"وفاقی شرعی عدالت پاکستان" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(نیا صفحہ: {{پاکستان کی سیاست}} '''وفاقی شرعی عدالت پاکستان''' 8 (آٹھ) مسلمان منصفین پر مشتمل ہوتی ہے جس میں [[منصف اع...)
 
م
{{متنازع}}
{{پاکستان کی سیاست}}
'''وفاقی شرعی عدالت پاکستان''' 8 (آٹھ) مسلمان منصفین پر مشتمل ہوتی ہے جس میں [[منصف اعظم]] (Chief Justice) بھی شامل ہیں۔ یہ تمام منصفین [[صدر پاکستان]] کی منظوری سے تعینات کیے جاتے ہیں جو کہ [[پاکستان کی عدالت عظمٰی]] یا کسی بھی [[صوبائی عدالت عالیہ]] کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس منصفین میں سے منتخب کیے جانے ضروری ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت کے موجودہ منصف اعظم جناب جسٹس [[آغا رفیق احمد خان]] ہیں۔<br />
وفاقی شرعی عدالت [[پاکستان]] اپنے طور پر، کسی بھی [[شہری]] یا [[حکومت پاکستان]] (وفاقی و صوبائی) کی درخواست پر کسی بھی قانون کو جانچنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ دائرہ اختیار اس نکتہ کی وضاحت کے لیے میسر ہے کہ کوئی بھی زیر غور یا لاگو قانون،[[شریعت اسلامی]] کے منافی تو نہیں ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف درخواست [[پاکستان کی عدالت عظمٰی]] کے ا پلیٹ بینچ کے دفتر میں دائر کی جا سکتی ہے۔ یہ بینچ 3 مسلمان منصفین پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ عدالت عظمٰی کے حاضر سروس منصفین ہوتے ہیں اور ان 3 منصفین میں سے 2 کا اسلامی علوم و شریعت کا عالم ہونا لازمی ہے۔ ان مصنفین کی تعیناتی بھی [[صدر پاکستان]] کی منظوری سے کی جاتی ہے۔ اگر کوئی بھی لاگو یا زیر غور قانون شریعت اسلامی کے منافی قرار پایا جائے تو [[حکومت پاکستان]] پر لازم ہے کہ اس قانون میں مناسب تبدیلی [[مجلس شوریٰ]] کے دونوں ایوانوں (بالا اور زیریں) سے [[اسلامی شریعت]] کے عین مطابق منظور کروائے اور انتظامیہ ترمیم شدہ اسلامی شریعت کے عین مطابق قانون کو لاگو کرنے کی پابند ہو گی۔<br />
اس عدالت کے دائرہ اختیار میں فوجداری مقدمات کی سماعت بھی شامل ہے جو کہ حدود کے زمرے میں آتے ہوں۔ اس عدالت کا فیصلہ کسی بھی [[صوبائی عدالت عالیہ]] کے فیصلے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ حدود سے متعلق کسی بھی مقدمے کی سماعت و پیروی کے لیے یہ عدالت اپنے ملازمین متعین کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔<br />
[[1980ء]] میں جب یہ عدالت قائم کی گئی تھی، تب سے یہ عدالت کئی بار تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے، اور کئی مواقع پر متنازع بھی رہی ہے۔ اس وقت کی [[فوجی حکومت]] میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے دعویٰ میں یہ عدالت[[ آٹھویں ترمیم]] کے ذریعہ قائم کی گئی تھی ۔ مخالفین کے مطابق یہ عدالت متوازی طور پر قائم کیا گیا ایک ادارہ ہے جو کہ مملکت پاکستان کی اعلٰی عدالتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو کر کئی پیچیدگیوں کا سبب بنتیبنتا ہے، یہاں تک کہ یہ عدالت [[پارلیمان]] کی خودمختاری پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتیرکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس عدالت میں مصنفین کی تعیناتی کا طریقہ کار اور مصنفین کی مدت ملازمت بھی اکثر مخالفانہ بحث کا مرکز رہی ہے۔ تنقید کاروں کے مطابق اس عدالت کی بنیاد اور طریقہ تعیناتی کسی بھی صورت میں آزاد عدلیہ کی نشانی نہیں ہے اور اس عدالت کے تحت ہونے والے فیصلوں پر وفاق کے کلیدی عہدیدار اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ <br />
ماضی میں یہ عدالت وفاق کے لیے عدالت عظمٰی میں ناپسندیدہ منصفین کو بہلانے کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی فیصلے جو اس عدالت کے زیر اہتمام کیے گئے، [[اسلامی مساوات]]، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے لحاظ سے اہم تھے ابھی تک تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں کئی مقدمات کے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔ فوجی حکومت میں تشکیل دی جانے والی یہ عدالت بلاشبہ کئی طرح سے متنازعہ رخ اختیار کر چکی ہے۔ <br />
اس بات سے قطع نظر کہ اس عدالت پر کئی اعتراضات کیے گئے، اگر اس کے بنیادی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی جائیں تو بلاشبہ یہ اسلامی قوانین کی پاسداری کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس طور کئی زاویوں سے عدالت کے دائرہ اختیار اور تعیناتی کے عمل کو جانچے جانے کی گنجائش موجود ہے۔<br />
* [http://www.washtimes.com/op-ed/20060802-095409-1513r.htm پاکستانی عورتوں کی جیت - [[واشنگٹن ٹائمز]] کا [[اداریہ]]]
 
 
{{متنازع}}
[[زمرہ:پاکستان کا عدالتی نظام]]
[[زمرہ:شریعت]]
1,277

ترامیم