"اردشیر اول" کے نسخوں کے درمیان فرق

285 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
[[ملف:Artaxerxes I of Persia.JPG|تصغیر|اردشیراول]]
 
'''اردشیر اول''' یا '''اردشیر دراز دست''' یا '''ارتخششتا اول''' ({{lang-fa| اردشیر یکم}},، {{lang-peo|{{OldPers|A|12}}{{OldPers|RA|12}}{{OldPers|TA|12}}{{OldPers|XA|12}}{{OldPers|SHA|12}}{{OldPers|SSA|12}}}} {{transl|peo|''Artaxšaça'' / ارتخشتره}},،<ref>{{cite book|last=Ghias Abadi|first=R. M.|title=Achaemenid Inscriptions (کتیبه‌های هخامنشی)&lrm;|edition=2nd|publisher=Shiraz Navid Publications|year=2004|location=Tehran|isbn=964-358-015-6|pages=129|language=Persian}}</ref>) [[ہخامنشی سلطنت]] کا شہنشاہ اور [[خشیارشا اول]] کا تیسرا بیٹا جو اپنے باپ اور بڑے بھائی دارا کے قتل کے بعد [[ایران]] کے تخت پر بیٹھا۔ اس کا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے بڑا تھا۔ ابتدا میں ارتانیس کے زیر اثر رہا۔ جب ارتانیس اردشیر کو قتل کرنے کی سازش میں مارا گیا تو ایک اور امیر باگ تھکشا نامی کے زیراثر آیا۔ اس کے عہد میں سلطنت میں بغاوتیں ہوتی رہیں۔
465ق م،
 
425ق م
 
'''اردشیر اول''' یا '''اردشیر دراز دست''' یا '''ارتخششتا اول''' ({{lang-fa| اردشیر یکم}}, {{lang-peo|{{OldPers|A|12}}{{OldPers|RA|12}}{{OldPers|TA|12}}{{OldPers|XA|12}}{{OldPers|SHA|12}}{{OldPers|SSA|12}}}} {{transl|peo|''Artaxšaça'' / ارتخشتره}},<ref>{{cite book|last=Ghias Abadi|first=R. M.|title=Achaemenid Inscriptions (کتیبه‌های هخامنشی)&lrm;|edition=2nd|publisher=Shiraz Navid Publications|year=2004|location=Tehran|isbn=964-358-015-6|pages=129|language=Persian}}</ref>) [[ہخامنشی سلطنت]] کا شہنشاہ اور [[خشیارشا اول]] کا تیسرا بیٹا جو اپنے باپ اور بڑے بھائی دارا کے قتل کے بعد [[ایران]] کے تخت پر بیٹھا۔ اس کا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے بڑا تھا۔ ابتدا میں ارتانیس کے زیر اثر رہا۔ جب ارتانیس اردشیر کو قتل کرنے کی سازش میں مارا گیا تو ایک اور امیر باگ تھکشا نامی کے زیراثر آیا۔ اس کے عہد میں سلطنت میں بغاوتیں ہوتی رہیں۔
[[کتاب عزرا]] کے مطابق یہ شاہ [[ایران]] کا نام تھا اس کے دور حکومت میں بہت سے [[یہودی]] قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ [[عزرا]] اُن 5000 افراد رہا شدہ افراد کی قیادت پر مامور تھے۔<ref>قاموس الکتاب صفحہ 643</ref>
 
== حالاتِ زندگی ==
ارتاکزرسس یا ارتخشتر یا اردشیر اول (دراز دست) (465 تا 424 قبل از مسیح) : خشیارشا اول کے قتل کے بعد ارتخشتر اول یا ارد شیر دراز دست تخت نشین ہوا۔ مگر تقریباً ایک سال تک وہ آزادانہ حکومت نہ کرسکا۔ اس کے باپ کا قاتل اردوان اس پر حاوی تھا۔ آخر کچھ کشاکش کے بعد بادشاہ کے ایک معتمد مغابیز (Megabyrus )یا بالغابش نے اسے قتل کرکے بادشاہ کو رہائی دلائی۔ اس واقع کے دو سال بعد 462قبل مسیح میں اردشیرکے بھائی ہستاسب Hystaspes نے باخترمیں بغاوت کردی۔ اردشیرخود گیا اور دو جنگوں میں اسے مغلوب کر کے ملک کے اندر امن قائم کیا۔اردشیر کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ یونانیوں سے متعلق ہے۔
خشیارشا اول کے عہد میں ایرانیوں نے یونانیوں سے شکست کھائی تھی، اس شکست سے جہاں ہونانی جزائر و مقبوضات ایرانی حکومت کے قبضہ سے نکل گئے وہاں ان کی گرفت مصر پر بھی ڈھیلی پڑی ۔ 461 ق م میں لیبیا کے سابق شاہی خاندان کے ایک فرد ایناروس Inarus بن سامتق دوم نے یونانیوں کی مدد سے ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت کردی۔ یونانی بیڑوں نے مصر کی حمایت میں کئی مقام پر ایرانیوں سے جنگ کی اور ان کوو شکست دی۔ پپریمہ Papremis کی جنگ میں مصر کا ایرانی حاکم ہخامنش قتل ہوا۔ اس کے بعد باغیوں نے ممفیہ کا محاصرہ کردیا۔ اردشیرنے بغابیش Bagabish کو تین لاکھ فوج کے ساتھ اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے مصر بھیجا۔ اس نے آتے ہی باغیوں کو شکست فاش دی ، ایناروس کو گرفتار یوا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ سوسہ بھجوادیا۔(456 قبل مسیح )
اس کامیابی کے بعد ایرانی فوج نے یونانیوں کے خلاف کاروائیکارروائی شروع کی۔ اس وقت یونان اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا تھا، یونان کی دو بڑی طاقتیں ایتھنزاور اسپارٹاایک دوسرے سے برسر پیکار تھیں۔ ایسی حالت میں یونانیوں نے مصالحت کرلینی مناسب سمجھی ۔ جس کے تحت دونوں حکومتوں کے درمیان میں 449 قبل مسیح میں صلحی ہوگئی۔ اتحاد دلس کے میمبروں کی آزادی تسلیم کرلی گئی۔ نیز قبرض پر ایران کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔اردشیرنے 424 ق م میں وفات پائی اور نققش رستم میں دفن ہوا۔ س کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بہت حسین، باوقار اور رحمدل بادشاہ تھا۔ وہ یہودیوں پر بہت مہربان تھا اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔ (<ref>اسٹوری آف سولائزیشن (تہذیب کی کہانی)، از: ول ڈیوررنٹ؛ لائف فرام دی اینشنٹ پاسٹ، از: جیک فِنگن؛ ایران قدیم، از: حسن پیرینیا ۔۔بحوالہ: قدیم مشرق از ڈاکٹر معین الدین <ref> [[قدیم مشرق ]] |۔ از: [[ڈاکٹرمعین الدین]]۔ جلد دوم۔ صفحہ 53 تا57 </ref>
 
=== یہود سے تعلقات ===
ارتخشتر یا اردشیر اول کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بہت حسین، باوقار اور رحمدل بادشاہ تھا۔ مصر کے پہلے آبشار کے نزدیک الفنطین (elephantine)کے مقام پر پیپری (Papyrus) دستیاب ہوئے ہیں جو الفنطین پیپری کے نام سے مشہور ہیں۔ ان میں دوسری باتوں کے علاوہ اردشیر کی مذہبی پالیسیوں کے متعلق بھی کچھ حالات ہیں ان کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ یہودیوں پر بہت مہربان تھا اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔یہودیوں کی مذہبی روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان کی روایات میں ہے کہ اردشیر ایک یہود[[ نحمیاہ]] کو بہت مانتا تھا۔ وہی اس کا ساقی تھا۔ اس کے عہد میں فلسطین کے چند حکام نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ یہود ہمیشہ شورش پسند رہے اور آشوریوں اور کلدانیوں کے زمانے میں برابر بغاوت کرتے رہے۔ بادشاہ سے اس مضمون کا فرمان صادر کروایا کہ یہود کی مذہبی عمارات کی تعمیر روک دی جائے۔ چنانچہ اس کے فرمان پر فوری عمل کیا گیا اور تعمیر روک دی گئی۔ ایسی حالت میں نحمیاہ نے مرکزی حکام کو ملاکر اپنے دعوے کو پیش کیا کہ تعمیر کی اجازت خورس اعظم و دارا اول نے دی تھی۔ اس لیے اُن کے حکم کا لحاظ رکھا جائے۔ چنانچہ اس کی تعمیر کی اجازت دے دی گئی۔ یہودی روایات کے مطابق حضرت [[عزیر علیہ السلامعزرا]] (Ezra) اسی بادشاہ کی حکومت کے ساتویں سال بابل سے یروشلم واپس آئے۔ <ref> [[قدیم مشرق ]] |۔مشرق۔ از: [[ڈاکٹرمعین الدین]]۔الدین۔ جلد دوم۔ صفحہ 53 تا57 </ref>
 
=== بائبل میں تذکرہ ===
کتاب مقدس میں [[کتاب عزرا]] کے ساتویں باب میں ارتخشتا یعنی اردشیر اول کا تذکرہ ملتا ہے۔
{{اقتباس|'''اِن باتوں کے بعد شاہِ فارس اَرت اَحَش اَستا (ارتخشتا) کی سلطنت میں عزرا بِن سِرا یاہ بِن عزر یاہ بِن حلقی یاہ۔ بِن شلُوم بِن صادُو ق بِن اخِی طُو ب۔ بِن امر یاہ بِن عزریا ہ بِن مِرایو ت۔ بِن زرح یا ہ بِن عُزّی بِن بُقّی۔ بِن ابِی شو ع بِن فِینحا س بِن الِی عازار بِن ہارُو ن کاہِن اول۔ یِہی عزرا بابل سے یروشلم کو گیا اور وہ مُوسیٰ کی شرِیعت میں جو خُداوند خدا نے اِسرائیل کو دی ماہِرفقِیہ تھا۔ تو جو کچھ اس نے مانگا، بادشاہ نے اس کو دیا۔ بمطابق خُداوند کے ہاتھ کے جو اس پر تھا۔ اور اَرت اَحَش اَستا بادشاہ کے ساتویں برس میں بنی اِسرائیل اور کاہِنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اورنتینیوں میں سے کتنے لوگ اس کے ساتھ گئے۔ تو اور بادشاہ کے ساتویں سال کے پانچویں مہِینے میں وپ یروشلیِم میں پُہنچا۔ کیونکہ پہلے مہِینے کے پہلے دن کو وہ بابل سے روانہ ہوا اور پانچویں مہِینے کے پہلے دن کو وہ یروشلیِم میں آ پُہنچا ۔ بمطابق خدا کے نیک ہاتھ کے جو اس پر تھا۔ کیونکہ عزرا نے اپنے دل کو خُداوند کی شرِیعت کی تلاش کے لیے تیار کیا تھا۔ تاکہ اُس پر عمل کرے اور اِسرائیل میں قوانین اور احکام کی تعلِیم دے۔''' <ref> [[کلام مقدس ]] ، [[کتاب عزرا]] ۔ باب 7، اردو ترجمہ بمطابق سوسائٹی آف سینٹ پال روما، 1958ء ایڈیشن۔ لاہور</ref>}}
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
 
{{CommonscatCommons category|Artaxerxes I}}
 
[[زمرہ:مصری ہخامنشی سلطنت کے فراعنہ]]