"گندھارا" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  2 سال پہلے
درستی
(درستی املا)
(درستی)
[[Image:Ancient india.png|left|400px]]
 
گندھارا کا ذکر [[رگ وید]] اور [[بدھ]] روایات میں ہے۔ چینی سیاح ہیوں سانگ جو یہاں زیارتوں کے لیۓلیے آیا تھا تفصیل سے اسکا ذکر کیا ہے۔ یہ علاقہ [[ایران]] کا ایک صوبہ بھی رہا اور [[سکندر اعظم]] بھی یہاں آیا۔ فلسفی کوٹلیا چانکیا بھی یہاں مقیم رہا۔ کشان دور گندھارا کی تاریخ کا سنہرا دور تھا۔ کشان بادشاہ [[کنشک]] کے عہد میں گندھارا تہزیب اپنے عروج پر پہنچی۔ گندھارا [[بدھ مت]] کی تعلیمات کا مرکز بن گیا اور لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے آنے لگے۔ یونانی، ایرانی اور مقامی اثرات نے مل کر گندھارا کے فن کو جنم دیا۔ ہن حملہ آوروں کا پانچویں صدی میں یہاں آنا [[بدھ مت]] کے زوال کا سبب بنا۔ [[محمود غزنوی]] کے حملوں کے بعد گندھارا تاریخ سے محو ہو گیا۔
گندھارا وادی کابل و غزنوی سے لیکر [[دریائے سندھ]] کے پار تک جس میں [[صوابی]]، [[سوات]]، [[مردان]] اور [[راولپنڈی]] تک کے علاقے شامل تھے۔ عرب مورخین نے گندھارا کی ہندوستانی سلطنت کو جو [[دریائے سندھ]] سے [[دریائے کابل]] تک پھیلی تھی [[قندھار]] (گندھار) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ [[البیرونی]] نے [[قندھار]] (گندھارا) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس کی راجدھانی وہنڈ یا اوہنڈ تھی۔ [[المسعودی]] نے [[قندھار]] (گندھار) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ رہبوط (راجپوت) کا ملک ہے اور [[دریائے کابل]] جو [[دریائے سندھ]] میں گرتا پر واقع ہے۔ <ref>قندھار۔ معارف اسلامیہ</ref>
اس علاقے کا سب سے پہلا تزکرہ آریوں کی مذہبی کتاب ’[[رگ وید]]‘ میں ملتا ہے۔ کیوں کے اس کے بھجنوں میں اس علاقے کے اہم دریاؤں کابل، سوات،اور گومل کا تزکرہ ملتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے پر آریاؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔ <ref>عہد قدیم اور سلطنت دہلی، ڈاکٹرمعین الدین ، ص 41-42</ref> اس علاقے میں جو آثار ملے ہیں انہیں گندھارا کی گورستانی تہذیب (Gundhra Grove Cltur) کا نام دیا گیا ہے۔ [[مہابھارت]] سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں گندھارا یا گندھارد اکی ریاست تھی۔ جسے کوشالہ (Kashala) کے حکمران نے ککیہ (KaKiya) کی مدد سے زیر کیا تھا۔ کوشالہ کے دو بیٹوں ٹکسا (Taksa) اور پو شکلا (Poskda) نے دو شہروں تکشاشِلہ (Taksahshsila) یعنی ٹیکسلہ (Taksla) اور پوشکلہ وتی (Poshkalawati) ([[چارسدہ]]) کی بنیاد رکھی۔ یہ ریاست [[دریائے سندھ]] کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ <ref>اکرام علی، تاریخ پنجاب ص 17</ref>
43,445

ترامیم