"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(«کارل گوٹلیب فینڈر 1803ء میں ویبلینگن میں پیدا ہوا ج وورٹمبرگ جرمنی میں واق...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
 
 
فینڈر اور اس کا دوست مبلغ کرائیس 1837ء میں ہندوستان گئے۔ وہ ایران اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے تیرہ ماہ کے بعد کلکتہ پہنچے۔ وہاں چرچ مشنری سوسائٹی کے مشنری وائی براؤ (Wybrow) اور بردوان کے "رسولوں کا ساول رکھنے والے" مشنری وائٹ بریخٹ (Weit Brecht) نے (جوفینڈر کا رشتہ دار تھا) اُن کا خیرمقدم کیا۔
1840ء میں فینڈر اور کرائیس نے باسل کمیٹی سے قطع تعلق کرلیا اور چرچ مشنری سوسائٹی نے اُن کو قبول کرکے آگرہ روانہ کردیا۔ ہندوستان پہنچتے ہی فینڈر نے اردو سیکھی اور میزان الحق کو مکمل کیا۔ بمبئی اور کلکتہ کے احباب کی مدد سے اُس نے اپنی فارسی تالیفات چھپوا کر بنارس، آگرہ اور بمبئی روانہ کیں۔
 
فینڈر نے دوسری شادی ایک انگریز خاتون ایملی سونبرن (Emily Swimburne) کے ساتھ کی۔ یہ خاتون بھی ایک مشنری تھی۔ دونوں میاں بیوی آگرہ کو دریا کی راہ روانہ ہوئے اور 1841ء کے آخر میں آگرہ بخیر یت پہنچ گئے۔ آگرہ میں اُنہوں نے گنجان آبادی کے درمیان میں جگہ رہائش اختیار کی۔ یہ مکان بشپ کوری (Corrie) نے خرید کر سی۔ ایم۔ ایس کو نذر کردیا تھا۔
 
جب چرچ مشنری سوسائٹی نے یہ فیصلہ کیاکہ پشاور میں مشن قائم کیا جائے تواُنہوں نے 1854ء میں فینڈر کو اورپادری رابرٹ کلارک (Robert Clark) کو وہاں بھیجا۔ ڈاکٹر فینڈر پشاور میں برسرِ بازار مسیحی کتب مقدسہ کی تعلیم دیتا اور مسیح مصلوب کی منادی کرتا تھا۔ ڈاکٹر فینڈر ہندوستانی واعظین کے ساتھ ہر شام کو بازاروں میں اور شارع عام پر اپنے مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ پشاور میں وہ تعلیم یافتہ اشخاص کے ساتھ اُردو اور فارسی میں کلام کرتا۔ افغانوں کے ساتھ پشتو میں اور مولوی صاحبان کے ساتھ عربی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ اُس کے علم ولیاقت کو دیکھ کر کسی مولوی کو مباحثہ کرنے کی جرات نہیں پڑتی تھی۔ فینڈر نے پشاور کے تمام علماء کو میزان الحق بھیجی۔ بعض نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ بعض نے اُس کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا۔ حافظ محمد عظیم نے عربی میں ذیل کا مکتوب بھیجا۔
"خدمت قسیس ڈاکٹر فینڈر صاحب۔ آپ کی مرسلہ کتابیں بغیر پڑھیں واپس کررہا ہوں۔ خدائے اکبر نے ہم کو صراط مستقیم پر چلایا ہے اور ہمارا علمِ عقل اور مکاشفہ اندرونی اور بیرونی ثبوت پر قائم ہے۔ پس ہمیں گمراہ لوگوں کی جھوٹی کتابوں سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف میں وارد ہے کہ اُن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اوراُن کی آنکھوں پر پردہ چھاگیا ہے۔ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے"۔
 
پشاور میں ڈاکٹر فینڈر نے ایک اورکتاب تصنیف کی جس میں آگرہ اوردہلی کے علمائے اسلام کے اعتراضات کے مفصل جوابات تھے۔ مئی 1857ء کے بدامنی اور فساد کے ایام میں بعض احباب نے ڈاکٹر فینڈر کو یہ صلاح دی کہ وہ پشاور شہر میں برسرِ بازار تبلیغ کرنا چند ماہ کےلیے بند کردے تاکہ اُس کا جان ومال محفوظ رہے۔ اُس نے جواب دیاکہ وہ صرف مسیحی مذہب کی تعلیمات کے مطابق عمل کرے گا۔ چنانچہ اُن ایام میں اُس نے صرف دویا تین روز بازاری تبلیغ بند کی ورنہ وہ ہر روز برسرِ بازار اپنے دین کا پیغام لوگوں کو سناتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ خدا نے یہ ہولناک دن برطانوی گورنمنٹ پر اس لیے بھیجے کیونکہ وہ ہندوستان میں بُت پرستی کی معاون اور مسیحیت کی مددگار ہونے سے خائف رہی ہے۔