"ساغر جیدی" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  4 سال پہلے
م
درستی املا
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
م (درستی املا)
 
==ساغر ؔ جیدی کی نظم گوئی==
ساغرؔ جیدی کے کل تین نظموں کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں جس میں دو تلگو زبان میں اور ایک نظموں کا مجموعہ اردو زبان میں شائع ہوچکا ہے۔ پہلا تلگو نظموں کا مجموعہ ’’لتھا پرتھاننی‘‘ کے نام سے1997 ء میں دوسرا تلگو نظموں کا مجموعہ1998 ء میں ’’تلاوارالیدو‘‘ شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ2007 ء میں ’’عماد‘‘ کے نام سے اردو آزاد نظموں کا مجموعہ شائع ہوکر اہل سخن سے داد و تحسین حاصل کرچکا ہے۔ جس میں کل241طویل اور چھوٹی نظمیں شامل ہیں۔ طویل آزاد نظموں میں ’’بارود کی بدبو، شاہی کرّوفر اور خشک چشمہ ‘‘ کے عنوان سے شامل ہیں۔ موصوف نے ان نظموں میں خصوصاً موجودہ دور کے نا اہل ناقدین و محققین پر طنز کیا ہے ان کی نظمیں آنے والی نسل کے لئےلیے ایک پیغام ہیں۔ غرور کے تعلق سے موصوف نے یہ نظم تخلیق کی ہے ؂
 
{{اقتباس|غرور کیا ہے
 
==ساغر ؔ جیدی کی رباعیات==
رباعی ایک ایسی صنف سخن ہے جس میں فلسفیانہ حکیمانہ، صوفیانہ، اخلاقی اور عشقیہ مضامین کے علاوہ مختلف سماجی مسائل اور موضوعات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ اکثر شعراء اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ کسی بھی وزن میں چار مصرعے کہہ کر رباعی لکھی جاسکتی ہے۔ جبکہ ماہرین عروض نے رباعی کے لئےلیے مخصوص اوزان کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے۔ رباعی کے ہر مصرع میں ’’مخصوص وزن‘‘ کے چار چار کن ہوتے ہیں اور یہ چار اراکین بیس ماتراؤں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ان اراکین کو عروضِ اصطلاح میں افاعیل بھی کہتے ہیں، عرو ض داں نے رباعی کے چوبیس اوزان کو دو گروہوں میں ’’شجرۂ اخرب‘‘ اور ’’شجرۂ اخرم‘‘ میں برابر بانٹا ہے۔ ان سب فنی لوازمات کو ہنر مندی کے ساتھ برتنے میں ساغرؔ جیدی بے انتہا کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کی رباعیات میں انسانی اقدار، اخلاقی معیار، سادگی، سلاست، روانی، سوز و گداز، جدت، ندرت، شگفتگی اور شائستگی جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس نوعیت کے چند رباعیات ملا حظہ ہوں ؂
{{اقتباس|مٹی کا کٹورا بھی نہیں ہے گھر میں
اک دوسرا کُرتا بھی نہیں ہے گھر میں
==نثر نگاری==
ساغرؔ جیدی ایک اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک اچھے نثر نگاربھی ہیں۔ ان کے کل تین نثری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ دو نثری تصانیف تلگو زبان میں اور ایک اردوتصنیف شائع ہوچکی ہے۔ موصوف نے اردو اور ہندی ہی میں نہیں بلکہ تلگو زبان میں بھی کما حقہٗ عبور رکھتے ہیں، پہلی نثری تصنیف ’’صوفی دھاگے‘‘ کے نام سے سنہ2004ء میں شائع ہوچکی ہے جس میں حکمت ، پند و نصیحت کی باتیں شامل ہیں۔ یہ ایک طرح تلگو ہی میں شائع کی گئی نصیحت آموز متصوفانہ نثری کتاب ہے۔ دوسری نثری تصنیف تلگو زبان میں ’’ہیروں کا تاج‘‘ سنہ2006ء میں شائع ہوچکی ہے۔ ساغرؔ جیدی کا کمال یہ ہے کہ ان تلگو نثری تصانیف کے نام بھی اردو سے تعلق رکھتے ہیں۔
موصوف کا اردو نثری مجموعہ ’’باریکہ‘‘سنہ2007ء میں شائع ہوچکا ہے۔ اشاروں اور کنایوں سے ملمز یہ نثرپارے بہت ہی دقیق نامانوس عربی و فارسی الفاظ کے غماز ہیں۔ نثر میں بھی شاعرانہ مزاج چھلکتاہے۔ اس لئےلیے مشہور و معروف نقاد پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے اس نثر پارے کو نثری نظم سے تعبیر کیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی موصوف کو مبارکبادی پیش کرتے ہوئے خط میں اس طرح گویا ہوئے ہیں:
’’آپ نے اس کتاب میں شامل تحریروں کو ’’ نثر پارے‘‘ کا نام دیا ہے اور درحقیقت یہ نثر نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی نثری نظم ہے۔ زبان میں استعارہ اور تلمیح کی کثرت مضامین میں معاصر زندگی پر جگہ جگہ تنقید ی رائے زنی، طنزاور اس پر سے زبان میں فارسی اور عربی کا گہرا وفور آج شاید ہی کسی اور شاعر کے پاس اتنا سامان یکجا مل سکے۔ افسوس ہے کہ آپ نے اس زمانے میں یہ نظمیں مجھے نہیں بھیجیں جب ’’شب خون‘‘ زندہ تھا۔ میں بے انتہا خوشی سے انہیں شائع کرتا‘‘۔
 
111,622

ترامیم