"موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

5 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (روبالہ: اضافہ سانچہ ناوبکس {{اترپردیش موضوعات}})
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
== چندر گپت موریا ==
[[چندرگپت موریا]]سے تاریخ ہند کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جو شمالی ہند کے اتحاد اور ہندو تمذن کی نشونماہ نظام حکومت کی توسیع اور برہمنت کے اثر و رسوخ کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کرکے ایک متحدہ حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنی مملکت کو خلیج بنگال سے لیکر بحیرہ عرب تک وسیع کیا۔ اس نے اپنے چوبیس سالہ (322ء؁ تا 298ء؁ ق م) دور میں بڑی بڑی جنگیں لڑیں، جس میں سب سے اہم جنگ سکندر کے سالار سلوکس Seleuces سے لڑی۔ سلوکس نے سکندر کے مفتوع علاقوں کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ سلوکس نے 305 ؁ ق م میں پاک وہند کی طرف قدم بڑھایا، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب کی سرزمین پر شکست کھانے کے بعد ایک شرمناک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ جس کے رو سے وہ نہ صرف ہندی مقبوضات سے بلکہ کابل، قندھار، ہرات، اور بلوچستان سے بھی دستبردار ہوگیا۔ نیز تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے اس نے اپنی بیٹی کی شادی چندر گپت سے کردی۔ چندر گپت نے محض اس کی بات رکھنے کے لئے پانسو ہاتھیوں کا تحفہ بھیجا۔
سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز Maghasthenes کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کئے ہیں۔ اس جنگ کے بعد موریا سلطنت کی سرحدیں مکران و افغانستان تک وسیع ہوگئیں۔ جین روایات کے مطابق چندر گپت نے آخری زمانے میں جین مت قبول کرلیاکر لیا تھا اور اس نے تخت سے دست بردار ہوکر حکومت اپنے بیٹے بندو سار Bindusara کو سونپ دی تھی۔ مگر دوسری روایات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔
== بندوسار ==
بندوسار 298 ؁ ق م میں تخت نشین ہوا۔ اس نے تقریباََ پچیس سال حکومت کی۔ بندو سار کے عہد کے حالات معلوم نہیں مگر اس کا لقب امیر گھاتا (دشمن کش) تھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک جنگجو حکمران تھا۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس نے دکن فتح کرلیاکر لیا تھا۔ کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر درست ہے کہ اشوک نے صرف کلنگا Kalinga کو ہی فتح کیا تھا۔ سلوکس نیکتر سے اس کے دوستانہ تعلقات تھے۔ سلوکس نے اپنے سفیر دیماکوس کو اس کے دربار میں بھیجا تھا۔
 
تاریخ کا طالب علم یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اگرچہ بندوسار اپنے دور کا ایک عظیم حکمران تھا مگر وہ اپنے عظیم باپ (چندر گپت) اورشان وشوکت والے بیٹے (اشوک ) کے درمیان دبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
 
== اشوک ==
بندوسار کے بعد273 ؁ یا 273 ؁ق م میں اشوک Ashoka اس کا بیٹا جانشین ہوا۔ اس حالات خود اس کے لاٹوں اور کتبوں سے ملتے ہیں۔ اس کی تاجپوشی کی رسم چار سال کے بعد269 ؁ ق م میں ادا کی گئی۔ مگر اس کی حکومت کے ابتدائی چارسال کے حالات بالکل معلوم نہیں ہیں اور جو کچھ مذہبی کتابوں میں ملتے ہیں ان پر مذہبی رنگ غالب ہے۔ ان مذہبی روایات میں بتایا گیا ہے، کہ اشوک اپنے 99 بھائیوں کو قتل کرکے تخت حاصل کیا تھا۔ مگر دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی حکومت کے سترویں یا اٹھارویں برس تک اس کے بھائی زندہ تھے اور وہ ان کی خبر گیری کرتا تھا۔ پھر بھی یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ تخت نشینی کی عام روایات کے مطابق اسے اپنے بھائیوں جنگ کرنی پڑی ہو اور چند کا اسے خون بھی بہانا پڑا ہو، جیسا کہ اس کی پانچویں لاٹ سے پتہ چلتا ہے۔ غرض اس کی حکومت کے ابتدائی حالات کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ تخت نشینی کے بارہ سال تک وہ غیر اہم زندگی بسر کرتا تا رہا اور شاید اپنا وقت انتظامی امور پر توجہ دی اور 261 ق م میں مہاندی اور گوادری کے درمیان غیر آریائی ریاست کلنگاKulinga پر حملہ کر کے اس ریاست کو فتح کرلیا۔کر لیا۔ اس طرح موریا کی توسیع جنوبی ہند تک ہو گئی۔
کلنگا کی فتح نے اشوک کے دماغ پر گہرا اثر دالا۔ کیوں کہ اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ جنگی تباہ کاریاں دیکھ کر اشوک سخت متاسف ہوا اور اس نے ارادہ کرلیاکر لیا کہ وہ کبھی جنگ نہ کرے گا۔ اس واقع کے بعد اس نے اپنی بقیہ زندگی اخلاقی تعلیمات پھیلانے، برائیوں کو روکنے اور بھلائیوں سے آشنا کرنے میں صرف کردی۔
اشوک نے دور دراز کے ملکوں مثلاََ لنکا، برما، سیام، سماٹرا، شام، مقدونیہ اور مصر میں اپنے مغلبین بھیجے۔ انہوں نے جنوبی ملکوں میں شاندار کامیابی حاصل کیں۔ اشوک نے بدھ کی اخلاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے انہیں پتھروں کی سلوں کی پر کندہ کرا کر انہیں شاہراؤں پر نصب کروائے۔ اس کی تعلیمات جو بدھ سے ماخذ ہیں ان میں عدم تشد، جانداروں کی زندگی کی تحریم، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک، ماں اور باپ اور استادوں کی تعظیم، راست گوئی، عام ہمدردی اور فیاضی پر ذور دیا گیا ہے۔ اس نے مختلف مقامات پر مسافر خانے، کنوئیں اور شفاخانے تعمیر کرائے۔ نیز جانوروں کو ہلاک کرنا ممنوع قرار دیا۔ اشوک نے اپنی حکومت کے چوبیسویں سال مقدس مقامات کی زیارت کی اور گوتم کی یاد میں لمبنی باغ قریب جہاں گوتم پیدا ہوا تھا ایک مینار نصب کرایا۔ علاوہ ازیں اشوک نے بدھ مت کے فرقوں کے اختلاف ختم کروانے کے لئے ایک مجلس منعقد کروائی۔
اشوک کو عمارتیں بنوانے کا شوق تھا۔ اس نے مختلف مقامات پر عالی شان محلات، خانقائیں اوراسٹوپے Stups تعمیر کروائے جن کے نشانات اب نہیں ملتے ہیں۔ اس نے سنیاسیوں کی عبادت کے لئے گیا کے قریب برابر کے پہاڑوں میں چٹانوں کو کاٹ خوب صورت اور بہت ہی صاف سفاف خانقائیں بنوائیں جو اب بھی باقی ہیں۔ مگر اس کی تمام یادگاروں میں اہم اس کے کتبہ ہیں جو تعداد میں تیس ہیں۔ یہ کتبہ زیادہ تر چٹانوں کی سلوں، غاروں کی دیواروں اور ستونوں پر کندہ ہیں برصغیر کے بہت سے حصوں میں پائے گئے ہیں۔ ان کی زبان پراکرت ہے، یعنی وہ مقامی زبانوں میں ہیں۔ ان کتبوں میں دو کا رسم الخط وہ ہے جسے آج کل کروشتھی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ رسم الخظ قدیم آرامی رسم الخظ سے ماخوذ ہے اور دائیں سے بائیں لکھا جاتا تھا۔ بقیہ کتبے براہمی حروف کے کسی نہ کسی شکل میں کندہ۔ یعنی ان حروف میں ہیں جن سے موجودہ دیوناگری رسم الخط نکلا ہے۔ یہ حروف دائیں سے بائیں لکھے جاتے تھے۔ یہ کتبات شاہی فرامین ہیں اور زیادہ تر اخلاخی اصول بدھ کی عام تعلیمات، نظم و نسق اور اصول سلطنت پر مشتمل ہیں۔
== نظام حکومت ==
موریا حکومت اس دور کی دوسری ہندی حکومتوں کی طرح شخصی، مورثی اور مطلق العنان تھی۔ راجہ دیوتا کا نائب اور اس کی طاقتوں کا مظہر تھا۔ تمام عدالتی، انتظامی اور فوجہ اختیارات صرف اسے حاصل تھے۔ مگر وہ اکیلا تمام امور انجام دے نہیں سکتا تھا۔ اس لیے اس نے مشیروں ایک مجلس ”منتری پریشد“ Mantri Parishad قائم کر رکھی تھی جو امور میں اس کو مشورہ دیتی تھی۔ اس مجلس کے علاوہ اعلیٰ احکام کا ایک طبقہ تھا جو حکومت کے فرائض انجام دیتا تھا۔ اس طبقہ کے اندر منترن Mantrin یعنی مشیر خاص پرہت Prohita یعنی مذہبی امور کا نگران۔ اپاک Uparika یعنی صوبہ دار آدھی کارنیک Adikarnika یا پرادو یواک Prpvivaka یعنی قاضی، سینا پتی Senapati یعنی سپہ سالار اور راجوک Rajuka یعنی حاکم ضلع شامل تھے۔ اشوک کے عہد میں ایک نیا عہدہ دھرم مانز Dhama Manmtra یعنی محتسب کا عہدہ قائم کیا گیا تھا۔ جس کا کام مذہبی امور نافذ کرنا تھا۔ یہ تمام عہدے دار مورثی ہوتے تھے۔
انتظامی امور کے لحاظ سے سلطنت صوبوں، ضلوں اور پرگنوں میں بٹی ہوئی تھی۔ جن کا انتظام راجہ کے مقرر کردہ احکام کیا کرتے تھے۔ اس کے علاہ معتدد ریاستیں اور جاگیریں تھیں۔ جو راجہ کی بالادستی کو تسلیم کرتی تھیں۔ ان کے حکمرانوں کو راج Raja، ادھیر راج Adhirajaاور مہا سامنت Mahasamanta کے القاب سے یاد کیا جاتا تھا۔ یہ اپنی رہاستوں میں آزاد تھے اور راجہ کو ایک طہ شدہ رقم ادا کیا کرتے تھے۔ راجہ ان سے بوقت فوج طلب کرلیاکر لیا کرتا تھا۔ جشن کے موقع پر بیش قیمت نذرانے راجہ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹے اکثر راجہ کے دربار میں ہی تربیت حاصل کرتے تھے۔
ان میں سے بعض حکمران جو سامنت کہلاتے تھے بہت طاقت ور ہوا کرتے تھے اور وہ راجہ کے خلاف بغاوت کر سکتے تھے، کیوں کہ ان کی فوج جدا گانہ اور ان کا نظام اپنا ہوتا تھا۔ اس لیے ان پر اپنی بالادستی کے سخت نگرانی اور فوج رکھی جاتی تھی۔
شہروں کے انتظام کے متعلق یونانی سفیر مگھشتر کے بیان کے مطابق ایک تفصیل ملتی ہے۔ ’وہ کہتا ہے کہ دارلحکومت پاٹلی پتر کے نظم و نسق کے لیے ایک مجلس تھی جو تیس اراکین پر مشتمل تھی اور وہ مزید چھ ذیلی مجلسوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک صنعت وحرفت کی نگرانی کرتی تھی۔ دوسری مسافروں اور غیر ملکی تاجروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ تیسری پیدائش اور موت کا اندراج کرتی ہے۔ چوتھی تجارت کے متعلق تھی۔ پانچویں مصنوعات کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ چھٹی ان محصولات سے تعلق رکھتی تھی جو فروخت شدہ مال سے وصول کئے جاتے تھے۔