"سامراجیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

3,212 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
قدیم چینی سامراج اور [[سکندر اعظم|سکندر]] کے [[یونانی سامراج]] سے جدید امریکی سامراجیت تک اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ انیسویں صدی کے نصفِ اوّل سے بیسویں صدی کے نصفِ اوّل تک کا زمانہ [[زمانۂ سامراجیت]] کے نام سے معروف ہے۔ [[برطانیہ]]، [[فرانس]]، [[اطالیہ]]، [[جاپان]]، [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] وغیرہ جیسے ممالک نے اس زمانے میں عالمی پیمانے پر [[نو آبادیاتی نظام|نوآبادیات]] قائم کیں۔
[[ملف:The British Empire.png|thumb|left|300px|ممالک جو [[برطانوی سامراج]] کے ماتحت تھا]]
 
==کالونیوں کو کیوں آزادی دی گئی؟==
آج بھی عالمی میڈیا اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے کہ سامراجی طاقتوں نے خود ہی اپنی محکوم کالونیوں کو کیوں آزاد کیا۔ انٹرنیٹ پر اس سوال کے جواب میں صرف جھوٹ اور تضاد کی بھرمار ہے اور انتہائی نامعقول وضاحتیں موجود ہیں۔<br>
اگست 2017 میں کسی گورے نے یہ وجہ بتائی جو سراسر گمراہ کن ہے:
:"برطانوی سلطنت تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر برطانیہ کو اپنی نوآبادیوں سے نکلنا پڑا۔ بڑی حد تک اس کی وجہ یہ تھی کہ صنعتی ترقی کی وجہ سے معاشی خوشحالی میں اضافہ ہوا تھا۔ ذرایع نقل و حمل میں بہت زیادہ ترقی ہوئی تھی۔ مواصلاتی رابطوں کے نئے طریقے ایجاد ہوئے تھے۔ سلطنت کی جانب سے نسلی اور مذہبی تعظیم اور آزادی اظہار وغیرہ میں اضافہ ہوا تھا۔"<ref>[http://www.zerohedge.com/news/2017-08-20/future-third-world]</ref><!-- The British Empire was the largest in history. At the end of World War II Britain had to start pulling out from its colonies. A major part of the reason was, ironically, the economic prosperity that had come through industrialization, massive improvements in transportation, and the advent of telecommunications, ethnic and religious respect, freedom of speech, and other liberties offered by the empire. -->
 
کالونیوں کو آزادی دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ گورا دھاتی کرنسی کا نظام ختم کر کے کاغذی کرنسی رائج کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا جو مکمل طور پر گوروں کے کنٹرول میں تھی اور آج تک ہے۔ ہر کالونی میں اس کا سینٹرل بینک بن چکا تھا جو گوروں کے کنٹرول میں تھا۔ 1944ء میں [[کاغذی کرنسی#بریٹن اوڈز|بریٹن اوڈز]] کا معاہدہ منظور کر کے تیسری دنیا کے سارے ممالک اپنی محکومی قبول کر چکے تھے۔ اب صرف ایکسپورٹ آف کیپیٹل (یعنی قرضے دے کر یا سرمائیہ کاری کر کے) وہ سارے مالی اور سیاسی فوائد سامراجیوں کو حاصل ہو چکے تھے جو پہلے فوجی طاقت سے چھینے جاتے تھے۔ اب سامراجیوں کو کوئی ضرورت نہیں تھی کہ کالونیوں میں قیام کا رسک لیں اس لیئے بریٹن اوڈز معاہدے کے بعد صرف چند سالوں میں دنیا بھر کی کولونیوں کو بظاہر آزاد کر دیا گیا لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ اس نام نہاد آزادی کے بعد بھی دولت سابقہ کالونیوں سے سامراجی ممالک تک منتقل ہوتی رہی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
 
==مزید دیکھیئے==
* [[اشتراکیت]]
* [[سود خور کیپیٹلزم]]
* [[غربت]]
 
{{Commonscat|Imperialism}}