مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  1 سال پہلے
م
درستی املا
'''شاہ رخ خان''' (تلفظ {{IPA-hns |' ʃaːɦrəx xaːn |}}؛ پیدائش [[2 نومبر]]، [[1965ء]])، جنہیں اکثر '''شاہ رخ خان''' کے طور پر اور غیر رسمی طور پر '''ایس آركے''' نام سے پُکاراجاتا ہے، ہندوستانی فلموں کے مشہور [[اداکار]] ہیں۔ اکثر میڈیا میں انہیں "بالی ووڈ کا بادشاہ"، "کنگ خان"، "رومانس کنگ" اور '' کنگ آف بالی وڈ '' ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ شاہ رخ خان نے رومانوی ڈراماسے لے کر ایکشن ایڈونچر جیسے انداز میں 75 سے زائد ہندی فلموں میں اداکاری کی ہے۔''<ref>http://timesofindia.indiatimes.com/entertainment/bollywood/news-interviews/Acting-not-romance-is-my-forte-Shah-Rukh-Khan/articleshow/17127254.cms</ref><ref>http: //www.newsweek.com/id/176325</ref>
 
انہوں نے مشہور ٹی وی پروگرام ''کون بنے گا کروڑ پتی'' کی میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دئے۔ فلم انڈسٹری میں ان کی خدمات کے لیے انہوں نے تیس نامزدگیوں میں سے چودہ فلم فیئر ایوارڈ جیتے ہیں۔ وہ اور [[دلیپ کمار]] ہی ایسے دو اداکار ہیں جنہوں نے فلم فیئر بہترین اداکار کا ایوارڈ آٹھ بار جیتا ہے۔ [[2005ء]] میں [[ہندوستان]] کی حکومت نے انہیں بھارتی سنیما کے فی ان کی شراکت کے لئےلیے [[پدم شری]] سے نوازا۔ شاہ رخ خان   ’ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ‘ پروڈکشن کمپنی اور انڈین پریمئر لیگ کی ٹیم ’کولکتہ نائٹ رائیڈز‘ کے مالک بھی ہیں ۔[[ویلتھ ریسرچ فرم ویلتھ ایکس]] کے مطابق کنگ خان پہلے سب سے امیر بھارتی اداکار بن گئے ہیں۔ فرم نے اداکار کی کل جایداد 3660 کروڑ روپے لگایا ہے۔''<ref>http://www.patrika.com/news/shahrukh-khan-now-makes-it-to-richest-indians-list/1027424</ref>
 
== ابتدائی زندگی ==
شاہ رخ خان نے اپنا کیریئر [[1988ء]] میں [[دوردرشن]] کے سیریل "[[فوجی]]" سے شروع کیا جس نے كمانڈو ابھیمنیو رائے کا کردار ادا کیا ۔<ref>http: / /www.mid-day.com/entertainment/television/2002/october/32887.htm</ref> اس کے بعد انہوں نے اور بہت سیریلز میں اداکاری جن میں اہم تھا [[1989ء]] کا "[[سرکس]]" ، جس سرکس میں کام کرنے والے افراد کی زندگی کو بیان کیا گیا تھا اور جس کی ہدایت [[عزیز مرزا]] نے کی تھی ۔ اسی سال انہوں نے [[ارون دھتی رائے]] کی طرف سے لکھا [[انگریزی]] فلم "ان وچ اینی گیوز اٹ دوز ون " (In Which Annie Gives It Those Ones) میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا۔ یہ فلم [[دہلی یونیورسٹی]] میں طالب علم کی زندگی پر مبنی تھی۔<ref>news.bbc.co.uk/2/hi/entertainment/2204900.stm</ref>
 
اپنے والدین کی وفات کے بعد [[1991ء]] میں خان [[نئی دہلی]] سے [[ممبئی]] آ گئے۔ بالی ووڈ میں ان کا پہلا کام "[[دیوانہ (1992 فلم)|دیوانہ]]" فلم میں ہوا جو باکس آفس پر کامیاب رہی ۔<ref>http://web.archive.org/20060408044054/www.boxofficeindia.com/1992.htm</ref> اس فلم کے لئےلیے انہیں [[فلم فیئر]] کی طرف سے بہترین نوآموز اداکار کا ایوارڈ ملا ۔ ان کی اگلی فلم تھی "[[مایا میم صاحب]]" جو کامیاب نہیں ہوئی ۔ <h3> 1993ء تا 1994ء (منفی کرداروں میں )</h3>[[1993ء]] کی ہٹ فلم "[[بازیگر (1993 فلم)|بازیگر]]" میں ایک منفی کردار ادا کرنے کے لئےلیے انہیں اپنا پہلا [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] ملا ۔ اسی سال میں فلم "[[ڈر]]" میں عشق کے جنوں میں پاگل عاشق کا کردار ادا کرنے کے لئےلیے ان سرهايا گیا ۔ اس سال میں فلم "[[کبھی ہاں کبھی نا]]" کے لئےلیے انھیں فلم فیئر مبصرین(کریٹکس) بہترین اداکار کے ایوارڈسے بھی نوازا گیا ۔ [[1994ء]] میں خان نے فلم "[[انجام]]" میں ایک بار پھر جنونی اور نفسیاتی عاشق کا کردار ادا کیا اور اس کے لئےلیے انہیں فلم فیئر بہترین منفی کردار کا ایوارڈبھی حاصل ہوا ۔ <h3>1995 تا 1998ء (رومانوی ہیرو )</h3>[[1995ء]] میں انہوں نے [[آدتیہ چوپڑا]] کی پہلی فلم "[[دلوالے دلہنیا لے جائیں گے (1995ء فلم)|دل والے دلہنیا لے جائیں گے]]" میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ فلم بالی وڈ کی تاریخ کی سب سے زیادہ کامیاب اور بڑی فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے ۔ ممبئی کے کچھ سنیما گھروں میں یہ 20 سالوں سے چل رہی ہے ۔ <ref>http://web.archive.org/20051222235822/www.boxofficeindia.com/alltime.htm</ref> اس فلم کے لئےلیے انہیں ایک بار پھر [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] حاصل ہوا ۔اس فلم نے شاہ رخ خان کو بالی وڈ کا سپر سٹار بنا دیا۔
 
1995ء میں ان کی ایک اور فلم [[کرن ارجن]] بھی سپر ہٹ رہی۔ البتہ 1995ء میں ریلیز ہونے والی دیگر فلمیں اور سال 1996ء ان کے لئےلیے ایک مایوس کن سال رہا چونکہ اس میں ان کی بہت ساری فلمیں ناکامی سے چوچار ہوئیں ، جن میں زمانہ دیوانہ، گڈو، او ڈارلنگ یہ ہے انڈیا، تری مورتی ، انگلش بابو دیسی میم، چاہت اور کوئلہ شامل ہیں ، ان کی بعض فلمیں مثلاً آرمی اور رام جانے اوسط درجے کی رہیں۔ <ref>http://web.archive.org/20061015173528/www.boxofficeindia.com/shahrukhkhan.htm</ref>
 
1997ء میں انہوں نے [[یش چوپڑا]] کی [[دل تو پاگل ہے (1997ء فلم)|دل تو پاگل ہے]]، [[سبھاش گھئی]] کی [[پردیس (1997ء فلم)|پردیس]] اور [[عزیز مرزا]] کی [[يےس باس (1997ء فلم)|يےس باس]] جیسی فلموں کے ساتھ کامیابی کی طرف پھر قدم بڑھایا۔<ref>http: // web .archive.org / 20060408044031 / www.boxofficeindia.com / 1997.htm</ref> سال 1998ء میں کرن جوہر کی بطور ڈائریکٹر پہلی فلم [[کچھ کچھ ہوتا ہے (1998ء فلم)|کچھ کچھ ہوتا ہے]] اس سال کی سب سے بڑی ہٹ قرار پائی اور
شاہ رخ خان کو چوتھی بار [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] حاصل ہوا ۔ اسی سال انہیں [[منی رتنم]] کی فلم '' [[دل سے (1998ء فلم)|دل سے]] '' میں اپنے اداکاری کے لئےلیے فلم مبصرین سے کافی تعریف ملی اور یہ فلم بھارت کے باہر کافی کامیاب رہی۔ <ref>http://web.archive.org/20051223014121/www.boxofficeindia.com/overseas.htm|</ref> <h3>1999ء تا 2003ء (کیرئیر کے اُتار چڑھاؤ)</h3>1999ء کا سال ان کے لئےلیے کچھ خاص فائدہ مند نہیں رہا چونکہ ان کی ایک صرف فلم، [[بادشاہ (1999ء فلم)|بادشاہ]]، ریلیز ہوئی جو اوسط درجے کی رہی۔ <ref>http: // web. archive.org/20040402124634/www.boxofficeindia.com/1999.htm</ref> 2000ء میں [[آدتیہ چوپڑا]] کی [[محبتیں (2000ء فلم)|محبتیں]] میں ان کے کردار کو شدید سے بہت تعریف ملی اور اس فلم کے لئےلیے انہیں اپنا دوسرا [[فلم فیئر مبصرین بہترین اداکار ایوارڈ]] ملا ۔ اس ہی سال آئی ان کی فلم جوش بھی ہٹ ہوئی۔ اس ہی سال میں خان نے [[جوہی چاولہ]] اور عزیز مرزا کے ساتھ مل کر اپنی خود کی فلم پروڈکشن كمپني، 'ڈريمز ان لمیٹڈ'، قائم کی ۔ اس كمپني کی پہلی فلم [[پھر بھی دل ہے ہندوستانی (2000ء فلم)|پھر بھی دل ہے ہندوستانی]]، جس میں شاہ رخ خان اور جوہی چاولہ نے اداکاری کی ، باکس آفس پہ جادو بکھیرنےمیں کامیا ب نہ ہوسکی ۔ [[کمل حسن]] کی فلم [[ہے رام (2000 ءفلم)|ہے رام]] میں بھی خان نے ایک معاون کردار ادا کیا جس کے لييے انہیں بہت سراہا گیا تاہم یہ فلم بھی ناکام ہی رہی۔
 
2001ء میں شاہ رخ خان نے [[کرن جوہر]] کے ساتھ اپنی دوسری فلم '' [[کبھی خوشی کبھی غم (2001ء فلم)|کبھی خوشی کبھی غم]] '' کی جو ایک خاندانی کہانی تھی اور جس میں دیگر کئی معروف اداکار تھے۔ یہ فلم اس سال کی سب سے بڑی ہٹ فلموں کی فہرست میں شامل تھی ۔ شاہ رخ خان کو اپنی فلم [[اشوکا (2001ء فلم)|اشوکا]]،جوکہ تاریخی شہنشاہ [[اشوک]] کی زندگی پر مبنی تھی، کے ليے بھی تعریف ملی لیکن یہ فلم بھی ناكام رہی۔ 2002 ء میں خان نے [[سنجے لیلا بھنسالی]] کی ٹریجڈی اور رومانوی فلم [[دیوداس (2002ء فلم)|دیوداس]] میں اہم کردار ادا جس کے لئےلیے انہیں ایک بار پھر [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] دیا گیا ۔ یہ [[شرت چندر چٹوپادھيائے]] کے ناول [[دیوداس (ناول)]] پر مبنی تیسری ہندی فلم تھی۔اگلے سال شاہ رخ خان کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں، [[چلتے چلتے (2003 ءفلم)|چلتے چلتے]] اور [[کل ہو نہ ہو (2003ء فلم)|کل ہو نہ ہو]] | چلتے چلتے ایک اوسط ہٹ ثابت ہوئی ، لیکن کل ہو نا ہو، جو [[کرن جوہر]] کی تیسری فلم تھی، علاقائی اور بین الاقوامی دونوں باکس آفس میں كامياب رہی ۔ اس فلم میں شاہ رخ خان نے ایک دل کے مریض کا کردار ادا کیا جو مرنے سے پہلے اپنے ارد گرد خوشی پھیلانا چاہتا ہے اور اس اداکاری کے لئےلیے انہیں سرهايا بھی گیا۔<ref>http://web.archive.org/20060212104056/www.boxofficeindia.com/2003.htm</ref><h3>2004 تا 2009ء (حیات نو۔ پھر سے اُبھرنا)</h3>
 
2004ء خان کے لئےلیے ایک اور اہم سال رہا. اس سال کی ان کی پہلی فلم تھی [[فرح خان]] ہدایت [[میں ہوں نا (2004ء فلم)|میں ہوں نا]]، جس میں شاہ رخ خان بھی شریک پروڈیوسرتھے، یہ فلم باکس آفس پر ایک بڑی ہٹ ثابت ہوئی ۔ ان کی اگلی فلم تھی [[یش چوپڑا]] كی '' [[ویر زارا (2004ء فلم)|ویر زارا]] '' جو اس سال کی سب سے کامیاب فلم تھی اور جس سے شاہ رخ خان کو اپنے اداکاری کے لئےلیے بہت ایوارڈ اور بہت تعریف ملی۔
جنوری 2013ء ان کی تیسری فلم تھی [[اشوتوش گوواركر]] ہدایت '' [[سوادیس (2004ء فلم)|سوادیس]] '' جو ناظرین کو سینما گھروں میں لانے میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس میں شاہ رخ خان کے بھارت واپس آئے ایک تارکین وطن بھارتی کے کردار کو سرهايا گیا اور شاہ رخ خان نے اپنا چھٹا [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] جیتا۔<ref>http://web.archive.org/20041027004300/www.boxofficeindia.com/2004.htm</ref>
 
شاہ رخ خان کے ایوارڈز کی مکمل فہرست کے لیے دیکھیے '''[[شاہ رخ خان کے اعزازات]]'''
 
شاہ رخ خان کو سینما انڈسٹری میں نمایاں خدمات سرانجام دینے پر  اور فلم انڈسٹری میں ان کی شراکت کے لئےلیے  کئی اعزازات مل چکے ہیں۔ انہوں نے تیس نامزدگیوں میں سے چودہ فلم فیئر ایوارڈ جیتے ہیں. وہ اور دلیپ کمار ہی ایسے دو اداکار ہیں جنہوں نے ساتھ فلم فیئر بہترین اداکار کا ایوارڈ آٹھ بار جیت لیا ہے۔ 2013 ء میں جنوبی ہند کے تقریبِ ایوارڈ   ‘‘سالانہ وجے ایوارڈز ’’میں شاہ رخ خان لو شیوالیر سیواجی گنیشن ایوارڈ دیا گیا تھا۔ 2014ء میں   شاہ رخ خان کو سالانہ وجے ایوارڈز میں انٹرٹینر آف انڈین  سینما ایوارڈ سے نوازا گیا۔  اسی سال بھارتی سینما کی ترقی کے لئےلیے ان کی  شاندار خدمات پر ایشین  ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔   اس کے علاوہ وہ اپسرا فلم ایوارڈز، ایشین فلم ایوارڈز، سی این این  آئی بی این انڈین آف دا ائیر ایوارڈز،  گلوبل انڈین فلم ایوارڈ،  آئیفا ایوارڈ، سینسئی ویور چوائس ایوارڈ، اسکرین ایوارڈز، اسٹار ڈسٹ ایوارڈز، اسٹار سب سے فیوریٹ کون ایوارڈ، زی سنے ایوارڈ سمیت انڈیا کا تقریباً ہر فلمی  آرکنائزیشن کا ایوارڈ  حاصل کر چکے ہیں، البتہ انہوں نے ابھی تک نیشنل فلم ایوارڈ حاصل نہیں کیا ہے۔ 
 
بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ صرف پردہ سکرین پر ہی ایوارڈ نہیں سمیٹ رہے، بلکہ انکی سماجی خدمات کے اعتراف میں عالمی ادارے یونیسکو نے بھی انہیں بچوں کی تعلیم اور دوسرے سماجی کاموں میں خدمات انجام دینے پر پیرامڈ کون مارنو ایوارڈ سے نوازا ہے۔سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ سے زائد مداحوں کی طرف سے پیروی کئےجانے والے کنگ خان کے فلاحی کاموں میں بھارت کےدیہی علاقوں میں شمسی توانائی کی  فراہمی کا منصوبہ، ممبئی اسپتال میں بچوں کےلیے وارڈ قائم کرنا اور سونامی سے تباہ شدہ علاقوں کے لیےامدادی فنڈ مہیا کرنا شامل ہے۔
 
2005ء میں ہندوستان کی حکومت نے انہیں بھارتی سنیما کے فی ان کی شراکت کے لئےلیے پدم شری سے نوازا۔
 
2015ء میں شاہ رخ خان  کو حکومت فرانس  کی جانب سے آرڈر ڈیس آرٹس اور ڈیس لیٹرز (نائٹ آف آرٹس اور لیٹرز)   اور نائٹ آف لیجن آف آنر اعزاز عطا کیا  کیا۔ 
شاہ رخ خان کے فن کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا گیا اور متعدد بین الاقوامی یونیورسٹیز نے انھیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں سے بھی نوازا ہے۔ شاہ رخ خان کو نہ صرف یونیورسٹی آف بیڈ فورڈ شائر کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری مل چکی ہے بلکہ وہ واحد بالی ووڈ اداکار ہیں جنہیں ”ییلے یونیورسٹی نے”چھب” فیلوشپ سے بھی نوازا ہے۔ شاہ رخ کو 2008 ءمیں امریکی جریدے نیوز ویک نے دنیا کے 50 بااثرترین شخصیات میں شامل کیا تھا۔
 
[[معاشیات]] میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے کیریئر کے آغاز [[1980ء]] میں تھیٹر اور بہت ٹیلی ویژن سیریلز سے کیا جس میں فوجی اور سرکس قابل ذکر ڈرامے ہیں۔ [[1992ء]] میں فلم '' [[دیوانہ]]'' سے اپنے فلمی کیئریر کا آغاز کیا جو ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے لئےلیے انہیں [[فلم فیئر پہلا اداکاری ایوارڈ]] پیش کیا گیا. اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میں منفی کردار ادا جن میں '' [[ڈر(1993ء فلم)|ڈر]] '' (1993ء)، '' [[بازیگر (1993ء فلم)|بازیگر]] '' (1993ء) اور ' '[[انجام (1994ء فلم)|انجام]]' '(1994ء) شامل ہے۔ وہ کئی قسم کی کردار میں نظر آئے اور مختلف-مختلف قسم کی فلموں میں کام کیا جن میں رومانوی ، مزاحیہ ، ایکشن فلمیں اور تاریخی ڈراما شامل ہیں۔
 
ان کی گیارہ فلموں نے دنیا بھر میں 1 بلین روپے کاروبار کیا ہے. خان کی کچھ فلمیں جیسے '' [[دلوالے دلہنیا لے جائیں گے (1995 فلم)|دلوالے دلہنیا لے جائیں گے]] '' (1995ء)، '' [[کچھ کچھ ہوتا ہے (1998 فلم)|کچھ کچھ ہوتا ہے]] ' '(1998ء)، [[دیوداس (2002ء فلم)|' 'دیوداس' ']] (2002ء)، [[چک دے انڈیا (2007ء فلم)|' 'چک دے! انڈیا]] (2007ء)، '' [[اوم شانتی اوم]] '' (2007ء)، [[رب نے بنا دی جوڑی]] (2008ء) اور '' [[را۔ون]] '' (2011ء ) اب تک کی سب سے زیادہ چلنے والی فلموں میں شمار رہی ہے اور دیگر مشہور فلموں میں '' [[کبھی خوشی کبھی غم (2001ء فلم)|کبھی خوشی کبھی غم]] '' (2001ء)، '' [[کل ہو نہ ہو (2003ء فلم)|کل ہو نا ہو]] '' (2003ء)، '' [[ویر زارا (2004ء فلم)|ویر زارا]] '' (2006ء) شامل ہیں۔ اس وقت سے وہ کئی کامیاب فلموں کا حصہ رہے ہیں۔ اپنے فلمی کیئریر میں ابھی تک انہوں نے 7 فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔
 
شاہ رخ خان نے کئی فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے جنہیں فلم بینوں نے ناصرف بے حد پسند کیا بلکہ متعدد فلموں نے باکس آفس پر بزنس کے تمام ریکارڈ اپنے نام بھی کیے۔
بھارتی فلم انڈسٹری کے کنگ اور رومانوی ہیروشاہ رخ خان بالی ووڈ کے افق پر چمکتادمکتا ستارہ ہیں جن کا تذکرہ کیے بغیر فلمی دنیا کا تعارف ادھورا ہے ۔ بالی ووڈ کے کنگ خان کانام فلم کی کامیابی اور ریکارڈ بزنس کی ضمانت سمجھا جاتا ہےاور انہوں نے یہ مقام پانے کے لئےلیے کئی ناکامیوں کا سامنا بھی کیا ہے لیکن اس اتار چڑھاؤ کو کبھی خود پرغالب نہیں آنے دیا۔<ref>http://www.express.pk/story/358315/</ref>
 
* فلم ’’چنائی ایکسپریس ‘‘ کا بالی ووڈ کی اب تک سب سے کامیاب فلموں میں شمارہوتا ہے۔ فلم میں مرکزی کردار شاہ رخ خان نے کیا۔ ’’چنائی ایکسپریس‘‘نے اپنی ریلیز کے پہلے دن سے ہی کئی ریکارڈاپنے نام کرنا شروع کئے۔ رومانوی فلم میں شاہ رخ خان کی ادکاری کو شائقین نے بے حدپسند کیا جب کہ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے بھی اپنے کردار سے خوب انصاف کیا،فلم نے مجموعی طور پر تقریبا4 ارب روپے کاریکارڈبزنس کرتے ہوئے کئی ریکارڈبھی اپنے نام کئے۔
<li> بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان نے فلم ’’بازی گر ‘‘کے بعد منفی ہیرو کا کردار فلم’’ڈان 2 ‘‘ میں ادا کیا جسے فلم بین نے بے حد سراہا، ڈان بالی ووڈ کی بلاک بسٹرفلم ثابت ہوئی ہےجس میں شاہ رخ خان، پریانکا چوپڑاسمیت دیگر اداکاروں نے اپنی جاندار اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جب کہ فلم میں کنگ خان نے انڈرورلڈ ڈان کا کرداراداکیا۔ فلم نے ریلیز ہونے کے بعد کئی ایوارڈاپنے نام کیے بلکہ 100 دن میں دنیا بھر میں2 ارب سے زائد کا ریکارڈ بزنس بھی کیا۔
</li>
* بھارتی فلم انڈسٹری کی سب سے مشہوراوربلاک بسٹر فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘شاہ رخ خان کے فلمی کیرئیرکے لئےلیے بھی فیصلہ کن ثابت ہوئی جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا،بالی ووڈ کی اس کامیاب ترین فلم نے 10 فلم فیئر ایوارڈ سمیت بہترین اداکار،اداکارہ اور ہدایت کار کا ایوارڈ بھی حاصل کیا جب کہ اس نےشاہ رخ اور کاجول کی جوڑی کو مقبولیت کی انتہا پر بھی پہنچادیا۔ اس فلم نے بھارتی فلمی دنیا میں 19 سال سے مسلسل پردہ اسکرین کی زینت بنے رہنے کا منفرداعزازبھی اپنے نام کیا ہے۔
* بالی ووڈ کے رومانوی ہیروشاہ رخ خان کی ایک اور کامیاب بلاک بسٹرفلم’’کچھ کچھ ہوتا ہے‘‘نے بھی باکس آفس پربزنس کے ریکارڈقائم کیے۔ فلم جدید اور مشرقی اقدار کے گرد گھومتی ہے جس میں شاہ رخ خان نے ماڈرن خیالات کے حامی لڑکے اور کاجول نے مشرقی اقدار کی حامل لڑکی کاکردار ادا کیا ہے۔ بالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم نے کئی ایوارڈ اپنے نام کیے۔
* بالی ووڈ کی رومانوی فلم ’’کل ہونا ہو‘‘جذبات سے بھرپورفلم ہے جس نے اپنے اختتام پرفلم بین کی آنکھوں کو نم ہونے پر مجبور کردیا۔بھارتی فلم انڈسٹری کی بلاک بسٹر فلم کو نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں بے حد پسند کیا گیا جب کہ فلم کے گانے کئی عرصہ شائقین کے کانوں میں رس گھولتے رہے۔ فلم کے مرکزی کردار وں میں بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان، سیف علی خان اور اداکارہ پریٹی زنٹاشامل تھے۔ فلم نے شاہ رخ خان کی شہرت کو مزیدعروج پر پہنچایا۔
100,854

ترامیم