"سواستک" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
تاہم نازی پارٹی جرمنی میں سواسٹیکا کو استعمال کرنے والی واحد جماعت نہیں تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد انتہائی دائیں بازو کی کئی [[قوم پرست]] تحریکوں نے سواستیکا کا انتخاب کر لیا۔ ایک علامت کے طور پر اسے نسلی لحاظ سے "پاک" ریاست کے تصور کے ساتھ منسوب کیا گیا۔ جب نازیوں نے جرمنی کا کنٹرول حاصل کر لیا تو سواستیکا کے نظرئیے اور مفہوم میں ہمیشہ کے لیے تبدیلی آ گئی۔
 
ایڈولف ہٹلر نے "مائین کامپف" میں تحریر کیا ہے "میں نے بذاتِ خود کئی کاوشوں کے بعد ایک حتمی شکل منتخب کر لی، ایک پرچم جس کے سرخ پس منظر پر ایک سفید ڈسک تھی جس کے عین درمیان میں سیاہ رنگ کا سواستیکاا تھا۔ کئی طویل کوششوں کے بعد مجھے پرچم کے سائز اور وھائیٹ ڈسک کے سائز کے درمیان متعین تناسب کا اندازااندازہ پوا اور اس کے ساتھ ساتھ سواسٹیکا کی شکل اور موٹائی کے بارے میں بھی طے کر لیا گیا۔
 
سواستیکا نازی پراپیگنڈے کا انتہائی جانا پہچانا نشان بن گیا۔ ایڈولف ہٹلر کی "مائین کامپف" میں اس حوالے کے بعد یہ انتخابی پوسٹروں، بازو بند، طغروں اور فوج کے علاوہ دوسری تنظیموں کے بیجز پر بھی استعمال ہونے لگا۔ یہ آریائی لوگوں کے درمیان میں فخر پیدا کرنے کی علامت تھا۔ سواسٹیکا نشان یہودیوں اور [[نازی جرمنی]] کے دوسرے دشمنوں کے لیے دہشت کی علامت بن گیا تھا۔