"عبرانی بائبل" کے نسخوں کے درمیان فرق

درستی املا
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
(درستی املا)
 
==نسخہ جات کی خصوصیت==
یہ تمام نسخہ جات جو دوَرِ حاضرہ  میں دستیاب ہوئے ہیں تقریباً  لفظ بلفظ  اور حرف بحرف ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اور شاذونادر ان دو ہزار  نسخہ جات میں (جو مختلف  ممالک سے ملے ہیں اور مختلف  زمانوں میں مختلف  کاتبوں کے ہاتھوں  لکھے گئے ہیں) کوئی اختلاف ہم کو نہیں ملتا، یہاں تک کہ اگر کسی کاتب  نے کسی لفظ پر کسی  خاص وجہ  سے کوئی نشان لگادیا تو مابعد کے کاتبوں نے اس نشان کو بھی نقل کردیاکر دیا ہے۔ مثلاً پیدائش  33: 4 میں ہے ۔" [[عیسو]] اس کو (یعنی [[یعقوب]] کو) ملنے دوڑا  اوراسے گلے لگایا اوراس کی گردن سے لپٹا  اور اسے چوما۔" قدیم زمانہ میں کسی کاتب نے  الفاظ "اور اسے چوما" پر نقطے لگادئیے اوریوں لکھ دیا "اسے چوما ۔" مابعد کے کاتبوں نے ایسی صحت کے ساتھ اس نسخہ کو نقل کیا کہ  آج تک ہماری عبرانی بائبل میں ان الفاظ پر  نقطے چھاپے جاتے ہیں۔  اور کوئی نہیں جانتا کہ  ان لفظوں کا کیا مطلب ہے۔ ایک یہودی ربی کا قول ہے، کہ عیسو نے یعقوب کو چومتے وقت دانتوں سے کاٹا تھا اور یہ نقطے اس کے دانتوں کے نشان ظاہر کرتے ہیں! بہر حال  یہ دو ہزار  نسخے  اس قدر صحت  کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں کہ ان کے نقطے اور شوشے بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
 
==نسخوں کی تعداد==
 
==نسخوں کے ضائع ہونے کے اسباب==
#جب یروشلیم 70ء میں برباد ہوگیاہو گیا اور قوم یہود خستہ حال اور پراگندہ  ہوگئی تو یہودی لیڈروں نے اپنی قومی روایات کو برقرار اور قائم رکھنے کےلیے  100ء میں ایک مجلس منعقد کی ۔ اس مجلس نے ان تمام کتب  کو جواب عہد عتیق  کے مجموعہ میں شامل ہیں کتبِ مقدسہ قراردے دیا اور یوں یہ کتابیں  ضائع ہونے سے بچ گئیں۔ علاوہ ازیں  اس مجلس نے ان پاک کتابوں  کی صحت  کے ساتھ نقل کرنے کے لیے قوانین وقواعد  بھی وضع  کیے۔
#بادشاہ اینٹی اوکس ایپی فینیز (Antiochus Epiphanies) نے جو اہل یہود کا جانی دشمن تھا اپنے عہد میں 175 تا 164 قبل مسیح اہل یہود کو ایسی ایذائیں دیں جن کے تصور  سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ عبرانی کتبِ مقدسہ کے نسخہ جات  جہاں کہیں ملیں تلف کردیئے جائیں اور اگروہ کسی شخص کے پاس ملیں تو وہ جان سے مارا جائے (1مکابی 1: 54 یا 58) ظاہر ہے کہ اس ایذا رسانی کی وجہ سے  کتب مقدسہ  کے متعدد نسخے ضائع ہوگئے۔
#قرون وسطیٰ میں اور بالخصوص  صلیبی جنگوں کے زمانہ میں متعصب  مغربی مسیحی اہل یہود  سے نفرت اور کینہ رکھتے تھے اور ان کے جنون  نے عبرانی کتب مقدسہ کے بہت سے نسخے اور بالخصوص  تورات  کے نسخے  نذر آتش کردئیے۔
#اہل یہود کا یہ دستور تھا ، (اور یہ دستور دورِ حاضرہ میں بھی مروج ہے) کہ کتب مقدسہ  کے نسخے جو کسی وجہ سے استعمال کےقابل نہ رہتے تھے ، بڑے ادب سے دفن کردئیے  جاتے تھے تاکہ خدا کا کلام بے حرمتی سے محفوظ رہے۔ اورگلی کوچوں میں پاؤں کے نیچے روندانہ جائے اس غرض کے لیے ہر یہودی  عبادت خانہ کے ساتھ ایک [[مدفن (یہودیت)|مدفن]] ہوتا تھا ، جہاں نہایت معمولی عیوب کی وجہ سے بھی نسخے دفن کردئیے جاتے تھے۔ مثلاً اگر کسی  صفحہ پر کاتب کی دو سے زیادہ غلطیاں  بھی مل جاتیں تو وہ صفحہ احتیاطاً  دفن کردیاکر دیا جاتا۔ [[شول|یہودی عبادت خانوں]] کے نسخہ جات  کے طومار جو روزانہ تلاوت کے باعث پھٹ جاتے تھے دفن کردئیے جاتے تھے ۔اہل یہود میں دستور تھا کہ کلام اللہ کے جس حصہ کو روزانہ  پڑھتے اس کے شروع اور آخر کے الفاظ کو بوسہ دیتے تھے اوراس طرح مدتِ مدید کے بعد یہ الفاظ  مٹ جاتے یا بخوبی نظر نہ آتے تھے ۔ اہل یہود ایسے نسخہ جات کو بھی دفن کردیتے تھے۔
 
مذکورہ بالا اور دیگر وجوہ کے باعث ہمارے پاس کتُب عہد عتیق  کے پرانے نسخے  موجود نہیں ہیں اور جو موجود بھی ہیں وہ تقریباً سب کے سب یا تو غیر اقوام کے دارالعلوم اور کتُب خانوں سے یا انہی یہودی دفن گاہوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔
حال ہی میں خبر ملی<ref>The Times of India, Delhi 9th March, 1965.</ref> ہے کہ عبرانی کا ایک قدیم ترین نسخہ حیدرآباد (دکن ۔ واقع ہندوستان) سے دستیاب ہوا ہے جو کھجور کے پتوں (Palm Leaves) پر لکھا ہے۔ یہ نسخہ عثمانیہ یونیورسٹی کی سنسکرت  اکاڈیمی میں سالہا سال سے محفوظ تھا۔ اس نسخہ  پر تورات کی پہلی کتاب پیدائش کا 37واں  باب عبرانی میں لکھا ہے۔
 
یروشلیم کی عبرانی اکاڈیمی کے فضلا اس نادر نسخہ کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ کسی یہودی  عالم نے دوہزارسال ہوئے لکھا تھا جب یروشلیم  کی تباہی  کے بعد اہل یہود جنوبی ہند نقل مکانی کرکے آگئے تھے۔<ref> "مقدس توما رسول ہند" از علامہ برکت اللہ صفحہ 95</ref> یہ نسخہ اس لحاظ سے بھی یکتا ہے کہ دنیا بھر کے نسخوں میں یہی ایک نسخہ ہے جو کھجور کے پتوں پر لکھا ہے۔
 
==مزید دیکھیے ==
43,445

ترامیم