"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
== فوج ==
اس عہد کی طرح موریہ بھی نیم فوجی حکومت تھی اور طاقت کا دارو مدار فوج پر تھا۔ وہ اپنی فوج کے بل پر ہی اپنی حکومت قائم کی اور لوگوں کے دلوں پر اپنی ہیبت قائم رکھ سکے۔ موریا عہد میں فوج کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کی تعد بڑھ کر چھ لاکھ سے بھی تجاوز ہوگئی۔ پلینی Pliny کے بیان کے مطابق چندر گپت کی فوج میں چھ لاکھ 600000 پیادہ 30000 تیس ہزار سوار اور نو ہزار 9000 ہاتھی شامل تھے۔ مگھشنز کے بیان کے مطابق اس عظیم انشان فوج کی نگرانی ایک مجلس کے سپرد تھی جو تیس اراکین پر مشتمل تھی اور جو مزید چھ ذیلی مجلسوں میں تقسیم بٹی ہوئی تھی۔ ہر ذیلی مجلس کے سپرد فوج کا خاص حصہ تھا۔ پہلی دریائی بیڑا کی دیکھ بھال۔ دوسری پیادہ افوج کا انتظام۔ تیسر سوار فوج کا انتظام۔ چوتھی رتھوں کا انتطام۔ پانچویں ہاتھیوں کا انتظام۔ چھٹی سامان رسد م بار برداری، طبلچی، سائیس، گھسیارے اور کاری گروں کی دیکھ بھال پر معمول تھا۔
مگھیشنز کے بیان کی تصدیق کسی اور ذرائع سے نہیں ہوتی ہے پھر بھی اس سے اتنا اندازااندازہ ہوجاتا ہے کہ موریا عہد میں فوج کا محکمہ منظم اور مستحکم تھا۔ اشوک نے عدم تشدد کے اصول کو اپنایا اور اس محکمہ کی طرف سے غفلت برتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہوگیا اور داخلی انتشار کے ساتھ عرصہ تک بیرونی حملوں کا شکار ہوتا رہا۔
مذہبی تقسیم کے لحاظ سے ملک کی آبادی چار ذاتوں برہمن، کشتری، دیش اور شودر میں بٹی ہوئی تھی حکومت و سیاست اور جنگ و جدل سے متعلق تمام باتیں کشتری کے متعلق تھیں۔ صرف وہی فوجی خدمت کے لائق سمجھے جاتے تھے، مگر غالباً موریاؤں نے اسے نظر انداز کیا فوج کے تمام اعلیٰ اختیارات راجہ کو حاصل تھے۔ وہی سپہ سالاری کا کام بھی انجام دیتا تھا۔ خود خون و کشت میں حصہ لیتا تھا اور سپاہیوں لڑاتا تھا وہ رتھ یا ہاتھی پر سوار ہو کر میدان جنگ میں آتا تھا۔ ارتھ شاستر میں اسے پیچھے رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ دشمنوں کے نرغے سے بچ سکے۔ راجہ کی عدم موجودگی میں سپہ سالار جسے سینہ پتی کہتے تھے فوج کی قیادت کا کام انجام دیتا تھا۔ سینہ پتی بہت با اثرعہدہ تھا۔ عملی طور پر وہی پوری فوج کا قائد تھا۔ راجہ اس پر اپنے کسی عزیز یا خاص معتدی کو اس عہدے پر فائز کرتا تھا۔ اس کے تحت دوسرے بہت سے فوجی سالار تھے جو نایک Nayaka اور دندا نایک Danda Nayakaکہلاتے تھے۔
اپنی ترکیب کے لحاظ سے فوج پیادہ، سوار، جنگی رتھوں اور ہاتھیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ ہاتھیوں پر زیادہ بھروسا کیا جاتا تھا۔ موریہ عہد میں رتھوں کو اہمیت حاصل رہی۔