"ملا عمر" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
درستی املا
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
(درستی املا)
 
== حلیہ اور شخصیت ==
ملا محمد عمر مقامی کسانوں کی بولی بولتے تهے- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے تهے- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کے لیے اپنے دوست [[اسامہ بن لادن]] کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہوگیاہو گیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے۔[[افغانستان میں سوویت جنگ]] کے دوران روسیوں کیخلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی [[اوریا مقبول جان]] کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں [[چمن]] میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی،ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہورہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے،وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے [[صوبہ کندہار]] سے شروع کیا۔
 
== اسامہ اور عمر ==
 
==امریکہ کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگ==
{{اس|افغانستان میں سوویت جنگ|جنگ افغانستان 2002ء|جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)}}1979ء جب [[سوویت اتحاد]] یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا،روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لئےلیے روس ایک اور خودمختار ملک افغانستان میں کھود پڑا، اسی بات نے پورے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کیلئےکے لیے [[افغان مجاہدین|مجاہدین]] کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان،سعودی عرب،امریکہ سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہوگئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دیا جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ [[سویت اتحاد]] جو ایک عظیم ملک تک جو ایشیاء اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا،شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور تکڑے تکڑے ہوگیاہو گیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں [[روس]]، [[ازبکستان]]، [[ترکمنستان]]، [[تاجکستان]]، [[آرمینیا]]،[[یوکرین]]، [[جارجیا]] وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں [[اسلامی امارت افغانستان]] قائم ہوا جس کو [[پاکستان]] اور [[سعودی عرب]] نے کھل کر تسلیم کیا۔
 
اس کے بعد [[سانحہ گیارہ ستمبر]] (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکہ نے [[اسامہ بن لادن]] پر لگایا۔اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی ، یاد رہے کہ اس وقت [[اسلامی امارت افغانستان]] کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکہ نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور [[پشتونوالی|پشتون روایات]] کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا۔کچھکر دیا۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علماء کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علماء نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہر گز اس کو دشمن کے ہاتھوں حوالے مت کرنا۔
 
اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکہ نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہوگئی۔امریکہ کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرف [[اسلامی امارت افغانستان]] کے پاس اتنے وسائل اسلئے نہیں تھے کیونکہ امریکہ کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکہ کیخلاف [[اسلامی امارت افغانستان]] کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہوگئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ [[جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)|امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ]] 2001 میں شروع ہوئی تھی اور تاحال جاری ہے۔
 
==وفات==
29 جولائی 2015 کو افغان مخابرات نے یہ خبر دی تھی کہ ملا محمد عمر کا[[کراچی]] میں انتقال ہوگیاہو گیا ہے ، کچھ طالبان نے اس بات کی تردید کردی تھی کیونکہ [[مری]] میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہور رہے تھے،لیکن جب اس خبر نے زور پکڑ لیا تو افغان طالبان نے 30 جولائی 2015 کو اس بات کی تائید کردی کہ ملا عمر کا [[صوبہ ہلمند]] میں انتقال ہوا تھا طالبان کے مطابق اُن کی وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔وفات کے وقت اُن کے ساتھ ان کے اہم کمانڈر عبد الجبار تھے۔ کمانڈر عبد الجبار نے ہی طالبان کے پانچ اہم کمانڈروں کو ملا عمر کی موت کی اطلاع دی۔ طالبان نے یہ بھی بتایا کہ نائب امیر [[ملا اختر منصور]] افغان طالبان کے نئے امیر ہونگے<ref>[http://daily.urdupoint.com/news/2015-07-31/important-news-204960.html افضان طالبان کی ملا عمر کی وفات کی تصدیق]</ref>۔
 
==حوالہ جات==
[[زمرہ:افغانستان کے سربراہان ریاست]]
[[زمرہ:افغان اسلام پسند]]
 
[[زمرہ:1960ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:افغان مذہبی رہنما]]
 
[[زمرہ:بیسویں صدی کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1960ء کی دہائی کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:طالبان]]
[[زمرہ:پشتون شخصیات]]
 
[[زمرہ:صوبہ قندھار کی شخصیات]]
[[زمرہ:افغان شخصیات]]
43,445

ترامیم