"جمال عبدالناصر" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
(گروہ زمرہ بندی: حذف از زمرہ:مصری شخصیات)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
<small>مکمل مضمون کے ليے دیکھئے [[6 روزہ جنگ]]</small>
 
صدر ناصر [[یمن]] کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ [[اسرائیل]] کے مقابلے میں [[روس]] پر مکمل بھروسا کر سکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے لیے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ [[اقوام متحدہ]] کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور [[آبنائے عقبہ]] کو جہاز رانی کے لیے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔ اسرائیل نے جو جنگ کے لیے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسا تھا مصر کی کمزوری کا اندازااندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑا ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی [[فلسطین]] سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں [[جولان]] کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے [[جزیرہ نمائے سینا]] پر بھی قبضہ کرلیا۔ ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ [[سعودی عرب]] اور [[اردن]] سے مفاہمت پیدا کی اور [[شاہ فیصل]] سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔
 
جون 1967ء کی جنگ کے نتیجے میں غزہ (فلسطین)، اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، [[نہر سوئز]] بند ہوگئی اور مصر [[جزیرہ نمائے سینا]] کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ایک آمرانہ نظام میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ آمر کی جگہ لینے والا آسانی سے نہیں ملتا۔ مصر میں بھی یہی ہوا چونکہ کوئی متبادل رہنما سامنے نہیں آیا اس ليے 9 جون کو استعفی واپس لینے کے ليے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔
جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں [[سعودی عرب]]، [[کویت]] اور [[لیبیا]] نے وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔
 
صدر نے اگرچہ 1968ء میں ایک استصواب رائے کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی حاصل کرلیا تھا لیکن ان کی پالیسی کے خلاف اندرونی بے چینی میں برابر اضافہ ہورہا تھا لیکن اس کا اظہار استبدادی نظام کی وجہ سے کھل کر نہیں ہوسکتا تھا لیکن جنوری 1968ء میں طلبہ نے پولیس راج کے خلاف جو مظاہرہ کیا اس سے اس بے چینی کا اندازااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ روس کی پالیسی سے عوام غیر مطمئن تھے لیکن اب صدر ناصر کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ روس صرف دفاع کی حد تک اسلحہ دینا چاہتا تھا اور وہ مصر کو اتنا مضبوط نہیں بنانا چاہتا تھا کہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔ اس کے بر خلاف امریکہ نے اسرائیل کو اتنا مسلح کردیا تھا کہ وہ اپنے پڑوس کے تمام عرب ملکوں کے خلاف بیک وقت جارحانہ کارروائی کر سکتا تھا۔ صدر ناصر کو پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ روس فوجی اور اقتصادی امداد کے ذریعے مصر میں کمیونزم کا فروغ چاہتا ہے اور فلسطین سے متعلق عربوں کی پالیسی کو اپنے مفاد کے تحت تشکیل دینا چاہتا ہے۔ آخر کار صدر ناصر نے طے کیا کہ اسلحہ اور اقتصادیات کے معاملے میں صرف ایک ملک پر انحصار مصر کے لیے مفید نہیں ہوسکتا اور 1969ء میں انہوں نے اس مقصد کے لیے مغرب خصوصاً فرانس کی طرف رخ کیا لیکن صدر ناصر کی یہ پالیسی ابھی واضح شکل بھی اختیار نہ کر پائی کہ 28 ستمبر 1970ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث ان کا اچانک انتقال ہوگیا۔
 
== ناصر اور اخوان ==