"جمال عبدالناصر" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
انہوں نے [[دوسری جنگ عظیم]] کے دوران مصر کو برطانوی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے [[محوری طاقتوں]] خصوصاً اطالویوں سے رابطہ کیا تاہم منصوبے میں ناکام رہے۔ انہوں نے فوج میں ہم خیال افراد کا ایک گروہ تشکیل دیا جو '''حركة الضباط الأحرار''' کہلایا۔
 
اسی گروہ نے 23 جولائی 1952ء کو بغاوت کرتے ہوئے حکومتی دفاتر، ریڈیو اسٹیشنوں، تھانوں اور [[قاہرہ]] میں فوج کے صدر دفتر پر قبضہ کرلیا۔کر لیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں 1948ء کی [[عرب اسرائیل جنگ 1948ء|عرب اسرائیل جنگ]] کے ہیرو جنرل [[محمد نجیب]] مصر کے صدر بن گئے۔
 
[[ملف:Nasser-Time_Mag.jpg|thumb|300px|ناصر 1958ء میں ٹائم میگزین کے سرورق پر]]
صدر ناصر شروع شروع میں ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا تھے جو مغربی ملکوں کے خلاف نہیں تھی لیکن [[1954ء]] کے بعد وہ [[روس]] اور اشتراکی ممالک کی طرف زیادہ جھکنے لگے اور اس طرح مصر اور مغربی ممالک کے درمیان براہ راست کشمکش شروع ہوگئی جس کا پہلا بڑا اظہار [[اسوان بند]] کی تعمیر کے سلسلے میں ہوا۔
 
مصر کی خوشحالی کا تمام تر انحصار [[دریائے نیل]] پر ہے، جس کی وجہ سے مصر کو تحفۂ نیل کہا جاتا ہے۔ نیل کی پانی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے ليے مصری حکومت نے اسوان کے مقام پر پرانے بند کی جگہ ایک نیا اور زیادہ بڑا بند تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا تاکہ مصر میں مزید زمین زیر کاشت آسکے اور پن بجلی بڑی مقدار میں حاصل ہوسکے۔ہو سکے۔ [[امریکہ]]، [[برطانیہ]] اور [[عالمی بینک]] نے اس منصوبے کے لیے قرضہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کرلیاکر لیا تھا لیکن ان ملکوں نے جب دیکھا کہ مصر روس اور اشتراکی ممالک کی طرف مائل ہورہا ہے اور ایک ایسی پالیسی پر چل رہا ہے جو ان کے مفاد کے خلاف ہے تو انہوں نے جولائی 1956ء میں قرضہ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔
 
== سوئز بحران ==
اسوان بند کی تعمیر مصری معیشت کے ليے بنیادی اہمیت رکھتی تھی اس ليے مصر میں امریکہ اور برطانیہ کے فیصلے کے خلاف شدید ردعمل ہوا صدر ناصر نے [[فرانس]] اور [[برطانیہ]] کی زیر ملکیت [[نہر سوئز]] کو قومی ملکیت میں لے لیا اور اعلان کیا کہ اسوان بند نہر سوئز کی آمدنی سے تعمیر کیا جائے گا۔
 
برطانیہ اور فرانس نے مصر کے اس فیصلے کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر سازش کے تحت [[29 اکتوبر]] [[1956ء]] کو اسرائیل کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا جس کے دوران اسرائیل نے [[جزیرہ نمائے سینا]] پر قبضہ کرلیا۔کر لیا۔ اگلے ہفتے برطانیہ اور فرانس نے بھی نہر سوئز کے علاقے میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ برطانیہ اور فرانس کی اس جارحانہ کارورائی کا دنیا بھر میں شدید رد عمل ہوا، امریکہ نے بھی پرزور مذمت کی اور روس نے مصر کو کھل کر امداد دینے کا اعلان کیا۔ رائے عامہ کے اس دباؤ کے تحت برطانیہ اور فرانس کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسرائیل نے بھی جزیرہ نمائے سینا خالی کردیا۔ اس کے بعد [[اقوام متحدہ]] کے دستے مصر اور اسرائیل کی سرحد پر متعین کردیئے گئے تاکہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف جنگی کارروائی نہ کرسکیں۔
 
یہ واقعہ "[[سوئز بحران]]" کہلاتا ہے۔ غیر ملکی افواج کے کامیاب انخلا سے ناصر عرب دنیا میں ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے ابھرے۔
== عرب اتحاد کا نعرہ ==
 
عرب اتحاد کے نقطۂ نظر سے [[1958ء]] سے [[1960ء]] تک کا زمانہ سب سے کامیاب زمانہ کہا جاسکتا ہے۔ فروری 1958ء میں شام میں اشتراکیوں کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے [[شام]] نے [[مصر]] سے الحاق کرلیاکر لیا اور اس طرح دونوں ملکوں پر مشتمل [[متحدہ عرب جمہوریہ]] وجود میں آئی۔ بعد میں یمن اس جمہوریہ کا تیسرا رکن بن گیا لیکن صدر ناصر کی آمرانہ پالیسی کی وجہ سے متحدہ عرب جمہوریہ کی گاڑی زیادہ دن نہ چل سکی۔ سب سے پہلے شام نے بغاوت کی اور وہ [[30 ستمبر]] [[1961ء]] کو مصر سے علاحدہ ہوگیا۔ اس کے بعد یمن کو خود مصر نے متحدہ عرب جمہوریہ سے خارج کردیا۔ اس کے باوجود مصر اپنے ليے 10 سال یعنی ستمبر [[1971ء]] تک متحدہ عرب جمہوریہ کی اصطلاح استعمال کرتا رہا۔
 
== عرب ممالک میں مداخلت ==
 
صدر ناصر اگرچہ اپنے حامیوں کی مدد سے [[عراق]]، [[شام]] اور [[اردن]] میں مداخلت کررہےکر رہے تھے اور [[سعودی عرب]] کے خلاف انہوں نے مسلسل مہم چلائی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان تمام ممالک میں مغربی کٹھ پتلی حکومتیں بادشاہت کی صورت میں قائم تھیں اور ھر فیصلے کے لیے مغرب کی محتاج تھیں۔ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سب سے نمایاں مثال [[یمن]] کی ہے۔ یہاں انہوں نے پہلے تو یمنی حریت پسندوں کے ایک گروہ سے سازش کرکے ستمبر 1965ء میں امام یمن کا تختہ الٹ دیا اور جب اس کے نتیجے میں شاہ پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو صدر ناصر نے اپنے حامیوں کی مدد کے لیے وسیع پیمانے پر فوج اور اسلحہ یمن بھیجنا شرع کردیا اور چند ماہ کے اندر یمن میں مصری فوجوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ بلاشبہ صدر ناصر کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے عرب کے ایک انتہائی پسماندہ ملک یمن میں بادشاہت کا قدیم اور فرسودہ نظام ختم ہوگیا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈال دی گئی لیکن یہ اقدام خود مصر کے ليے تباہ کن ثابت ہوا۔
 
== 6 روزہ جنگ ==
<small>مکمل مضمون کے ليے دیکھئے [[6 روزہ جنگ]]</small>
 
صدر ناصر [[یمن]] کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ [[اسرائیل]] کے مقابلے میں [[روس]] پر مکمل بھروسا کر سکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے لیے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ [[اقوام متحدہ]] کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور [[آبنائے عقبہ]] کو جہاز رانی کے لیے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔ اسرائیل نے جو جنگ کے لیے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسا تھا مصر کی کمزوری کا اندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑا ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی [[فلسطین]] سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں [[جولان]] کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے [[جزیرہ نمائے سینا]] پر بھی قبضہ کرلیا۔کر لیا۔ ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ [[سعودی عرب]] اور [[اردن]] سے مفاہمت پیدا کی اور [[شاہ فیصل]] سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔
 
جون 1967ء کی جنگ کے نتیجے میں غزہ (فلسطین)، اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، [[نہر سوئز]] بند ہوگئی اور مصر [[جزیرہ نمائے سینا]] کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ایک آمرانہ نظام میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ آمر کی جگہ لینے والا آسانی سے نہیں ملتا۔ مصر میں بھی یہی ہوا چونکہ کوئی متبادل رہنما سامنے نہیں آیا اس ليے 9 جون کو استعفی واپس لینے کے ليے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔
جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں [[سعودی عرب]]، [[کویت]] اور [[لیبیا]] نے وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔
 
صدر نے اگرچہ 1968ء میں ایک استصواب رائے کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی حاصل کرلیاکر لیا تھا لیکن ان کی پالیسی کے خلاف اندرونی بے چینی میں برابر اضافہ ہورہا تھا لیکن اس کا اظہار استبدادی نظام کی وجہ سے کھل کر نہیں ہوسکتا تھا لیکن جنوری 1968ء میں طلبہ نے پولیس راج کے خلاف جو مظاہرہ کیا اس سے اس بے چینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ روس کی پالیسی سے عوام غیر مطمئن تھے لیکن اب صدر ناصر کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ روس صرف دفاع کی حد تک اسلحہ دینا چاہتا تھا اور وہ مصر کو اتنا مضبوط نہیں بنانا چاہتا تھا کہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔ اس کے بر خلاف امریکہ نے اسرائیل کو اتنا مسلح کردیا تھا کہ وہ اپنے پڑوس کے تمام عرب ملکوں کے خلاف بیک وقت جارحانہ کارروائی کر سکتا تھا۔ صدر ناصر کو پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ روس فوجی اور اقتصادی امداد کے ذریعے مصر میں کمیونزم کا فروغ چاہتا ہے اور فلسطین سے متعلق عربوں کی پالیسی کو اپنے مفاد کے تحت تشکیل دینا چاہتا ہے۔ آخر کار صدر ناصر نے طے کیا کہ اسلحہ اور اقتصادیات کے معاملے میں صرف ایک ملک پر انحصار مصر کے لیے مفید نہیں ہوسکتا اور 1969ء میں انہوں نے اس مقصد کے لیے مغرب خصوصاً فرانس کی طرف رخ کیا لیکن صدر ناصر کی یہ پالیسی ابھی واضح شکل بھی اختیار نہ کر پائی کہ 28 ستمبر 1970ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث ان کا اچانک انتقال ہوگیا۔
 
== ناصر اور اخوان ==