"سورہ یوسف" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  4 سال پہلے
درستی
(درستی املا)
(درستی)
== زمانۂ نزول و سبب{{زیر}} نزول ==
 
==== مزید دیکھیںدیکھیے: [[یوسف آیت 1 تا 3]]، [[یوسف آیت 7]] ====
اس سورت کے مضمون سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بھی زمانۂ قیام [[مکہ]] کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ قریش کے لوگ اس مسئلے پر غور کر رہے تھے کہ حضرت [[محمد {{درود}}]] کو قتل کردیں یا جلاوطن کریں یا قید کردیں۔ اس زمانے میں کفار مکہ نے (غالبا{{دوزبر}} یہودیوں کے اشارے پر) نبی{{درود}} کا امتحان لینے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ [[بنی اسرائیل]] کے [[مصر]] جانے کا کیا سبب ہوا۔ چونکہ اہل [[عرب]] اس قصے سے ناواقف تھے، اس کا نام و نشان تک ان کے ہاں روایات میں نہ پایا جاتا تھا اور خود نبی{{درود}} کی زبان سے بھی اس سے پہلے کبھی اس کا ذکر نہ سنا گیا تھا، اس لیے انہیں توقع تھی کہ آپ یا تو اس کا مفصل جواب نہ دے سکیں گے، یا اس وقت ٹال مٹول کرکے کسی [[یہودی]] سے پوچھنے کی کوشش کریں گے اور اس طرح آپ کا بھرم کھل جائے گا۔ لیکن اس امتحان میں انہیں الٹی منہ کی کھانی پڑی۔ اللہ تعالٰی{{ا}} نے صرف یہی نہیں کیا کہ فورا{{دوزبر}} اسی وقت [[یوسف علیہ السلام]] کا پورا قصہ آپ کی زبان پر جاری کر دیا، بلکہ مزید برآں اس قصے کو [[قریش]] کے اس معاملے پر چسپاں بھی کر دیا جو وہ [[برادران یوسف]] کی طرح آنحضرت{{درود}} کے ساتھ کر رہے تھے۔
 
43,445

ترامیم