"طوفان" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
درستی
(صفائی بذریعہ خوب, replaced: ہوجائے ← ہو جائے (3))
(درستی)
[[ملف:Soil_profile.jpg|thumb|ہريکين کيسے بنتا ہي؟]]
جس طرح دريا کی سطح پر اگر کوئی اونچ نيچ ہو جائے تو پانی کی روانی ميں خلل پڑجاتا ہے اور اس جگہ بھنور يا گردباد پيدا ہوجاتے ہيں، اس طرح کرہ ہوائی ميں جب ہوائیں چلتی ہيں تو فضا ميں مختلف مقامات پر درجہ�¿حرارت ميں فرق آجانے کے باعث وہاں پر ہوا کے دباؤ ميں فرق پڑجاتا ہے۔ چنانچہ مختلف مقامات پر ہوا کے دباؤ ميں کمی و بيشی سے ہوا کی روانی ميں رکاوٹ واقع ہوکر فضا ميں بھنور سے پيدا ہونے لگتے ہيں، اس کے نتيجہ ميں ہر سمت کی ہوائيں اپنا رُخ بدل ليتی ہيں اور چاروں طرف سے کم دباؤ کے مرکز کی طرف بھنور کی شکل ميں چلنا شروع کرديتی ہيں۔ ہواؤں کے اس بھنور کو ہی سائيکلون يا ہريکين کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
سائنسدان بتاتے ہيں کہ جب ہوا گرم ہو تو يہ زمين سے اوپر کی جانب اُٹھتی ہے اور خالی جگہ پر فوراً ٹھنڈی ہوا آجاتی ہے تاکہ خلاءپورا ہو سکے۔ اس ہوائی چکر سے موسموں ميں توازن پيدا ہوتا ہے۔ افريقہ کے جنوبی علاقوں سے ہوا بحراوقيانوس کی طرف بڑھتی ہے تو افريقی موسم کی وجہ سے يہ ہوا گرم ہوتی ہے۔ سمندر کے ساتھ چلنے والی يہ ہوا بڑی مقدار ميں سمندری بخارات کی تبخير Evaporation کا سبب بنتی ہے۔ اس سے سمندر کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے۔ گرم ہواؤں ميں آبی بخارات اور سمندری پانی کی رگڑ سے اشتعال پيدا ہوجاتا ہے۔ ہوا کی رگڑ سے سمندر کی سطح پر ايک بھنور پيدا ہوتا ہے۔ مزيد رگڑ اس بھنور کو ايک بڑے ہيٹ انجن Heat Engine ميں تبديل کرديتی ہے۔ جتنی رگڑ بڑھتی جاتی ہے بھنور کی تيزی ميں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس بھنور کا انتہائی بالائی حصّہ پچاس ہزار فٹ تک چوڑا ہوسکتاہو سکتا ہے۔ بھنور ميں تبديل ہونے کے بعد يہ ہيٹ انجن ہريکين کی شکل اختيار کرليتا ہے۔ يہ ہريکين شديد اور تيز ہوائيں بننے کا سبب بنتا ہے، اِسی کی بدولت شديد عملِ تبخير Evaporation ہوتا ہے جس سے بادل بنتے ہيں۔ يہ طوفانی بھنور يا ہريکين شديد ہواؤں کے جھکڑ اور وسيع بادل بناتا ہے اور ان کی وجہ سے شديد گرج چمک کے ساتھ بارش ہوتی ہے۔ جس خطّے کی طرف اس ہريکين کا رُخ ہوجاتا ہے وہاں تاريکی چھا جاتی ہے اور شديد گھن گرج کے ساتھ بارش ہوتی ہے۔ سمندر ميں يہ بھنور بھونچال لے آتا ہے اور يوں اگر کوئی بدقسمت ساحلی علاقہ يا خشکی اِس کی راہ ميں آجائے تو پھر سمندری لہريں خشکی پر چڑھ دوڑتی ہيں۔
اس طرز کے سائيکلون بڑے سمندروں مثلاً بحراوقيانوس اور بحر الکاہل (پيسفک اوشين) ميں اکثر بنتے رہتے ہيں۔ يہ سائيکلون کرئہ ہوائی کے لیے مفيد ثابت ہوتے ہيں۔ اگر يہ سائيکلون صرف سمندروں تک محدود رہيں اور خشکی کی طرف نہ بڑھيں تو زمين کے کرئہ ہوائی کو توازن ميں رکھتے ہيں ليکن جب کبھی ان کا رُخ خشکی کی طرف ہو جائے تو اپنی شدت کے لحاظ سے يہ وہاں بعض اوقات خوفناک تباہی پھيلاتے ہيں۔
ايک رپورٹ کے مطابق لوزيانہ اور اس کی قريبی رياستوں پر قيامت برپا کردينے والا طوفان کترينہ پوری قوت سے نہيں ٹکرايا تا بلکہ ان رياستوں کو محض چُہوتا ہوا گزرا تھا، ليکن پھر بھی اس نے امريکہ کی معيشت کو زبردست نقصان پہنچايا اور امريکہ نے کسی بھی قدرتی آفت کے موقع پر پہلی مرتبہ دوسرے ممالک سے مدد کی اپيل کی۔ اس طوفان ميں بعض مقامات پر 230 کلوميٹر فیگھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلی۔ اس شدت کی وجہ سے بہت سے لوگ ہوا ميں اُڑگئے۔
اس وقت يورپ، امريکہ اور چين ماحولياتی آلودگی پھيلانے والے سب سے بڑے خطے ہيں۔ آلودگی کنٹرول کرنے کے لیے ايک معاہدہ ”کيوٹو پروٹوکول“ تيار کيا گيا جس ميں امريکہ نے شرکت ہی نہيں کی۔ جبکہ کئی يورپی ممالک نے اس پر دستخط کئے اور ماحولياتی آلودگی کنٹرول کرنے کے لیے چند اقدامات بھی کئے۔ ليکن دنيا کے لیے خطرہ بننے والے مسائل کا اجتماعی حل تلاش کرنا ضروری ہے ورنہ توازن بگڑنے کا تمام تر نقصان پوری نوعِ انسانی کو مجموعی طور پر بھگتنا پڑے گا۔
 
ہريکين يا سائيکلون دراصل ايک ديوقامت بگولے سے مشابہ ہوتا ہے جس ميں ہوا ايک بے حد کم دباؤ کے مرکزے کے گرد بڑے حجم ميں قوت کے ساتھ گھومتی ہے اور اس کی رفتار اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے جو بيرونی اطراف ميں بڑھتا جاتا ہے اور جس کو طوالت مرکز سے 20 يا 30 ميل تک ہوسکتی ہے۔ مرکز کے گرد گھومنے والی ہوا کا قطر اوسطا 40 کلوميٹر ہوتا ہے، مگر يہ بعض اوقات بڑھ کر 80 کلوميٹر تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ طوفان کا سب سے خطرناک حصّہ Surge ہوتا ہے۔ يہ پانی کے ايک عظيم گنبد کی مانند ہوتا ہے جس کی چوڑائی بعض مرتبہ 80 کلوميٹر تک ہوتی ہے اور اس کی راہ ميں آنے والی ساحلی آبادی بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سرج کے ساتھ طوفانی لہروں کے باعث ہرچيز ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے اور سيلابی پانی ميں بہہ جاتی ہے، يوں طوفان ہر شئے کو اپنی راہ سے ہٹاتا اور آباديوں کو روندتا چلا جاتا ہے۔ ميامی ميں نيشنل ہريکين سينٹر کے مطابق طوفان، فضا کی Dynamics کا ايک لازمی جزو ہيں۔ اپنی بے پناہ طاقت کے ساتھ بل کھاتا طوفان 3600 ملين ٹن ہوا کو آخری درجے ميں 322 کلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے اور 7.6 ميٹر اونچی موجيں پيدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور ايسی طوفانی بارش لانے کا موجب ہوسکتاہو سکتا ہے جو کثير انسانی جانوں اور اثاثوں کی تلفی کا باعث ہو اور فضائی نظام کی يہ عظيم طاقت ديکھتے ہی ديکھتے 520,000 مربع کلوميٹر علاقے کو متاثر کرسکتی ہے۔
 
== گزشتہ صدی کے تباہ کن طوفان ==
43,445

ترامیم