"جماعت بندی" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
<li>نوع {{جسامت|80%|(species)}}
</ol>]]
'''علمی جماعت بندی''' (scientific classification) جس کو حیاتیاتی جماعت بندی بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا شعبہ علم ہے کہ جسمیں حیاتیاتداں ، جانداروں (ناپید و پید) کی درجہ بندی اور زمرہ جاتی ترتیب طے کرتے ہیں۔ جنہوں نے انگریزی یا اردو میں حیوانیات و نباتیات کے مضامین اور بطور خاص جانداروں کی جماعت بندیوں پر نظر ڈالی ہو انہیں اس بات کا بخوبی اندازااندازہ ہوگا کہ جماعت بندی کا طریقہ کار انگریزی میں بھی اتنا مشکل (یونانی کے الفاظ کے مرکبات کے ساتھ) اور ارتقائی پسمنظر رکھتا ہے کہ عام شخص کے ليے تو وہ بالکل ہی ایک سمجھ نہ آنے والی عبارت بن کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر مزہ تو اس وقت آتا ہے کہ جب ان ٹیڑھے ٹیڑھے انگریزی یونانی کے الفاظ کو اردو میں لکھا جاتا ہے، پھر ہوتا یوں ہے کہ ایک تو وہ لفظ انگریزی میں ہی اتنا مشکل تھا کہ اسکا مطلب تو کیا درست ادائیگی بھی ٹیڑھی کھیر سے کم نہ تھی اور اردونائیزیشن کرنے پر تو یوں محسوس ہوتا ہےکہ گویا کسی چیونٹی کو سیاہی میں ڈبو کر کاغذ پر چھوڑدیا گیا ہو اور پھر کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس لفظ کو سر کی طرف سے پڑھا جاۓ یا دم کی۔
 
جانداروں (حیوانات و نباتات) کو جن درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے وہ یوں ہیں کہ: میدان ، مملکہ ، شعبہ ، جماعت ، ذیلی جماعت ، طبقہ ، خاندان ، جنس اور پھر نوع۔ یہ تو کل نو الفاظ ہوئے اور انکو تو سمجھا جاسکتا ہے مگر ان میں آنے والے لاتعداد حیوانات اور پودے! کتنوں کی درجہ بندی کو سمجھ سکتا ہے ایک انسانی ذہن؟ کیا انہیں انگریزی ہی میں لکھ دیا جاۓ ؟ کیا اس طرح انگریزی میں لکھنے سے انکا مفہوم سمجھ میں آجاۓ گا ؟ ان تمام سوالات کا حل اور اس [[:Category:شجرحیات|شجرحیات]] کے پیچ در پیچ بل کھاتے اژدہا پر قابو پانا عام اور رائج طریقہ سے ناممکن ہی نہیں ، فضول اور نقصان دہ بھی ہے۔ اس کے ليے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا کہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔