"اردشیر اول" کے نسخوں کے درمیان فرق

296 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
م
 
==حالاتِ زندگی==
ارتاکزرسس یا ارتخشتر یا اردشیر اول (دراز دست) (465 تا 424 قبل از مسیح) : خشیارشا اول کے قتل کے بعد ارتخشتر اول یا ارد شیر دراز دست تخت نشین ہوا۔ مگر تقریباً ایک سال تک وہ آزادانہ حکومت نہ کرسکا۔ اس کے باپ کا قاتل اردوان اس پر حاوی تھا۔ آخر کچھ کشاکش کے بعد بادشاہ کے ایک معتمد مغابیز (Megabyrus )یا بالغابش نے اسے قتل کرکے بادشاہ کو رہائی دلائی۔ اس واقع کے دو سال بعد 462قبل مسیح میں اردشیرکے بھائی ہستاسب Hystaspes نے باخترمیں بغاوت کردی۔ اردشیرخود گیا اور دو جنگوں میں اسے مغلوب کر کے ملک کے اندر امن قائم کیا۔اردشیر کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ یونانیوں سے متعلق ہے۔
مگر تقریباً ایک سال تک وہ آزادانہ حکومت نہ کرسکا۔ اس کے باپ کا قاتل اردوان اس پر حاوی تھا۔ آخر کچھ کشاکش کے بعد بادشاہ کے ایک معتمد مغابیز (Megabyrus )یا بالغابش نے اسے قتل کرکے بادشاہ کو رہائی دلائی۔ اس واقع کے دو سال بعد 462قبل مسیح میں اردشیرکے بھائی ہستاسب Hystaspes نے باخترمیں بغاوت کردی۔ اردشیرخود گیا اور دو جنگوں میں اسے مغلوب کر کے ملک کے اندر امن قائم کیا۔اردشیر کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ یونانیوں سے متعلق ہے۔
خشیارشا اول کے عہد میں ایرانیوں نے یونانیوں سے شکست کھائی تھی، اس شکست سے جہاں ہونانی جزائر و مقبوضات ایرانی حکومت کے قبضہ سے نکل گئے وہاں ان کی گرفت مصر پر بھی ڈھیلی پڑی ۔ 461 ق م میں لیبیا کے سابق شاہی خاندان کے ایک فرد ایناروس Inarus بن سامتق دوم نے یونانیوں کی مدد سے ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت کردی۔ یونانی بیڑوں نے مصر کی حمایت میں کئی مقام پر ایرانیوں سے جنگ کی اور ان کوو شکست دی۔ پپریمہ Papremis کی جنگ میں مصر کا ایرانی حاکم ہخامنش قتل ہوا۔ اس کے بعد باغیوں نے ممفیہ کا محاصرہ کردیا۔ اردشیرنے بغابیش Bagabish کو تین لاکھ فوج کے ساتھ اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے مصر بھیجا۔ اس نے آتے ہی باغیوں کو شکست فاش دی ، ایناروس کو گرفتار یوا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ سوسہ بھجوادیا۔(456 قبل مسیح )
اس کامیابی کے بعد ایرانی فوج نے یونانیوں کے خلاف کاروائی شروع کی۔ اس وقت یونان اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا تھا، یونان کی دو بڑی طاقتیں ایتھنزاور اسپارٹاایک دوسرے سے برسر پیکار تھیں۔ ایسی حالت میں یونانیوں نے مصالحت کرلینی مناسب سمجھی ۔ جس کے تحت دونوں حکومتوں کے درمیان 449 قبل مسیح میں صلحی ہوگئی۔ اتحاد دلس کے میمبروں کی آزادی تسلیم کرلی گئی۔ نیز قبرض پر ایران کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔اردشیرنے 424 ق م میں وفات پائی اور نققش رستم میں دفن ہوا۔ س کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بہت حسین، باوقار اور رحمدل بادشاہ تھا۔ وہ یہودیوں پر بہت مہربان تھا اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔ (اسٹوری آف سولائزیشن (تہذیب کی کہانی)، از: ول ڈیوررنٹ؛ لائف فرام دی اینشنٹ پاسٹ، از: جیک فِنگن؛ ایران قدیم، از: حسن پیرینیا ۔۔بحوالہ: قدیم مشرق از ڈاکٹر معین الدین <ref> [[قدیم مشرق ]] |۔ از: [[ڈاکٹرمعین الدین]]۔ جلد دوم۔ صفحہ 53 تا57 </ref>)۔
 
== حوالہ جات ==