"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  2 سال پہلے
1892ء میں وہ ایک مشنری کے ساتھ [[بغداد]] گیا کیونکہ اُس کو عربی سیکھنے کا شوق تھا اس زمانہ میں بغداد میں انجیل کی اشاعت کی مخالف تھی اور انجیل کے جانفزا پیغام سنانے کی سزا موت تھی۔ لیکن اُس نے کہا "مجھے اپنی جان کی پروا نہیں ہے۔ اگرخدا کو اس کی ضرورت ہے تووہ اُس کو خود محفوظ رکھے گا"۔ بغداد میں وہ عربی سیکھتا رہا۔ اس وقت تک میزان الحق ارمنی، ترکی، تاتاری اور فارسی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی تھی۔
 
1831ء میں وہ ایک قافلہ کے ہمراہ [[ایران]] کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے ایرانیوں کا لباس اختیار کرلیا۔ اگرچہ ایسا کرنے سے اسے اپنے تمام ملکی حقوق سے دستبراد ہونا پڑا۔ کیونکہ اگر اُس کو کوئی خطرہ درپیش آتا تو اُس کے ملک کا سفیر اُس کی حفاظت کا ذمہ دار نہ ہوسکتا۔ تمام قافلہ میں وہ اکیلا مسیحی تھا۔ کاروان والے اُس کو "ملائے فرنگ" کہتے تھے۔ دوران میں سفر وہ [[تاتاری|تاتاریوں]] اور [[کرد|کردوں]] میں مسیحیت کی اشاعت کرتا اور فارسی انجیلیں تقسیم کرتا گیا۔ راہ میں جب [[کرمانشاہ|کرمان]] شاہ]] کے ملانوں کو خبر ملی کہ "ملائے فرنگ" اناجیل تقسیم کرتا پھرتا ہے تو وہ ایک بڑی تعداد میں فینڈر کے پاس گئے اور اس کے ساتھ بحث کرنے لگے لیکن جب جواب نہ دے سکا تو اُنہوں نے جامع مسجد میں اعلان کردیا کہ اناجیل کو جلا دینا اور فینڈر کو قتل کردینا کار ثواب ہے۔ جس راہ سے وہ گذرتا تھا لوگ شور وغُل مچاتے تھے۔ وہ لکھتاہے "وہ مجھے ٹھٹھوں میں اڑاتے مجھ پر لعنت بھیجتے اور میرے منہ پر بار بار تھوکھتے تھے"۔
 
اگلے روز قافلہ وہاں سے روانہ ہوکر اصفہان پہنچا جو فینڈر کا منزل مقصود تھا۔ وہاں اُس نے یہودیوں، مسلمانوں اور آرمینیوں کو مسیحی کتب مقدسہ دیں۔ اصفہان میں اس کو ایک نوجوان آرمینی مسیحی ملا جس نے بشپ کالج کلکتہ میں تحصیل علم کیا تھا اور اصفہان میں ایک اسکول کھولنے کی کوشش میں تھا تاکہ اُس کہ ہم وطن انجیل جلیل کا مسرت انگیز پیغام سن سکیں۔ فینڈر اصفہان میں رہ کر نزدیک کے قصبوں میں بائبل اور دیگر کتب کو تقسیم کرتا اور ملانوں سے بحث کیا کرتا تھا۔ اُس کا یہ خیال تھا کہ اصفہان میں مُلانوں کو اشتعال دیے بغیر مسیحیت کی اشاعت کا کام کرنا چاہیے۔