"سید علی ترمذی" کے نسخوں کے درمیان فرق

علاقہ کے نام کی تصحیح
(صفائی)
(علاقہ کے نام کی تصحیح)
 
== اولاد و خلفاء ==
آپ کے دو بیٹے سید حبیب اور سید مصطفی تھے۔ اول الذکر جوانی میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ موخرالذکر سے آپ کا سلسلہ نسب چلا۔ ان کے ہاں فرزند سید حسن، سید قاسم اور سید عبداللہ پیدا ہوئے۔ سید حسن وادی سوات میں فرغزارمرغزار کے مقام پر ابدی نیند سورہے ہیں اور سید عبداللہ کا مزار دریائےضلع سواتبونیر کے کنارےگاؤں شل بانڈی کے مقام پر ہے۔ آپ کی اولاد کا سلسلہ صوبہ سرحد سے افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔
پیر بابا کے بے شمار مریدین تھے۔ خلفاءمیں سے [[آخوند درویزہ]] کو جو فضیلت وعظمت حاصل ہوئی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ ان کا اصلی نام عبدالرشید تھا اور ننگر ہار افغانستان کے رہنے والے تھے۔ لیکن عمر کا زیادہ حصہ پشاور، اطراف پشاور اور سوات وبندیل میں بسر کیا تھا۔ بچپن سے ہی ان پر خوف الہٰی طاری رہتا تھا۔ حصول علم کے بعد ہی پیر بابا سے وابستہ ہوگئے تھے۔
 
==وفات==
آپ نے [[991ھ]] میں وفات پائی. آپ کا مزار شریف [[مینگورہ]] ([[سوات]]) سے چالیس میل کے فاصلے پر علاقہضلع [[بونیر]] کے موضع پاچہ کلے میں ہے۔<ref>تذکرہ علماء ومشائخ سرحد ،جلد اول،صفحہ 1 تا15 محمد امیر شاہ قادری،مکتبہ الحسن یکہ توت پشاور</ref>
 
==ملفوظات==
گمنام صارف