"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

فینڈر ذہین لڑکا تھا اور اُس کو پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ لہٰذا اس کو لاطینی زبان کی تحصیل کے لیے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ اُس کے استاد دیندار اور خدا پرست تھے جو اس کو [[یسوع مسیح|سیدنا مسیح]] کے آخری حکم پر عمل کرنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کہ تم سب "قوموں کو شاگرد بناؤ"۔(متی 28 باب 19 آیت) لڑکپن میں اس کا دل تبدیل ہوگیا اور وہ اپنے نجات دہندہ (یسوع مسیح) سے محبت کرنے لگا جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کو مسیحی مبلغ بننے کا شوق دامن گیر ہوگیا۔ وہ 1820ء میں باسل مشنری انسٹی ٹیوٹ (Basel Missionary Institute) میں پانچ سال تک علم الہٰیات کا مطالعہ کرتا رہا۔
 
== مسیحیتتبلغ کی اشاعتدین ==
فینڈر زبانیں کئی زبان سیکھ چکا تھا۔ پس باسل مشنری انسٹی ٹیوٹ کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس کو ایشیائی زبانوں میں بائبل کا ترجمہ کرنے کے لیے بھیجا جائے۔ لہٰذا 1825ء میں وہ دو اور مشنریوں کے ساتھ [[آرمینیا]] کے ملک کے ایک قصبہ [[شوشا]] میں بھیجا گیا جو [[بحیرہ اسود]] اور [[بحیرہ قزوین]] کے درمیان میں ہے۔ شوشا کا مشن [[مسلمان|اہلِ اسلام]] کے لیے تھا۔ فینڈر اس وقت صرف بائیس سال کا تھا۔ وہ تین زبانیں یعنی ترکی، تاتاری، آرمینی اور فارسی بول سکتا تھا۔ وہ اہلِ اسلام کے درمیان میں مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ منادی کے دوران میں اُس کو احساس ہوا کہ مشرقی ممالک میں وہ اُس طریقہ سے منادی نہیں کرسکتا جس طرح یورپ کے پادری مغربی ممالک میں کرتے ہیں۔ اہلِ اسلام کے پاس ایک مقدس کتاب قرآن تھی جس کو وہ آسمانی کتاب سمجھتے تھے اور وہ مسیحی کتب مقدسہ کو ترمیم شدہ تصور کرتے تھے۔ پس فینڈر نے قرآن وحدیث کا مطالعہ شروع کیا اور اسلامی فلسفہ اور دینیات سے واقفیت حاصل کرنے لگا۔ اس مطالعہ نے اُس پر روزِ روشن کی طرح ظاہر کردیا کہ اُن کو کروڑہا مسلمانوں کو جو اللہ، قرآن اور رسول محمد {{درود}} پر ایمان رکھتے ہیں ان کو اسلام سے مسیحیت میں لانا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اسلام نے مسیحیت کا ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک مقابلہ کیا ہے۔ اور مشرقی کلیسیا کے لاکھوں مسیحی مسلمانوں تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرچکے تھے اور اسی کی وجہ سے شوشا کے متعدد مسیحی خاندان جن کا تعلق آرمینیا کی کلیسیا سے تھا مسلمان ہوگئے تھے۔ فینڈر کی دلی خواہش تھی کہ وہ ان مسلمانوں کو واپس مسیحی مذہب میں داخل کردے۔
 
انہی دنوں میں اس نے ”میزان الحق“ پہلے پہل [[جرمن زبان]] میں لکھی تھی جو اُس کی حین حیات میں تیس ہزار سے زیادہ چھپ گئی۔ اور اس کا ترجمہ پہلے فارسی میں اور پھر انگریزی،اانگریزی، ردو،اردو، مرہٹی، ترکی اور عربی زبان میں ہوگیا۔ اس کتاب کے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی ممالک میں چند سال کام کرنے کے بعد اُس نے دیکھا کہ زبانی تقریروں اور مباحثوں کا بہت اثر نہیں ہوتا کیونکہ مسلمان مسیحی عقائد کی تائید میں قرآن اور اسلامی عقائد کے خلاف گفتگو سننے کے خواہش مند نہیں تھے۔ پس اس نے ایک ایسی کتاب لکھی جو اِن ضروریات کو پورا کرے۔ اور جس میں مسیحی عقائد کی تائید اور اسلامی عقائد کی مفصل تردید تھی۔ لیکن اُس وقت کوئی ایسی کتاب مشنریوں کے پاس موجود نہیں تھی۔ فینڈر خود ہنوز نوجوان تھا لہٰذا اُس نے اپنے ہم خدمتوں کو اس کمی کی طرف متوجہ کیا۔ لیکن چونکہ وہ ایسی کتاب لکھنے کے اہل نہ تھے فینڈر نے اپنے خیالات کو یکجا لکھنا شروع کردیا اور یوں ہوتے ہوتے 1829ء میں میزان الحق تیار ہوگئی۔
 
1892ء میں وہ ایک مشنری کے ساتھ [[بغداد]] گیا کیونکہ اُس کو عربی سیکھنے کا شوق تھا اس زمانہ میں بغداد میں انجیل کی اشاعت کی مخالف تھی اور انجیل کے جانفزا پیغام سنانے کی سزا موت تھی۔ لیکن اُس نے کہا "مجھے اپنی جان کی پروا نہیں ہے۔ اگرخدا کو اس کی ضرورت ہے تووہ اُس کو خود محفوظ رکھے گا"۔ بغداد میں وہ عربی سیکھتا رہا۔ اس وقت تک میزان الحق ارمنی، ترکی، تاتاری اور فارسی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی تھی۔
فینڈر نے منادی کے لیے شہر کے گنجان حصہ میں دو دکانیں کرایہ پر لے لیں۔ وہ لکھتا ہے "لوگ مجھ پر ہنستے تھے اور میرا مضحکہ اڑاتے تھے لیکن جس جگہ وہ ایسا کرتے میں وہاں اگلے دن ضرور پہنچتا۔ جب اُنہوں نے یہ دیکھا کہ میں ٹلنے والا شخص نہیں ہوں تواُنہوں نے ہنسی مذاق کرنا بند کردیا۔ اب میں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرتا ہوں۔"
 
1845ء میں وہ دریائے جمنا کی راہ دہلی پہنچا ۔پہنچا۔ یہاں کے لوگوں کے پاس بھی میزان الحق تھی اور اُس نے علماء اسلام کے ساتھ جامع مسجد میں مناظرہ کیا۔ 1851ء میں فینڈر اپنی بیوی اور بچوں کی بیماری کی وجہ سے پہلی دفعہ انگلستان گیا۔ وہاں اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر جرمنی میں اپنے رشتہ داروں کی ملاقات کوگیا اور 1852ء کے آخر میں نہرسویز کی راہ سے بمبئی پہنچا۔ وہاں سے وہ بیل گاڑی میں سفر کرتا ہوا فروری 1853ء میں واپس آگرہ پہنچ گیا۔ جب فینڈر انگلستان میں چھٹی پر تھا اُن دنوں میں [[چرچ مشنری سوسائٹی]] نے [[تھامس ویلپی فرنچ]] (Thomas Valpy French) کو 1851ء میں آگرہ میں مشن کالج کھولنے کے لیے روانہ کیا۔ آگرہ میں دوسال کے قیام کے بعد فرنچ نے فینڈر سے ملاقات کی اور فرنچ نے فینڈر کے قدموں میں بیٹھ کر اسلام کا مطالعہ کیا۔ اور تادم مرگ اُس کا مداح رہا۔ آگرہ میں پہنچ کر فینڈر نے دیکھاکہ جو بیج اُس نے بویا تھا وہ بے پھل نہیں رہا۔ اہل اسلام مسیحی کتب مقدسہ کا مطالعہ کرتے تھے۔ دو مسلمان رئیس مسیحیت کے حلقہ بگوش ہوگئے۔ اُس کی کتاب میزان الحق دُوردُور پہنچ گئی تھی۔
 
پشاور کے میجر مارٹن نے فینڈر کو لکھا کہ یہاں ایک ایرانی ہے جو بپتسمہ پانا چاہتا ہے۔یہ ایرانی تہران کے ایک تاجر کا بیٹا تھا۔ ایک آرمینی نے اُس کو ایران میں میزان الحق دی تھی۔ یہ ایرانی نوجوان مذہبی کتب پڑھنے کا شوقین تھا۔ اُس نے پشاور میں کرنیل ویلیہ (Col. Whelle) کو بازاری منادی کرتے سنا تھا۔ وہ میزان الحق پڑھ کر دوسال تک مسیحیت واسلامو اسلام کے عقائد کا موازانہ کرتا رہا اور بلاآخر مسیحی ہوگیا۔ یہ ایرانی گویا شوشا کے مشن کاپھل تھا۔
 
ایسٹر 1857ء میں آگرہ میں فینڈر کا معرکتہ آلار مباحثہ علمائے اسلام کے ساتھ ہوا۔ فرنچ اس کا مددگار تھا۔ فینڈر اس مباحثہ کی بابت لکھتا ہے۔ہے:
"یہاں کے (آگرہ) کے علمائے اسلام دہلی کےعلماء کے ساتھ مل کر گذشتہ دوتین سال سے کتابِ مقدس کا اورہماری کتابوں کا اور مغربی علماء کی تنقیدی کتُب اورتفاسیر کا مطالعہ کررہے تھے تاکہ وہ کتاب مقدس کو غلط اورباطل ثابت کرسکیں۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ دہلی کے عالم [[رحمت اللہ کیرانوی|مولوی رحمت اللہ]] اور دیگر علماء نے کتابِ استفسار ،استفسار، ازالہ الاوہام ،الاوہام، اعجاز عیسوی وغیرہ کتب لکھیں۔"
 
"جنوری 1854ء میں جب میں یہاں نہیں تھا تو مولوی رحمت اللہ آگرہ آیا تاکہ اپنے احباب کے ساتھ اُن کتب کو چھپوانے کا انتظام کرے اس اثناء میں وہ مذہبی گفتگو کے لیے فرنچ کے پاس چند دفعہ آیا اور مجھے نہ پاکر افسوس ظاہر کیا۔ جب میں آیا تو اُس نے اپنے ایک دوست کی معرفت مباحثہ کے لیے کہلوا بھیجا اگرچہ میں جانتا تھا کہ مباحثوں کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا پھر بھی میں نے مباحثہ کا چلینج منظور کرلیا مباحثہ کی شرائط طے پائیں کہ مولوی رحمت اللہ اہل اسلام کی طرف سے ڈاکٹر وزیر خان کی مدد کے ساتھ مباحثہ کرے اور مسیحیوں کی طرف سے میں مسٹر فرنچ کی طرف سے مباحثہ کروں۔ مضمون زیربحث یہ قرار پائے (1)مسیحی کتُب مقدسہ میں تحریف واقع ہوئی ہے اوروہ منسوخ ہوچکی ہیں(2) الوہیتِ مسیح اوتثلیث (3) رسالتِ محمدی:"
فرنچ فینڈر کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے "گو مرحوم ڈاکٹر فینڈر بزرگ ہنری مارٹن کا سا دماغ اور لیاقت نہیں رکھتے تھے تاہم میدان مباحثہ میں یکتا تھے وہ اپنے ہمعصر مشنریوں میں جو اہل اسلام میں کام کرتے تھے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے مرحوم خود وفات پایا گیاہے۔ لیکن اُس کا کام زندہ ہے اور کلیسیا کے لیے ایک غیرفانی وراثت چھوڑ گیا ہے۔ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں نے اُس کے آگے زانوئے شاگردی تہ کیا ہواہے۔ فینڈر کی یاد میرے دل میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ فینڈر اور ڈف دوشخص ہیں جن کے کام نے مشنریوں کوسب سے زیادہ متاثر کیاہے۔خدا کرے کہ ہمارے مشنری قلم کے زور کے اثر کو محسوس کرکے اُس کام کو جاری رکھیں جو فینڈر نے شروع کیا ہے" سر ولیم میور نے 1854ء میں اس بابت لکھا کہ "اہل اسلام کے ساتھ مباحثہ کرنے والوں میں وہ لائق ترین شخص ہے"۔
 
آگرہ کی کلیسیا میں 1848ء میں فینڈر نے ایک پنچایت قائم کی یہ شمالی ہند میں موجودہ زمانہ کی طرز کی پہلی پنچائت تھی۔ فینڈر لکھتا ہے کہ "کلیسیا کے قیام کے لیے اوراپنیاور اپنی مدد کے لیے میں نے ایک پنچائت قائم کی ہے۔ پنچائت کے شرکاء کوک لیسیا منتخب کرتی ہے۔ پنچائت کے ممبر چرچ وارڈن کا کام بھی کرتے ہیں۔ اور تادیبی اُمور کو سر انجام دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص بپتسمہ چاہتاہے تو بپتسمہ دینے سے پہلے پنچائت کی صلاح لی جاتی ہے۔گذشتہہے۔ گذشتہ دوسال سے جماعت کہ شرکاء باقاعدہ چندہ دیتے ہیں جس کا انتظام پنچائت کے ہاتھوں میں ہے"۔
 
1854ء میں فینڈر اپنی بیوی کو جو انگلستان سے واپس آگئی تھی لانے کے لیے کلکتہ گیا۔ وہاں کلکتہ کے بشپ نے اس کا تقرر دوبارہ کردیا کیونکہ اس سے پہلے اُس کا تقرر لوتھرن طریقہ پرہوا تھا۔ اوروہ واپس آگرہ آگیا۔