"کارگل جنگ" کے نسخوں کے درمیان فرق

درستی املا
(صفائی بذریعہ خوب, replaced: ہوجائے ← ہو جائے)
(درستی املا)
 
== کارگل کا جغرافیہ ==
لداخ اور سری نگر کا واحد زمینی راستہ یہاں سے گزرتا ہے۔ سیاح چین پر موجود بھارتی افواج کی کمک و رسد کے لئےلیے کارگل کا راستہ ہی بہتر راستہ ہے۔ کارگل تا سیاچن تک کا راستہ سال کے دس مہینوں تک برف کی قید میں رہتا ہے اور صرف دو ماہ کے لئےلیے یہ شاہراہ سیاچن کے برف پوش پہاڑوں تک پہنچنے کے لئےلیے استعمال کی جاتی ہے۔بھارت کو انہی مہینوں میں فوجی چیک پوسٹس اور فوجی یونٹوں میں کام کرنے والے بھارتی لشکر کی خوراک اور دیگر ضروریات کو سیاچن کی چوٹیوں تک لیجانے کا ٹاسک پورا کرنا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں پہاڑیاں اور سیاچن پاکستانی ملکیت تھے جہاں بعد ازاں بھارتی فورسز نے قبضہ جمالیا تھا۔<ref name="اردو نیوز">[http://urdunews.net/details.asp?nid=300094 اردو نیوز]</ref>
 
== حقائق ==
 
=== بھارتی فوجی ٹریبونل کا کارگل جنگ کی تاریخ دوبارہ لکھنے کا حکم ===
بھارت میں ایک فوجی ٹریبونل نے حکم دیا ہے کہ 1999 میں وقوع پزیر ہونے والی کارگل جنگ کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے۔ فوجی ٹریبونل نے یہ حکم اس انکشاف کے بعد دیا کہ کارگل جنگ میں [[باٹالیک]] سیکٹرمیں تعینات بریگیڈیر دیوندر سنگھ کی جنگ کی رپورٹس کو لیفٹیننٹ جنرل کشن پال نے تبدیل کردیاکر دیا تھا جس کے یہ رپورٹ فوجی تاریخ کا حصہ بن گئی۔بھارتی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیر دیوندر سنگھ نے کہا کہ کارگل پر ان کی رپورٹ کو ان کے سینئر افسران نے غیر حقیقی قرار دے کر اس میں تبدیلیاں کی تھیں۔تاہم گیارہ سال بعد فوجی ٹریبونل نے ان کی اصل رپورٹ کی حمایت کی۔ <ref>[http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=89461 روزنامہ جنگ]</ref>
 
=== پرویز مشرف کا متنازع کردار ===
سابق پاکستانی جنرل و صدر [[پرویز مشرف]] کا کردار کارگل جنگ کے حوالے سے منتازعہ رہا ہے۔ پرویز مشرف نے بھارت کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کارگل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے سبب ہی کشمیر کے مسئلے پر بھارت پاکستان سے مذاکرات کے لیے رضامند ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے نئی دہلی کے روئیے میں تبدیلی آئی تھی اور وہ مذاکرات کے ذریعے [[کشمیر]] کے تنازعے کے حل کے لیے تیار ہوا تھا۔ <ref>[http://web.archive.org/web/20120206010617/http://www.voanews.com/urdu/news/musharraf-kargil-24july2009-51572872.html وائس آف امریکہ]</ref>
 
بھارتی فوج کے سابق سربراہ [[وی پی ملک]] نے کہا کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کارگل جنگ کے بارے میں جھوٹ بولا۔ انھوں نے کہا کہ کارگل جنگ کے بارے میں پرویز مشرف نے مسلسل اپنے بیانات تبدیل کئے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مشرف نے کہا تھا کہ کارگل میں فوج کے بجائے مجاہدین لڑ رہے ہیں، اس کے بعد مشرف نے تسلیم کیا کہ کارگل جنگ فوج نے لڑی۔ کارگل کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کرنے کے پرویز مشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کارگل میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں کو پاکستان نے تسلیم نہیں کیا اور ان کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا۔کر دیا۔ [http://www.urdupoint.com/muusharraf_in_sprim_cort/News43-10-99-103680.html اردو پوائنٹ]
 
=== کارگل جنگ میں اسرائیل کا کردار ===
10فروری 2008 کو نئی دہلی میں [[اسرائیل]] کے سفیر [[مارک سوفر]] نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک نے 1999ء میں پاکستان کے ساتھ کارگل کی جنگ کا رخ بدلنے میں بھارت کی مدد کی تھی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک ہفت روزہ "آﺅٹ لک" کو انٹرویو میں اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ کس طرح کارگل کے بعد دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو فروغ حاصل ہوا جب اسرائیل نے ایک نازک مرحلے پر زمینی صورتحال بدلنے میں بھارت کو بچایا۔ سفیر نے کہا:
{{اقتباس|میرا خیال ہے ہم نے بھارت کو ثابت کیا کہ وہ ہم پر بھروسہ کر سکتا ہے اور ہمارے پاس اسکے لئےلیے وسائل موجود ہیں۔ ضرورت کے وقت ایک دوست ہی حقیقی دوست ہوتا ہے۔}}
اسرائیلی سفیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت اسرائیلی تعلقات اسلحے کی خرید و فروخت سے آگے بڑھیں گے۔ اس نے مزید کہا:
{{اقتباس|ہمارے بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات خفیہ نہیں، تاہم جو بات خفیہ ہے وہ یہ ہے کہ دفاعی تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور تمام احترام کے ساتھ خفیہ حصہ ایک راز رہے گا۔"<ref>[http://www.app.com.pk/ud_/index.php?option=com_content&task=view&id=13640&Itemid=9 ایسوسی ایٹ پریس آف پاکستان]</ref>}}
43,445

ترامیم