"اردشیر اول" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,179 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
م
ارتخشتر یا اردشیر اول کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بہت حسین، باوقار اور رحمدل بادشاہ تھا۔ مصر کے پہلے آبشار کے نزدیک الفنطین (elephantine)کے مقام پر پیپری (Papyrus) دستیاب ہوئے ہیں جو الفنطین پیپری کے نام سے مشہور ہیں۔ ان میں دوسری باتوں کے علاوہ اردشیر کی مذہبی پالیسیوں کے متعلق بھی کچھ حالات ہیں ان کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ یہودیوں پر بہت مہربان تھا اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔یہودیوں کی مذہبی روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان کی روایات میں ہے کہ اردشیر ایک یہود[[ نحمیاہ]] کو بہت مانتا تھا۔ وہی اس کا ساقی تھا۔ اس کے عہد میں فلسطین کے چند حکام نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ یہود ہمیشہ شورش پسند رہے اور آشوریوں اور کلدانیوں کے زمانے میں برابر بغاوت کرتے رہے۔ بادشاہ سے اس مضمون کا فرمان صادر کروایا کہ یہود کی مذہبی عمارات کی تعمیر روک دی جائے۔ چنانچہ اس کے فرمان پر فوری عمل کیا گیا اور تعمیر روک دی گئی۔ ایسی حالت میں نحمیاہ نے مرکزی حکام کو ملاکر اپنے دعوے کو پیش کیا کہ تعمیر کی اجازت خورس اعظم و دارا اول نے دی تھی۔ اس لیے اُن کے حکم کا لحاظ رکھا جائے۔ چنانچہ اس کی تعمیر کی اجازت دے دی گئی۔ یہودی روایات کے مطابق حضرت عزیر (Ezra) اسی بادشاہ کی حکومت کے ساتویں سال بابل سے یروشلم واپس آئے۔ <ref> [[قدیم مشرق ]] |۔ از: [[ڈاکٹرمعین الدین]]۔ جلد دوم۔ صفحہ 53 تا57 </ref>
 
===بائبل میں تذکرہ ===
کتاب مقدس میں کتاب عزا کے ساتویں باب میں ارتخشتا یعنی اردشیر اول کا تذکرہ ملتا ہے۔
"اِن باتوں کے بعد شاہِ فارس اَرت اَحَش اَستا (ارتخشتا) کی سلطنت میں عزرا بِن سِرا یاہ بِن عزر یاہ بِن حلقی یاہ۔ بِن شلُوم بِن صادُو ق بِن اخِی طُو ب۔ بِن امر یاہ بِن عزریا ہ بِن مِرایو ت۔ بِن زرح یا ہ بِن عُزّی بِن بُقّی۔ بِن ابِی شو ع بِن فِینحا س بِن الِی عازار بِن ہارُو ن کاہِن اول۔ یِہی عزرا بابل سے یروشلم کو گیا اور وہ مُوسیٰ کی شرِیعت میں جو خُداوند خدا نے اِسرائیل کو دی ماہِرفقِیہ تھا۔ تو جو کچھ اس نے مانگا، بادشاہ نے اس کو دیا۔ بمطابق خُداوند کے ہاتھ کے جو اس پر تھا۔ اور اَرت اَحَش اَستا بادشاہ کے ساتویں برس میں بنی اِسرائیل اور کاہِنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اورنتینیوں میں سے کتنے لوگ اس کے ساتھ گئے۔ تو اور بادشاہ کے ساتویں سال کے پانچویں مہِینے میں وپ یروشلیِم میں پُہنچا۔ کیونکہ پہلے مہِینے کے پہلے دن کو وہ بابل سے روانہ ہوا اور پانچویں مہِینے کے پہلے دن کو وہ یروشلیِم میں آ پُہنچا ۔ بمطابق خدا کے نیک ہاتھ کے جو اس پر تھا۔ کیونکہ عزرا نے اپنے دل کو خُداوند کی شرِیعت کی تلاش کے لیے تیار کیا تھا۔ تاکہ اُس پر عمل کرے اور اِسرائیل میں قوانین اور احکام کی تعلِیم دے۔" <ref> [[کلام مقدس ]] ، کتاب [[عزا]] ۔ باب 7، اردو ترجمہ بمطابق سوسائٹی آف سینٹ پال روما، 1958ء ایڈیشن۔ لاہور</ref>۔
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}