"طوفان" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (صفائی)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
کترينہ کے بعد امريکی رياست کيرولينا بھی ايک نسبتاً کم شديد طوفان ”اوفليا“ سے متاثر ہوئی۔ اس طوفان کی شدت امريکہ تک پہنچتے پہنچتے بہت کم ہوچکی تھی۔ ليکن امريکہ کی صنعتی پيداوار متاثر ہوئی اور کئی علاقوں ميں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔
دوسری طرف چين ميں زی جياننگ، فيوجيان اور جيانگ زی صوبوں ميں تالم نامی طوفان نے 4 لاکھ افراد کو بے گھر کرديا۔ سينکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران جاپان ميں بھی ناپی نامی طوفان نے تباہی پھيلائی اور ايک لاکھ افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
اگلا طوفان ”ريٹا“ امريکہ کے جنوبی ساحلوں سے ٹکرايا۔ دنيا ابھی ان طوفانوں کی تباہی کا اندازااندازہ بھی نہيں لگاسکی تھی کہ تائيوان اور چين کی طرف بڑھنے والے [[سمندری طوفان]] (ٹائی فون) ”خانون“ کی خبر نے دل دہلاديا۔ آخری خبر آنے تک 22 ستمبر کو بنگلہ ديش اور بھارت ميں خليج بنگال سے اُٹھنے والے [[سمندری طوفان]] سے زبردست تباہی ہوچکی ہے، سمندر کی سطح تين ميٹر بلند ہوگئی ، جس سے ايک ہزار مچھيرے لاپتہ اور 300 ديہات زيرِ آب آگئے۔
پے درپے آنے والے سمندری طوفانوں اور بعض خطوں ميں شديد بارشوں سے پيدا ہونے والی خطرناک سيلابی صورتحال نے دنيا بھر کے انسانوں کو شديد خوف ہراس ميں مبتلا کرديا ہے بہت سے لوگ يہ سوچنے پر مجبور ہوتے جارہے ہيں کہ آخر ان طوفانوں کے اسباب کيا ہيں اور تواتر سے يہ طوفان کيوں برپا ہورہے ہيں؟
اس کاواضح جواب خودخالقِ کائنات اللہ رب العزۃ نےدیاہے، کہ یہ میری نشانیاں ہیں،. تاکہ تم اس سےڈرواوراس کی اطاعت کرو
پہلے درجے ميں طوفان کی شدت 74 سے 95 کلوميٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے جو عام سی گرج چمک پر مشتمل سائيکلون ہے۔ اگر سائيکلون ميں ہوا کی شدت 96 سے 110 کلوميٹر فی گھنٹہ ہوجاتی ہے تو اسے دوسرے درجہ کا طوفان کہا جاتا ہے۔ اس طوفان ميں عموماً ماہی گيروں کو کشتياں ساحلوں پر لگادينے کی تاکيد کی جاتی ہے اور پانی خشکی پرنہيں چڑھتا۔ تيسرے درجے کے سائيکلون کو ٹراپيکل ڈپريشن کہا جاتا ہے جو معتدل درجہ کا طوفان ہے۔ اس کی شدت 111 سے 130 کلوميٹر فی گھنٹہ تک ہے۔ اس طوفان ميں ہوا کی شدت سے بعض درخت زمين سے اُکھڑسکتے ہيں۔ چوتھے درجے کا سائيکلون ہريکين ميں شمار کيا جاتا ہے۔ اس ميں گرج چمک کے ساتھ 131 سے 155 کلوميٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں کے جھکڑ چلتے ہيں۔ يہ طوفان کچے مکانات، درختوں اور کمزور مکانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امريکہ ميں آنے والے کترينہ ہريکين کی شدت ابتداءميں پانچويں درجہ کی تھی۔ ايسے طوفان ميں ہواؤں کی شدت 155 سے 200 کلوميٹر سے زائد تک ہوسکتی ہے۔ يہ سائيکلون پورے پورے شہر مليا ميٹ کردينے کی صلاحيت رکھتا ہے۔ اِسے امريکہ کی خوش قسمتی کہئے کہ کترينہ اپنی پوری قوت کے ساتھ امريکی رياستوں سے نہيں ٹکرايا، بلکہ جنوب سے محض چُہوتا ہوا گزرا۔ 1970ءميں سابق مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ ديش) ميں اِسی شدت کا ايک طوفان (190 کلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سي) آيا تھا جس ميں ايک اندازے کے مطابق تقريباً دس لاکھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ گنيز بک آف ورلڈ ريکارڈ کے مطابق يہ اب تک معلوم تاريخ کا سب سے جان ليوا طوفان ہے۔
سائنسدانوں نے درجہ 6 اور 7 کے ہريکين کی شدّت کا اندازااندازہ بھی لگايا ہے۔ اﷲ نہ کرے کہ کبھی نوعِ انسانی کو ان درجوں کے طوفانوں سے گزرنا پڑے۔ ايسے ہولناک طوفانوں کا تصور کرکے ہی روح تک کانپ اُٹھتی ہے۔
 
ہريکين کيسے بنتا ہي؟