقرار ہوتا تھا لہذا یہ نکاح پڑھانا آپ کے ایمان لانے کی دلیل نہیں بن سکتا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت تک رسول اللہ {{درود}} نے دعوت {{زیر}} اسلام نہیں دی تھی۔ اس لئےلیے اس وقت تک کوئی کافر نہیں کہلایا جاسکتا تھا۔ دعوت {{زیر}} اسلام کے بعد ہی اسلام اور کفر کا فرق واضح ہوا جس نے [[کلمہ]] کا اقرار کیا صرف وہ ہی مسلمان کہلائے جانے کا حقدار ہوا۔
* دوسری وجہ جو ان کی قبول اسلام کی نفی کرتی ہے یہ ہے کہ کفار مکہ نے اس وقت مسلمانوں کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا تھا مگر انہوں نے کبھی آپ کو مسلمان سمجھ کر کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔ بت پرستی کا مخالف نہیں سمجھا حالانکہ آپ کے صاحبزادے حضرت [[جعفر ابن ابی طالب|جعفر طیار]] کو ان ہی کفار نے ہجرت پر مجبور کر دیا تھا۔
* آپ کے دو صاحبزادے [[جعفر ابن ابی طالب|حضرت جعفر]] اور [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] جو [[عباس بن عبدالمطلب|حضرت عباس]] اور رسول اللہ {{درود}} کے زیر کفالت تھے {{حوالہ درکار}} ابتدا ہی میں دولت اسلام سے سرفراز ہوئے اور بقیہ دو صاحبزادے جو آپ کے ہمراہ رہا کرتے تھے ان میں [[حضرت عقیل]] [[فتح مکہ]] پر مسلمان ہوئے اور چوتھا بیٹا [[طالب ابن ابی طالب|طالب]] (جس کے نام پر آپ کی کنیت ابو طالب تھی) ‏[[غزوۂ بدر|غزوہ بدر]] میں کفر کی طرف سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ {{حوالہ درکار}} اس سے اندازہاندازا کرنا مشکل نہیں کے گھر کا ماحول کس حد تک مومنانہ تھا۔
 
== ابوطالب بن عبدالمطلب کے اشعار ==
حضرت ابوطالب شاعر تھے اور ان کے بے شمار اشعار تاریخ میں ملتے ہیں۔ ان کا ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس کا [[ابن کثیر]] نے تذکرہ و تعریف کی ہے۔ یہ سو سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے اور تمام حضور {{درود}} کی مدح و ثنا میں ہے۔ ایک شعر کا ترجمہ کچھ یوں ہے : میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں محمد ( {{درود}}) کا سچا جانثار ہوں۔ اور انہیں اللہ کا سچا رسول مانتا ہوں۔ خدا نے انہیں دنیا کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ان کا معبود ایسا ہے جو ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے غافل نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ممتاز ہے کہ ہر بلندی اس کے آگے پست ہے۔ اور اس کی حفاظت کے لیے ہم نے اپنے سینوں کو سپر بنا لیا ہے۔ خدا اس کو اپنی حمایت و حفاظت میں رکھے اور اس کے نہ مٹنے والے دین کو دنیا پر غالب کر دے۔
 
[[تاریخ ابوالفداء]] میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ ابوالفداء کے دیے ہوئے اشعار میں سے ایک کا ترجمہ یہ ہے: بخدا کفارِ قریش اپنی جماعت سمیت تم (حضرت محمد {{درود}}) تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں زمین میں دفن نہ ہوجاؤں۔ اے محمد ({{درود}}) تم کو جو خدا کا حکم ہے اس کا بے خوف اعلان کرو۔ اے محمد ({{درود}}) تم نے مجھ کو اللہ کی طرف دعوت دی ہے۔ مجھے تمہاری صداقت و امامت کا محکم یقین ہے اور تمہارا دین تمام مذاہبِ عالم سے بہتر اور ان کے مقابلے میں کامل تر ہے۔<ref>تاریخ ابوالفداء جلد اول</ref>
[[سیرت ابن ہشام]] میں بھی ان کے اشعار موجود ہیں۔ سیرت ابن ہشام میں کچھ شعر ایسے ہیں جس میں حضرت ابوطالب نے [[ابولہب]] کو متنبہ کیا ہے کہ اسے [[عرب]] کے میلوں اور محفلوں میں برا کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی کئی اشعار سیرت ابن ہشام نے نقل کیے ہیں۔<ref name="سیرت ابن ہشام" />
 
== وفات ==
آپ کی وفات کے بعد کفار مکہ نے آنحضرت {{درود}} پر مظالم کی انتہا کر دی۔ آپ کی وفات 619ء میں ہوئی۔ اسی سال [[خدیجہ بنت خویلد|حضرت خدیجہ]] علیھا السلام کی وفات بھی ہوئی۔ ان دو واقعات کی وجہ سے حضور {{درود}} نے اس سال کو [[عام الحزن]] یعنی "دکھ کا سال" قرار دیا۔
 
== اولاد ==
ان کےچار بیٹےاوردوبیٹیاں ہیں سب سے بڑے بیٹے کا نام [[طالب ابن ابی طالب]] تھا۔ باقی بیٹوں میں حضرت [[جعفر ابن ابی طالب|جعفر الطیار]]، حضرت [[عقیل ابن ابی طالب]]، اور حضرت [[علی ابن ابی طالب]] شامل تھےاورتھے دوبیٹیاںاور دو بیٹیاں امِ ہانی اور جمانۃ[[جمانہ ہیں(یادبنت رہےابی کہ شیعہ مصادر میں جمانۃ کا تذکرہ بکثرت ملتا ہے)طالب]]۔
 
=== طالب بن ابی طالب ===
{{mainاصل|طالب بن ابی طالب}}
 
ان کے بڑے بیٹے طالب کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ملتیں۔ کچھ روایات کے مطابق ان کی وفات شرک کی حالت میں جنگِ بدر میں ہوئی۔ “عباس”عباس بن عبد المطلب‘ نوفل بن حارث‘ طالب بن ابی طالب‘ عقیل بن ابی طالب اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ (بدر) روانہ ہوگئے“<ref>تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی،الانفال،5</ref><ref>تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی،الانفال،7</ref>۔ <br />
[[تاریخ خمیس]] میں [[علامہ دیار بکری]] نے لکھا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے زبردستی طالب کو جنگ کے لیے گھسیٹا جبکہ وہ جانا نہیں چاہتے تھے۔<ref>تاریخ خمیس از علامہ دیار بکری</ref>۔ علامہ [[مسعودی]] نے لکھا ہے کہ کفارِ قریش نے طالب کو زبردستی جنگ کے میدان کی طرف لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ دوران میں سفر غائب ہو گئے پھر ان کی کوئی خبر نہ ملی مگر ان کے اس موقع پر اشعار علامہ مسعودی نے نقل کیے ہیں جن کا ترجمہ ہے: اے پروردگار یہ لوگ زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ تو ان کو شکست دے اور اس درجہ کمزور کر دے کہ یہ خود لوٹ لیے جائیں اور کسی کو لوٹ نہ سکیں۔<ref>مروج الذہب از علامہ مسعودی بر حاشیہ کامل ابن اثیر جلد ۵5 صفحہ ۱۷۶176</ref>
 
=== عقیل ابن ابی طالب ===
{{mainMain|عقیل ابن ابی طالب}}
آپ [[کربلا]] کے واقعے سے پہلے [[کوفہ]] میں شہید ہونے والے حضرت [[مسلم ابن عقیل]] کے والد تھے۔
عقیل بن ابی طالب (عربی زبان: عقيل بن أبي طالب) 590 میں پیدا ہوئے۔حضرتہوئے۔ عقیل ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔عقیل ابو طالب کےچار بیٹوں میں سے دوسرے بیٹے ہیں۔ عقیل کی کنیہ ابو عقیل ہے۔ آغاز اسلام کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ سن پیدائش 590ء ملتا ہے۔ غزوہ موتہ میں شرکت فرمائی جس کے بعد نابینا ہو گئے۔ 96 سال کی عمر پائی۔ آپ کے کئی بیٹے تھے جن میں سے حضرت مسلم ابن عقیل سفیرِ حسین کے نام سے مشہور ہوئے اور کربلا کے واقعہ سے کچھ عرصہ قبل انہیں یزید کے گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے شہیدقتل کر دیا۔ آپ نے 96 سال کی عمر میں شہادتوفات پائی.پائی۔
 
=== جعفر ابن ابی طالب (جعفر طیار) ===
{{mainاصل|جعفر طیار}}
 
آپ صحابیٔ رسول تھے اور ایک حدیث کے مطابق انہیں جنت میں پر ملیں گے کیونکہ ان کے ہاتھ ایک جنگ میں کاٹے گئے تھے اسی لیے آپ جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں۔
 
=== علی ابن ابی طالب ===
{{mainاصل|علی ابن ابی طالب}}
 
حضرت علی ابن ابی طالب اولین مسلمانوں میں شامل ہیں۔ حضور {{درود}} کے داماد، دینی بھائی اور خلیفہ تھے۔ اہل سنت و اہل حدیث کے مطابق چوتھے خلیفہ اور اہل تشیع کے مطابق پہلے امام تھے۔ تمام غزوات میں حضرت علی نے سب سے زیادہ کفار و مشرکین کو تہہ تیغ کیا۔
 
== حوالہ جات ==