"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

17 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
صفائی
م (صفائی)
'''وجد''' ایک ایسا روحانی جذبہ ہے۔ جو اللہ کی طرف سے باطن انسانی پر وارد ہو جس کے نتیجہ میں خوشی یا غم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے
== وجد ==
وجد (Religious ecstasy)[[تصوف]] و [[سلوک]] میں استعمال ہونے والی ایک خاص [[اصطلاح]] ہےیہ ایک کیفیت ہے جو ذکر و [[نعت]] کے وقت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت عموما اولیاء کاملین کی محافل اور [[صحبت]] کا خاصہ ہے جسے اللہ کی محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے <br />
=== وجد اور تواجد کی حقیقت ===
وجد عموما بعض ذی روح چیزوں خصوصا اہل ایمان میں سے ایسے حضرات کو ہوتا ہےجو تلاوت قرآن یا نعت رسول ﷺ یا ذکر باری تعالیٰ یا بزرگان دین کی تعریف و توصیف سنتے ہیں تو ان پر کسی خاص کیفیت کا ورود ہوتا ہے یا انوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے اوپر قابو اور کنٹرول نہیں کر پاتے جس وجہ سے ان کے جسم پر اضطراب و حرکت پیدا ہوتی ہے جس کی بنا پر کبھی ادھر کبھی ادھر کبھی آگے کبھی پیچھے جھکتے اور گر پڑتے ہیں ۔اور کبھی کبھار بیہوش بھی ہوجاتے ہیں تو ایسی حرکت کو وجد حقیقی کہا جاتا ہے۔اور اس کا محمود و مستحسن ہونا قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔
<ref name = "فضیلت الذاکرین">فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین، صفحہ 21، مفتی غلام فرید ہزاروی ،ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور </ref>
 
 
* سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لئے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ۔‘‘<ref>بہجۃ الاسرار، ذکرشي من اجوبتہ ممايدل علي قدم راسخ، ص236</ref>
* وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہےپس جس شخص کے وظائف زیادہ ہونگےاس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہونگی۔ <ref name = "رسالہ قشیریہ">رسالہ قشیریہ ،صفحہ 157، ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور </ref>
* وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref>
* جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے۔ <ref name = "کتاب اللمع">کتاب اللمع فی التصوف ،شیخ ابو نصر سراج ،صفحہ 498 ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور </ref>
وجد ایک باطنی کیفیت ہےجو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے۔<ref name = "کشف المحجوب">کشف المحجوب ،علی بن عثمان الہجویری،471،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref>
* گویا ہر وہ کیفیت مسرت و الم جو قلب پر بغیر ارادے و کوشش کے طاری ہو اسے وجد کہتے ہیں'''<ref name = "کتاب اللمع"/>
* سورہ الحج کی آیت نمبر 35 میں لفظ وجل (ڈر) صفات واجدین میں سے ہے <ref name = "کتاب اللمع"/>
 
* سورہ الحج کی آیت نمبر 35 میں لفظ وجل (ڈر) صفات واجدین میں سے ہے <ref name = کتاب اللمع/>
 
== وجد اور تواجد ==
وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو <ref name = "رسالہ قشیریہ"/> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے [[تواجد]] اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا [[متواجد]] نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں <ref name = "رسالہ قشیریہ"/>
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے
*رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کےمعنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہوجائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے <ref name = "فضیلت الذاکرین"/>
* ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے <ref name = "کشف المحجوب،ص473"/>
== وجد کی مختلف اقسام ==
* سارےبدن کا حرکت اور اضطراب
[[زمرہ:روحانیت]]
[[زمرہ:مناسک دین]]
 
[[زمرہ:اصطلاحات]]
[[زمرہ:تصوف]]
43,445

ترامیم