"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
'''کارل گوٹلیب فینڈر''' 1803ء میں [[ویبلینگن]] میں پیدا ہوا ججو [[وورٹمبرگ]] جرمنی میں واقع ہے۔ اس کے والدین دیندار تھے۔ اس کا والد نانبائی کا کام کرتا تھا اور والدہ ایک جوشیلی مسیحی خاتون تھی۔
 
== حالات زندگی ==
فینڈر ذہین لڑکا تھا اور اُس کو پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ لہٰذا اس کو لاطینی زبان کی تحصیل کے لیے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ اُس کے استاد دیندار اور خدا پرست تھے جو اس کو [[یسوع مسیح|سیدنا مسیح]] کے آخری حکم پر عمل کرنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کہ تم سب "قوموں کو شاگرد بناؤ"۔<ref>(متی 28 باب 19 آیت</ref>) لڑکپن میں اس کا دل تبدیل ہوگیا اور وہ اپنے نجات دہندہ (یسوع مسیح) سے محبت کرنے لگا جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کو مسیحی مبلغ بننے کا شوق دامن گیر ہوگیا۔ وہ دعا کرتا تھا کہ اے خدا اگر تیری مرضی ہے کہ میں تیرا مبلغ بنوں تو مجھے راستہ دکھا اوراگر نہیں تویہ شوق مجھ سے دور کردے کیونکہ تیری غیرت کی آگ مجھے بھسم کررہی ہے"۔ خدا نے اُس کے لیے راستہ کھول دیا اور وہ 1820ء میں باسل مشنری انسٹی ٹیوٹ (Basel Missionary Institute) میں پانچ سال تک علم الہٰیات کا مطالعہ کرتا رہا۔
 
== مسیحیت کی اشاعت ==
فینڈر زبانیں کئی زبان سیکھ چکا تھا۔ پس باسل مشنری انسٹی ٹیوٹ کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس کو ایشیائی زبانوں میں بائبل کا ترجمہ کرنے کے لیے بھیجا جائے۔ لہٰذا 1825ء میں وہ دو اور مشنریوں کے ساتھ [[آرمینیا]] کے ملک کے ایک قصبہ [[شوشا]] میں بھیجا گیا جو [[بحیرہ اسود]] اور [[بحیرہ قزوین]] کے درمیان میں ہے۔ شوشا کا مشن [[مسلمان|اہلِ اسلام]] کے لیے تھا۔ فینڈر اس وقت صرف بائیس سال کا تھا۔ وہ تین زبانیں یعنی ترکی، تاتاری، آرمینی اور فارسی بول سکتا تھا۔ وہ اہلِ اسلام کے درمیان میں مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ منادی کے دوران میں اُس کو احساس ہوا کہ مشرقی ممالک میں وہ اُس طریقہ سے منادی نہیں کرسکتا جس طرح یورپ کے پادری مغربی ممالک میں کرتے ہیں۔ اہلِ اسلام کے پاس ایک مقدس کتاب قرآن تھی جس کو وہ آسمانی کتاب سمجھتے تھے اور وہ مسیحی کتب مقدسہ کو ترمیم شدہ تصور کرتے تھے۔ پس فینڈر نے قرآن وحدیث کا مطالعہ شروع کیا اور اسلامی فلسفہ اور دینیات سے واقفیت حاصل کرنے لگا۔ اس مطالعہ نے اُس پر روزِ روشن کی طرح ظاہر کردیا کہ اُن کو کروڑہا مسلمانوں کو جو اللہ، قرآن اور رسول محمد {{درود}} پر ایمان رکھتے ہیں ان کو اسلام سے مسیحیت میں لانا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اسلام نے مسیحیت کا ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک مقابلہ کیا ہے۔ اور مشرقی کلیسیا کے لاکھوں مسیحی مسلمانوں تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرچکے تھے اور اسی کی وجہ سے شوشا کے متعدد مسیحی خاندان جن کا تعلق آرمینیا کی کلیسیا سے تھا مسلمان ہوگئے تھے۔ فینڈر کی دلی خواہش تھی کہ وہ ان مسلمانوں کو واپس مسیحی مذہب میں داخل کردے۔
 
1831ء میں وہ ایک قافلہ کے ہمراہ [[ایران]] کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے ایرانیوں کا لباس اختیار کرلیا۔ اگرچہ ایسا کرنے سے اسے اپنے تمام ملکی حقوق سے دستبراد ہونا پڑا۔ کیونکہ اگر اُس کو کوئی خطرہ درپیش آتا تو اُس کے ملک کا سفیر اُس کی حفاظت کا ذمہ دار نہ ہوسکتا۔ تمام قافلہ میں وہ اکیلا مسیحی تھا۔ کاروان والے اُس کو "ملائے فرنگ" کہتے تھے۔ دوران میں سفر وہ [[تاتاری|تاتاریوں]] اور [[کرد|کردوں]] میں مسیحیت کی اشاعت کرتا اور فارسی انجیلیں تقسیم کرتا گیا۔ راہ میں جب [[کرمانشاہ|کرمان]] شاہ کے ملانوں کو خبر ملی کہ "ملائے فرنگ" اناجیل تقسیم کرتا پھرتا ہے تو وہ ایک بڑی تعداد میں فینڈر کے پاس گئے اور اس کے ساتھ بحث کرنے لگے لیکن جب جواب نہ دے سکا تو اُنہوں نے جامع مسجد میں اعلان کردیا کہ اناجیل کو جلا دینا اور فینڈر کو قتل کردینا کار ثواب ہے۔ جس راہ سے وہ گذرتا تھا لوگ شور وغُل مچاتے تھے۔ وہ لکھتاہے "وہ مجھے ٹھٹھوں میں اڑاتے مجھ پر لعنت بھیجتے اور میرے منہ پر بار بار تھوکھتے تھے"۔
 
اگلے روز قافلہ وہاں سے روانہ ہوکر اصفہان پہنچا ججو وفینڈرفینڈر کا منزل مقصود تھا۔ وہاں اُس نے یہودیوں، مسلمانوں اور آرمینیوں کو مسیحی کتب مقدسہ دیں۔ اصفہان میں اس کو ایک نوجوان آرمینی مسیحی ملا جس نے بشپ کالج کلکتہ میں تحصیل علم کیا تھا اور اصفہان میں ایک اسکول کھولنے کی کوشش میں تھا تاکہ اُس کہ ہم وطن انجیل جلیل کا مسرت انگیز پیغام سن سکیں۔ فینڈر اصفہان میں رہ کر نزدیک کے قصبوں میں بائبل اور دیگر کتب کو تقسیم کرتا اور ملانوں سے بحث کیا کرتا تھا۔ اُس کا یہ خیال تھا کہ اصفہان میں مُلانوں کو اشتعال دیے بغیر مسیحیت کی اشاعت کا کام کرنا چاہیے۔
 
1833ء میں وہ تہران سے ہوتا ہوا واپس شوشا کی طرف چلا گیا۔ وہاں جا کر اُس نے باسل کی کمیٹی کو ابھارا تاکہ اس کے شرکا مسیحیت کی تبلیغ اہلِ اسلام میں کرنے کے لیے مبلغین کو ایران بھیجیں۔ شوشا سے وہ شمکی اور بالو میں گیا جہاں سے وہ تبریز کو چلا گیا۔ اس جگہ اُس نے میزان الحق کی نظر ثانی کی۔ اس کام میں اُس نے ایک آزاد خیال ایرانی منشی اور ایک کٹر مُلا کی مدد لی۔ جس موخر الذکر نے اُس کے پاس آنے سے انکار کیا تو فینڈر اپنے مسودہ کو اُس کے پاس بھیجتا تھا۔ جب کام ختم ہوگیا تو ایرانی منشی نے کہا "جناب آپ کسی کو نہ بتائیں کہ میں نے اس کتاب کی تصنیف میں آپ کی مدد کی ہے لیکن یہ کتاب آزاد خیال ایرانیوں میں بہت مقبول ہوگی"۔ ملا نے کہلا بھیجا کہ "ہمیں افسوس ہے کہ یہ کتاب قرآن کے خلاف ہے۔ اور اگر ہمیں اس کے ناپاک مضامین کی پہلے اطلاع ہوتی توہم مدد کرنے کا کبھی وعدہ نہ کرتے" تبریز کے مسلمانوں میں فینڈر نے مسیحی کُتبِ مقدسہ تقسیم کیں اور ان کتابوں کی دو کشتیاں بھرکر نسطوری صدر اُسقف کو بھی روانہ کیں۔
 
1833ء میں وہ واپس جرمنی میں اپنے گھر گیا۔ اس سال اُس کی شادی صوفیا ریوس (Sophia Reuss) سے ہوگئی جو ماسکو کے ایک سینٹیر کی بیٹی تھی۔ اُس کو بھی زبانوں کی تحصیل کا خاص ملکہ تھا۔ وہ نہایت دیندار اور دانشمند عورت تھی اور مسیحیت کی تبلیغ کی خاطر ایذا و دکھ اٹھانے کے لیے ہروقت تیار تھی۔ 1834ء میں دونوں میاں بیوی شوشا واپس آگئے۔ 1835ء میں فینڈر کی بیوی وفات پاگئی۔ اُسیاسی سال شہنشاہ رُوس نے شوشا میں تبلیغی کام کی ممانعت کردی۔ شہنشاہ نے حکم دیا کہ اگر مشنری کھیتی باڑی کا کام سکھانے یا تجارت وغیرہ کے لیے شوشا میں رہنا چاہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اُن کو انجیل سنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یوں ایک مسیحی سلطنت نے شوشا کا مشن بند کردیا۔
 
فینڈر اور اس کا دوست مبلغ کرائیس 1837ء میں ہندوستان گئے۔ وہ ایران اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے تیرہ ماہ کے بعد کلکتہ پہنچے۔ وہاں چرچ مشنری سوسائٹی کے مشنری وائی براؤ (Wybrow) اور بردوان کے "رسولوں کا ساول رکھنے والے" مشنری وائٹ بریخٹ (Weit Brecht) نے (جوفینڈر کا رشتہ دار تھا) اُن کا خیرمقدم کیا۔
"بحث دودن تک رہی۔ پہلے روز تقریباً ایک سو مسلمان علماء مولوی رحمت اللہ کی مدد کےلیے جمع تھے۔ دوُسرے روز اُن کی اس سے دُگنی تعداد تھی۔ دوسری صبح پہلی تقریر میری تھی۔ میں نے کہا کہ قرآن انجیل کا مصدق ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیاکہ قرآن مروجہ انجیل کا مصدق نہیں کیونکہ وہ مُحرف ہے میں نے کہا کہ اچھا تم اُس انجیل کوپیش کرو جوغیر محرف ہے اورجس کا قرآن مصدق ہے اوریہ بتاؤ کہ تحریف کب اورکہاں واقع ہوئی ۔ مولوی صاحب سے اس کا جواب بن نہ آیا اورکہنے لگے کہ مغربی علماء مثلا ہارن (Horne) مکائلس (Michaelis) وغیرہ خیال کرتے ہیں کہ اناجیل میں اختلاف قرات موجو دہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ انجیل محرف ہے۔میں نے جواب دیاکہ اختلافِ قرات سے تحریف لازم نہیں آتی۔ اس کا جواب مولوی صاحب نہ دے سکے میں نے کہا کہ دو باتوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو یا اس کا امر کا اقرار کرو کہ انجیلی عبارت مصون و محفوظ ہے اور جب الوہیتِ مسیح اور تثلیث پر بحث ہو تو ہمارے عقائد کی تائید میں اُس کی عبارت کو مانو اور یا اگلے روز ثبوت پیش کرو جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ ہماری مروجہ انجیل کے الفاظ احکام اور عقائد انجیل کے اُن نسخوں سے مختلف ہیں جو زمانہ محمد سے پہلے موجود تھے۔ مولوی صاحب نے دونوں باتوں سے انکار کردیا۔ میں نے کہا کہ آپ کے انکار کا یہ مطلب ہے کہ ہم مباحثہ جاری نہ رکھیں۔ مولوی صاحب نے بحث ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور جلسہ برخاست ہوگیا۔ اس پر اہل اسلام نے شور مچایا کہ اُن کی فتح ہوگئی ہے۔ لیکن مجھے یقین واثق ہے کہ گو جاہل مسلمان اپنی کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے اس مباحثہ میں اپنی فتح تصور کرینگے لیکن خدا اپنے طریقہ سے بہت لوگوں کو راہِ ہدایت پر لائيگا۔"
 
فینڈر کا یہ مباحثہ کامیاب رہا تھا۔ اس کی ایک تصنیف کے مطابق اُن علماء اسلام میں سے ججو ومولویمولوی رحمت اللہ کے حامی تھے دو علماء اس مباحثہ کے چند سال بعد مسیحی ہوگئے یعنی ایک [[صفدر علی|مولوی صفدر علی]] اور دوسرا [[عماد الدین لاہز|مولوی عمادالدین۔عماد الدین]]۔
 
فینڈر کے مباحثہ نے شمالی ہند کے کونے کونے میں ہلچل مچادی۔ اُس کی کتاب میزان الحق کو پڑھ کر اُن لوگوں کے دل جو تحقیق حق میں سرگرداں تھے اسلامی تعلیم سے بدظن ہوگئے اور متعدد مسلمان مسیحی ہوگئے۔ اُن میں سید ولائت علی خاص آگرہ تاج گنج بستی کے تھے جو 1857ء میں دہلی میں ایامِ فساد میں قتل کردیے گئے۔
آگرہ کی کلیسیا میں 1848ء میں فینڈر نے ایک پنچایت قائم کی یہ شمالی ہند میں موجودہ زمانہ کی طرز کی پہلی پنچائت تھی۔ فینڈر لکھتا ہے کہ "کلیسیا کے قیام کے لیے اوراپنی مدد کے لیے میں نے ایک پنچائت قائم کی ہے۔ پنچائت کے شرکاء کوک لیسیا منتخب کرتی ہے۔ پنچائت کے ممبر چرچ وارڈن کا کام بھی کرتے ہیں۔ اور تادیبی اُمور کو سر انجام دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص بپتسمہ چاہتاہے تو بپتسمہ دینے سے پہلے پنچائت کی صلاح لی جاتی ہے۔گذشتہ دوسال سے جماعت کہ شرکاء باقاعدہ چندہ دیتے ہیں جس کا انتظام پنچائت کے ہاتھوں میں ہے"۔
 
1854ء میں فینڈر اپنی بیوی کو جو انگلستان سے واپس آگئی تھی لانے کےلیےکے لیے کلکتہ گیا۔ وہاں کلکتہ کے بشپ نے اس کا تقرر دوبارہ کردیا کیونکہ اس سے پہلے اُس کا تقرر لوتھرن طریقہ پرہوا تھا۔ اوروہ واپس آگرہ آگیا۔
 
جب چرچ مشنری سوسائٹی نے یہ فیصلہ کیاکہ پشاور میں مشن قائم کیا جائے تواُنہوںتو اُنہوں نے 1854ء میں فینڈر کو اورپادری رابرٹ کلارک (Robert Clark) کو وہاں بھیجا۔ ڈاکٹر فینڈر پشاور میں برسرِ بازار مسیحی کتب مقدسہ کی تعلیم دیتا اور مسیح مصلوب کی منادی کرتا تھا۔ ڈاکٹر فینڈر ہندوستانی واعظین کے ساتھ ہر شام کو بازاروں میں اور شارع عام پر اپنے مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ پشاور میں وہ تعلیم یافتہ اشخاص کے ساتھ اُردو اور فارسی میں کلام کرتا۔ افغانوں کے ساتھ پشتو میں اور مولوی صاحبان کے ساتھ عربی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ اُس کے علم ولیاقت کو دیکھ کر کسی مولوی کو مباحثہ کرنے کی جرات نہیں پڑتی تھی۔ فینڈر نے پشاور کے تمام علماء کو میزان الحق بھیجی۔ بعض نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ بعض نے اُس کو ہاتھ لگانے سے انکار کردیا۔ حافظ محمد عظیم نے عربی میں ذیل کا مکتوب بھیجا۔
"خدمت قسیس ڈاکٹر فینڈر صاحب۔ آپ کی مرسلہ کتابیں بغیر پڑھیں واپس کررہا ہوں۔ خدائے اکبر نے ہم کو صراط مستقیم پر چلایا ہے اور ہمارا علمِ عقل اور مکاشفہ اندرونی اور بیرونی ثبوت پر قائم ہے۔ پس ہمیں گمراہ لوگوں کی جھوٹی کتابوں سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف میں وارد ہے کہ اُن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اوراُن کی آنکھوں پر پردہ چھاگیا ہے۔ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے"۔
 
پشاور میں ڈاکٹر فینڈر نے ایک اورکتاب تصنیف کی جس میں آگرہ اوردہلی کے علمائے اسلام کے اعتراضات کے مفصل جوابات تھے۔ مئی 1857ء کے بدامنی اور فساد کے ایام میں بعض احباب نے ڈاکٹر فینڈر کو یہ صلاح دی کہ وہ پشاور شہر میں برسرِ بازار تبلیغ کرنا چند ماہ کےلیے بند کردے تاکہ اُس کا جان ومال محفوظ رہے۔ اُس نے جواب دیاکہ وہ صرف مسیحی مذہب کی تعلیمات کے مطابق عمل کرے گا۔ چنانچہ اُن ایام میں اُس نے صرف دویا تین روز بازاری تبلیغ بند کی ورنہ وہ ہر روز برسرِ بازار اپنے دین کا پیغام لوگوں کو سناتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ خدا نے یہ ہولناک دن برطانوی گورنمنٹ پر اس لیے بھیجے کیونکہ وہ ہندوستان میں بُت پرستی کی معاون اور مسیحیت کی مددگار ہونے سے خائف رہی ہے۔
 
سر ہربرٹ ایڈورڈز نے ڈاکٹر فینڈر کی نسبت کہا "کون شخص ہے جس نے فینڈر کے پُرمحبت چہرہ کوایک دفعہ دیکھا ہو اوراُس کو دیکھ کر متاثر نہ ہوا ہو؟ خدا نے اُس کو مشنری ہونے کے لیے خاص لیاقت عطا فرمائی تھی۔ اُس کا دماغ بڑا زبردست تھا اورساتھ ہی وہ شیر دل واقع ہوا تھا۔ وہ ایک زندہ دل ،جفاکش اورمحنتی انسان تھا۔ اُس کو ایشیائی ممالک کے لوگوں کا تجربہ حاصل تھا۔ اورہندوستان بھر میں علمائے اسلام کے ساتھ مباحثہ کرنے میں وہ لاثانی تھا۔ وہ مسیحیت اورمسیحی عقائد کو ایشیائی نکتہ خیال سے لوگوں کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اُس کی کتابوں میں یورپین علماء کے خیالات نظر تک نہیں آتے۔ خوش مزاجی اُس کے چہرے سے ٹپکتی تھی اور کوئی شخص اُس کے ساتھ دیر تک خفا نہیں رہ سکتا تھا"۔
جب ایامِ فساد ختم ہوگئے توڈاکٹر فینڈر ،فینڈر، جرمنی اورسوئٹزرلینڈاور سوئٹزرلینڈ ہوتا ہوا انگلستان چلا گیا کیونکہ پشاور میں اُس کی بیوی کی صحت خراب رہتی تھی۔
 
1858ء میں چرچ مشنری سوسائٹی نے ڈاکٹر فینڈر کو قسطنطنیہ بھیجا۔ وہاں کے لوگوں نے اُس کی کتاب میزان الحق کے فارسی ترجمہ کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو اُس کو معلوم ہواکہ اُس کی کتاب کا جواب تیار ہو رہا ہے۔ قسطنطنیہ میں کُتبِ مقدسہ اور دیگر مذہبی کتابیں اُس جگہ فروخت کی جاتی تھیں جہاں [[یوحنا کریسوستوم|مقدس کرسسٹم]] نے کلیسیا کی ابتدائی صدیوں میں وعظ منادی کی تھی۔ اور جو اب مسجد بنادی گئی تھی۔ ایک روز ایک لخت بغیر کسی اطلاع کے سلطانِ ترکی کے حکم سے ترکی مسیحی قید کردیے گئے۔ مسیحی کتب مقدسہ ضبط کی گئیں اور مسیحیوں کی عبادت گاہوں اوردُکانوں پر جہاں ان کتب کی فروخت ہوتی تھی قفل لگادیے گئے۔ تُرکی گورنمنٹ نے ذیل کے احکام صادر کردیے:
"ترکی گورنمنٹ اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ اسلام پر کسی طرح کا حملہ برسرِ بازار یا علانیہ کیا جائے۔ وہ مشنریوں کو یا اُن کے کارندوں کو اسلام کے خلاف منادی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اس طرح کی کوشش ترکی گورنمنٹ کی نظر میں قومی مذہب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وہ کسی مباحثہ کی کتاب کو برسرِ بازار یا علانیہ طور پر تقسیم کرنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتی"۔ برطانوی سفیر نے ان احکام پر رضامندی ظاہر کردی۔ گو بعد میں بصد مشکل دکانیں کھلوائی گئیں لیکن اپنی جان کے ڈر کے مارے کوئی شخص اُن دُکانوں کے نزدیک نہیں پھٹکتا تھا۔ لیکن ان حالات میں بھی ڈاکٹر فینڈ اپنا کام برابر کرتا رہا۔ قسطنطنیہ میں اُس کی بیوی کی حالت نہایت خراب ہوگئی اور وہ 1865ء میں اپنے بیوی بچوں کو انگلستان چھوڑنے چلا گیا۔
 
== وفات ==
1870ء میں جب فرنچ ملتان گیا تو وہاں کے ایک مولوی نے جو مولوی رحمت اللہ اور ڈاکٹر وزیر خان کا دوست تھا اُس کو بتایا کہ جب قسطنطنیہ میں ڈاکٹر فینڈر کی وعظ منادی اور کتابوں کا شہرہ ہوا تو سلطان نے مولوی رحمت اللہ کو بلوا بھیجا تاکہ ڈاکٹر فینڈر سے مباحثہ کرے۔ لیکن مولوی رحمت اللہ کے دارالخلافہ میں پہنچنے سے پہلے ڈاکٹر فینڈر وفات پاچکا تھا۔ کیونکہ جب فینڈر انگلستان پہنچا تواُس کی اپنی صحت خراب ہوگئی اور اُس کی حالت روز بروز ابتر ہوتی گئی۔ بلاآخر یکم دسمبر 1865ء کو وہ ابدی آرام میں داخل ہوگیا۔ اسکے آخری الفاظ یہ تھے "میں اپنے گھر جارہا ہوں"۔
 
جب فرنچ 1890ء میں انگلستان گیا تو وہ مرحوم کی قبرکیقبر کی زیارت کرنے کو گیا، وہ لکھتاہے "کل (11 ستمبر) میں دہلی کے مسٹر کیلی (Kelly) کو ہمراہ لے کر اپنے پُرانے اُستاد ڈاکٹر فینڈر کی قبر کی زیارت کرنے کے لیے ہیم (Ham) گیا۔ ہم دونوں نے قبر کے پاس گھٹنے ٹیک کر ہندوستان کے کام کے لیے دعا مانگی"۔
 
== تصنیفات ==
فینڈر نے میزان الحق کے علاوہ ذیل کتب تصنیف کیں:
#طریق الحیات میں گناہ اورکفارہ پر مفصل بحث کی گئی ہے۔
#مراسلات۔ اس رسالہ میں وہ خطوط درج ہیں جو فینڈر اور مولوی سید آل حسن نے ایک دوسرے کو ایک تحریری مناظرہ کے دوران میں 1844ء اور 1845ء میں لکھے تھے۔مراسلات میں مناظرہ کے مضامین یہ تھے: تحریف بائبل، الوہیت مسیح اور تثلیث، رسالتِ محمدی۔ یہ مراسلات حل الاشکال کے ساتھ شائع کیے گئے۔
#اختتام دینی مباحثہ۔ اس میں فینڈر نے آگرہ کے مباحثہ کے مضامین کو مفصل بیان کیا ہے۔ اس کے آخر میں ضمیمہ کے طورپر دوخط ہیں جواُس نے مولوی رحمت اللہ کو اور ڈاکٹر وزیر خان کو 1854ء میں اُن کی کتاب" رسالہ مباحثہ مذہبی" کے جواب میں لکھے تھے۔ یہ کتاب 1855ء میں سکندرہ میں چھپی۔
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ_جات}}