"ہرمزان" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
(گروہ زمرہ بندی: حذف از زمرہ:سال پیدائش نامعلوم)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
== حالات زندگی ==
[[ایرانی|ایرانیوں]] کا نامی سردار ہرمزان [[جنگ قادسیہ]] سے فرار ہو کر صوبہ [[اہواز]] کے دارالصدر [[خوزستان]] میں آ کر فوجیں جمع کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگیا جس نے اپنی حدود حکومت کو وسیع کرنا شروع کیا [[کوفہ]] و [[بصرہ]] کی چھاؤنیوں سے اسلامی افواج نے اس پر حملہ کیا اور شکست پر شکست دے کر صوبہ اہواز پر اپنا قبضہ کر لیا اس نے جزیہ دے کر مسلمانوں سے صلح کر لی‘ پھرچند روز کے بعد ہرمزان نے بغاوت اختیار کی اور مقام [[سوق اہواز]] میں اسلامی فوج سے شکست کھا کر مقام [[رام ہرمز]] میں جا کر پناہ لی۔دوسری مرتبہ ہرمزان نے عاجز ہو کر پھر صلح کی درخواست کی اور ادائے جزیہ کی شرط پر مسلمانوں نے باقی علاقہ ہرمزان کے قبضہ میں چھوڑ کر اس سے پھر صلح کر لی‘ سیدنا [[حرقوص العنبری|حرقوص بن زہیر سعدی]] فاتح اہواز نے جبل اہواز پر ڈیرے ڈال کرعلاقہ اہواز کے ویران شدہ شہروں کی آبادی کا کام شروع کیا۔
تیسری مرتبہ ہرمزان میدان میں نکلا‘ لڑائی ہوئی‘ ہرمزان کو شکست فاش حاصل ہوئی اور مسلمانوں نے رام ہرمز پر قبضہ کر لیا‘ ہرمزان شکست خوردہ فرار ہو کر مقام [[تستر]] میں پہنچ کر مسلمانوں کے خلاف فوجیں جمع کرنے لگا تستر کے قلعہ کی مرمت بھی کرا لی‘ چاروں طرف خندق کو بھی درست کرلیاکر لیا اور برجوں کی پورے طور پر مضبوطی کر لی‘ ایرانی فوجیں بھی تستر میں اس کے پاس آ کر جمع ہونے لگیں‘ ان حالات سے مطلع ہو کر [[عمر فاروق|فاروق اعظم]] نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری کو بصرہ کی افواج کا سردار بنا کر بھیجا۔
== ہرمزان بطور قیدی ==
[[ابو موسیٰ اشعری]] نے تسترکی جانب حرکت کے قریب پہنچ کر لڑائیوں کا سلسلہ جاری کیا‘ ہرمزان نے اول کئی معرکے میدان میں کئے‘ پھر تستر میں محصور ہو کر مدافعت میں مستعد ہوا‘ بہت سی لڑائیوں اور حملہ آوریوں کے بعد شہر تستر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا‘ ہرمزان نے تستر کے قلعہ میں پناہ لی‘ قریب تھا کہ قلعہ پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہو جائے کہ ہرمزان نے ابوموسیٰ کی خدمت میں یہ درخواست بھیجی کہ میں اپنے آپ کو اس شرط پر تمہارے سپرد کرتا ہوں کہ مجھ کو فاروق اعظم کی خدمت میں بھیج دیا جائے اور میرے معاملہ کو انہیں کے فیصلہ پر چھوڑ دیا جائے‘ ابو موسیٰ نے اس شرط کو منظور کر لیا‘ چنانچہ ہرمزان کو [[انس بن مالک]] اور [[احنف بن قیس]] وغیرہ کی ایک سفارت کے ہمراہ مدینہ منورہ کی جانب روانہ کیا گیا۔