"سیارچہ شکن ہتھیار" کے نسخوں کے درمیان فرق

م (روبالہ جمع: pl:Broń antysatelitarna)
تیسرا طریقہ لیزر شعاووں کے ذریعے سیارچوں کو تباہ کرنا ہے جس پر آج کل [[چین]] سمیت کئی ممالک کام کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی معاہدوں کو بالائے طاق رکھ کر امریکہ نے پھر خلا ہی سے خلا میں مار کرنے والے میزائیلوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ [[زیریں سرخ شعائیں]] استعمال کر کے بھی سیارچوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
 
== چین کا حالیہ تجربہ ==
11 جنوری 2007 کو چین نے ایک بیلیسٹک میزائیل استعمال کر کے اپنے ایک موسمی سیارہ کو تباہ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ سیارچہ 865 کلومیٹر کی بلندی پر تھا۔ اس پر [[امریکہ]] اور [[یورپی یونین]] نے بہت شور مچایا مگر [[چین]] کی وزارت خارجہ کے مطابق چین کو ہر وہ اختیار حاصل ہے جسے مغربی دنیا اپنے لیے جائز سمجھتی ہے۔ امریکہ کے بعض ماہرین کے مطابق چین نے [[لیزر شعاع]] کی مدد سے امریکی جاسوسی سیاروں کو اندھا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
 
8,794

ترامیم