"اردشیر اول" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
بائبلی نقطہ نظر
م (بائبلی نقطہ نظر)
کتاب مقدس میں [[کتاب عزرا]] کے ساتویں باب میں ارتخشتا یعنی اردشیر اول کا تذکرہ ملتا ہے۔
{{اقتباس|'''اِن باتوں کے بعد شاہِ فارس اَرت اَحَش اَستا (ارتخشتا) کی سلطنت میں عزرا بِن سِرا یاہ بِن عزر یاہ بِن حلقی یاہ۔ بِن شلُوم بِن صادُو ق بِن اخِی طُو ب۔ بِن امر یاہ بِن عزریا ہ بِن مِرایو ت۔ بِن زرح یا ہ بِن عُزّی بِن بُقّی۔ بِن ابِی شو ع بِن فِینحا س بِن الِی عازار بِن ہارُو ن کاہِن اول۔ یِہی عزرا بابل سے یروشلم کو گیا اور وہ مُوسیٰ کی شرِیعت میں جو خُداوند خدا نے اِسرائیل کو دی ماہِرفقِیہ تھا۔ تو جو کچھ اس نے مانگا، بادشاہ نے اس کو دیا۔ بمطابق خُداوند کے ہاتھ کے جو اس پر تھا۔ اور اَرت اَحَش اَستا بادشاہ کے ساتویں برس میں بنی اِسرائیل اور کاہِنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اورنتینیوں میں سے کتنے لوگ اس کے ساتھ گئے۔ تو اور بادشاہ کے ساتویں سال کے پانچویں مہِینے میں وپ یروشلیِم میں پُہنچا۔ کیونکہ پہلے مہِینے کے پہلے دن کو وہ بابل سے روانہ ہوا اور پانچویں مہِینے کے پہلے دن کو وہ یروشلیِم میں آ پُہنچا ۔ بمطابق خدا کے نیک ہاتھ کے جو اس پر تھا۔ کیونکہ عزرا نے اپنے دل کو خُداوند کی شرِیعت کی تلاش کے لیے تیار کیا تھا۔ تاکہ اُس پر عمل کرے اور اِسرائیل میں قوانین اور احکام کی تعلِیم دے۔''' <ref>کلام مقدس ، [[کتاب عزرا]] ۔ باب 7، اردو ترجمہ بمطابق سوسائٹی آف سینٹ پال روما، 1958ء ایڈیشن۔ لاہور</ref>}}
458 قبل مسیح میں عزیر[[عزرا]] علیہ السلام کو یروشلم کے حالات کا علم ہوا تو آپ نے شاہِ فارس ارتخششتا اردشیر میمون سے یروشلم جانے کی اجازر چاہی بادشاہ نے بخوشی اجازر دی اور ساتھ ہی ایک فرمان لکھ کر دیا ، جو [[کتاب عزرا]] ، باب 7 : 12 تا 26 میں ہے۔ <ref> تاریخ انبیاء اور اقوام عالم، از سیدہ انواز زہرا زیدی، ادارہ زین المفکرین ۔ سال ایڈیشن2005، جلد اول ، صفحہ 410۔ </ref>۔ بادشاہ کا فرمان یوں ہے۔
{{اقتباس|'''ارتخششتا بادشاہ کی دستاویز جو اُس نے عزرا کو دی اور عزرا کاہِن اور فقِیہ یعنی خُداوند کے اِسرائیل کو دِئے ہُوئے احکام اور آئِین کی باتوں کے فقِیہ کوجو خط ارتخششتا بادشاہ نے عِنایت کِیا اُس کی نقل یہ ہے۔ ارتخششتا شاہنشاہ کے طرف سے عزرا کاہِن یعنی آسمان کے خُدا کی شرِیعت کے فقِیہِ کامِل وغیرہ وغیرہ کو۔ مَیں یہ فرمان جاری کرتا ہُوں کہ اِسرائیل کے جولوگ اور اُن کے کاہِن اور لاوی میری مملکت میں ہیں اُن میں سے جِتنے اپنی خُوشی سے یروشلیِم کو جانا چاہتے ہیں تیرے ساتھ جائیں۔ چُونکہ تُو بادشاہ اور اُس کے ساتوں مُشِیروں کی طرف سے بھیجا جاتا ہے تاکہ اپنے خُدا کی شرِیعت کے مُطابِق جو تیرے ہاتھ میں ہے یہُودا ہ اور یروشلیِم کا حال دریافت کرے۔ اور جو چاندی اور سونا بادشاہ اور اُس کے مُشِیروں نے اِسرائیل کے خُدا کو جِس کا مسکن یروشلیِم میں ہے اپنی خُوشی سے نذر کِیا ہے لے جائے۔ اور جِس قدر چاندی سونا بابل کے سارے صُوبہ سے تُجھے مِلے گا اور جو خُوشی کے ہدئےلوگ اور کاہِن اپنے خُداکے گھر کے لِئے جو یروشلیِم میں ہے اپنی خُوشی سے دیں اُن کو لے جائے۔ اِس لِئے اُس رُوپے سے بَیل اور مینڈھے اور حلوان اوراُن کی نذر کی قُربانیاں اور اُن کے تپاون کی چِیزیں تُوبڑی کوشِش سے خرِیدنا اور اُن کو اپنے خُدا کے گھر کے مذبح پر جو یروشلیِم میں ہے چڑھانا۔اور تُجھے اور تیرے بھائِیوں کو باقی چاندی سونے کے ساتھ جو کُچھ کرنا مُناسِب معلُوم ہو وُہی اپنے خُداکی مرضی کے مُطابِق کرنا۔ اور جو برتن تُجھے تیرے خُدا کے گھر کی عِبادت کے لِئے سونپے جاتے ہیں اُن کو یروشلیِم کے خُدا کے حضُور دے دینا۔ اور جو کُچھ اَور تیرے خُدا کے گھر کے لِئے ضرُوری ہو جو تُجھے دینا پڑے اُسے شاہی خزانہ سے دینا۔ اور مَیں ارتخششتا بادشاہ خود دریا پار کے سب خزانچیوں کو حُکم کرتا ہُوں کہ جو کُچھ عزرا کاہِن آسمان کے خُدا کی شرِیعت کا فقِیہ تُم سے چاہے وہ بِلاتوقُّف کِیا جائے۔ یعنی سَو قِنطار چاندی اور سَو کُر گیہُوں اور سَوبَت مَے اور سَو بَت تیل تک اور نمک بے اندازہ۔ جو کُچھ آسمان کے خُدا نے حُکم کِیا ہے سو ٹِھیک وَیسا ہی آسمان کے خُدا کے گھر کے لِئے کِیا جائے کیونکہ بادشاہ اور شاہزادوں کی مملکت پر غضب کیوں بھڑکے؟۔ اور تُم کو ہم
آگاہ کرتے ہیں کہ کاہِنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتنیِم اور خُدا کے اِس گھر کے خادِموں میں سے کِسی پر خِراج چُنگی یا محصُول لگانا جائِز نہ ہو گا۔ اور اَے عزرا تُو اپنے خُدا کی اُس دانِش کے مُطابِق جو تُجھ کو عِنایت ہُوئی حاکِموں اور قاضِیوں کو مُقرّرکر تاکہ دریا پار کے سب لوگوں کا جو تیرے خُدا کی شرِیعت کو جانتے ہیں اِنصاف کریں اور تُم اُس کو جو نہ جانتا ہو سِکھاؤ۔ اور جو کوئی تیرے خُدا کی شرِیعت پر اور بادشاہ کے فرمان پر عمل نہ کرے اُس کو بِلا توقُّف قانُونی سزا دی جائے ۔ خواہ مَوت یا جلاوطنی یا مال کی ضبطی یا قَیدکی۔ عزرا خُدا کی حمد کرتا ہے خُداوند ہمارے باپ دادا کا خُدا مُبارک ہو جِس نے یہ بات بادشاہ کے دِل میں ڈالی کہ خُداوند کے گھر کو جویروشلیِم میں ہے آراستہ کرے۔ اور بادشاہ اور اُس کے مُشِیروں کے حضُور اور بادشاہ کے سب عالی قدر سرداروں کے آگے اپنی رحمت مُجھ پر کی اور مَیں نے خُداوند اپنے خُدا کے ہاتھ سے جو مُجھ پرتھا تقوِیّت پائی اور مَیں نے اِسرائیل میں سے خاص لوگوں کو اِکٹّھا کِیا کہ وہ میرے ہمراہ چلیں'''۔ <ref> [[کتاب مقدس]] ،[[ کتاب عزا]] ۔ باب 7</ref>۔ }}