"اردشیر اول" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
425ق م
 
'''اردشیر اول''' یا '''اردشیر دراز دست''' یا '''ارتخششتا اول''' ({{lang-fa| اردشیر یکم}}, {{lang-peo|{{OldPers|A|12}}{{OldPers|RA|12}}{{OldPers|TA|12}}{{OldPers|XA|12}}{{OldPers|SHA|12}}{{OldPers|SSA|12}}}} {{transl|peo|''Artaxšaça'' / ارتخشتره}},<ref>{{cite book|last=Ghias Abadi|first=R. M.|title=Achaemenid Inscriptions (کتیبه‌های هخامنشی)&lrm;|edition=2nd|publisher=Shiraz Navid Publications|year=2004|location=Tehran|isbn=964-358-015-6|pages=129|language=Persian}}</ref>) [[ہخامنشی سلطنت]] کا شہنشاہ اور بہمن[[خشیارشا کاچھوٹااول]] کا تیسرا بیٹا جو اپنے باپ اور بڑے بھائی دارا کے قتل کے بعد [[ایران]] کے تخت پر بیٹھا۔ اس کا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے بڑا تھا۔ ابتدا میں ارتانیس کے زیر اثر رہا۔ جب ارتانیس اردشیر کو قتل کرنے کی سازش میں مارا گیا تو ایک اور امیر باگ تھکشا نامی کے زیراثر آیا۔ اس کے عہد میں سلطنت میں بغاوتیں ہوتی رہیں۔
[[کتاب عزرا]] کے مطابق یہ شاہ [[ایران]] کا نام تھا اس کے دور حکومت میں بہت سے [[یہودی]] قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ [[عزرا]] اُن 5000 افراد رہا شدہ افراد کی قیادت پر مامور تھے۔<ref>قاموس الکتاب صفحہ 643</ref>
== حوالہ جات ==