"فوق ایصالیت" کے نسخوں کے درمیان فرق

صفائی بذریعہ خوب, replaced: جاۓ ← جائے (4)
م (اضافہ زمرہ جات)
(صفائی بذریعہ خوب, replaced: جاۓ ← جائے (4))
[[تصویر:Magnet 4.jpg|thumb|350px|left|ایک [[مقناطیس]] جو ایک [[بلند درجۂ حرارت فوقی موصل]] پر معلق ہوکر ہوا میں تیر رہا ہے اس '''فوقی موصل''' کو [[مائع نائٹروجن]] کی مدد سے منفی 200 درجے تک ٹھنڈا کیا گیا ہے۔]]
 
فوق ایصالیت یا superconductivity ایک ایسا مظہر ہے کہ جو بعض [[مادہ|مادوں]] میں اس وقت دیکھنے میں آتا ہے کہ جب انکا درجہ حرارت انتہائی حد تک گرا دیا جاۓ۔جائے۔
اور فوق ایصالی کا یہ مظہر دو اہم خصوصیات کے باعث نمودار ہوتا ہے، اول اس مادے کی [[برقی مزاحمت]] کا ختم ہوجانا اور دوم [[مقناطیسی میدان]] سے استشناء ، یعنی مقناطیسی میدان کا ناپید یا یوں کہ لیں کہ غیرموثر ہوجانا (اس کو [[میسنر اثر]] Meissner effect کے مطابق کہا جاتا ہے)۔
 
کسی [[دھات]]ی [[موصل (ضد ابہام)|موصل]] کی [[مزاحمیت|برقی مزاحمیت]] اسکا [[درجہ حرارت|درجۂ حرارت]] کم ہونے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی رہتی ہے ، مگر عام دھاتیں (مثلا [[تانبا]] ، [[چاندی]] وغیرہ) اپنے اندر خاصی مقدار میں ملاوٹیں رکھتی ہیں جو انکے [[مزاحمیت|برقی مزاحمیت]] کے کم ہوتے رہنے کی ایک حد معین کردیتی ہیں ، یعنی درجۂ حرارت کم ہونے کے ساتھ ساتھ انکی مزاحمیت ([[مزاحمیت|resistivity]]) کم ہوتے ہوتے صفر تک کبھی نہیں پہنچ پاتی۔ یہاں تک کہ انکا درجۂ حرارت [[مطلق صفر]] کے انتہائی قریب تک گرا دینے کے باوجود انکی مزاحمت ہمیشہ غیرصفری (یعنی کچھ نہ کچھ باقی) رہتی ہے۔
 
جبکہ دوسری جانب ایک فوقی موصل (superconductor) کا اگر درجۂ حرارت کم کیا جاۓجائے تو اسکی برقی مزاحمت (resistance) گر کر صفر تک جاپہنچتی ہے اور ایسا عموما{{دوزبر}} 20 [[کیلون]] درجۂ حرارت پر ظہور پزیر ہوتا ہے۔ اب اس بات کو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی فوقی موصل میں برقی مزاحمت مکمل طور پر صفر تک پہنچ جاۓجائے تو پھر ایسے [[موصل (ضد ابہام)|موصل]] ([[مُوَصِّل|conductor]]) سے بنے ہوۓ کسی برقی تار میں اگر [[برقی رو|جار برقی]] کو گزارہ جاۓجائے تو وہ اس میں ہمیشہ کے لیے اسی طرح قائم رہ سکتا ہے بلا کسی بیرونی توانائی کی رسائی کے۔
 
== بیرونی ربط ==
43,445

ترامیم