"نووا سکوشیا" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
درستی
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
(درستی)
* سمندر کا اثر
 
چونکہ نووا سکوشیا بحر اوقیانوس کے بالکل ساتھ ہی ہے اس لئےلیے یہاں استوائی طوفان اور ہری کین گرمیوں اور خزاں میں آتے رہتے ہیں۔ 1871 سے اب تک یہاں تقریباًً ہر چار سال میں ایک طوفان ضرور آیا ہے۔آخری بار یہاں درجہ دو کا طوفان ہری کین جوان ستمبر 2003 میں آیا تھا۔ آخری استوائی طوفان نوئل 2007 میں آیا تھا۔
 
== تاریخ ==
 
1497 میں اطالوی مہم جو جان کابوٹ یہاں موجودہ دور کے کیپ بریٹن کا چکر لگا چکا تھا تاہم اس کے لنگر انداز ہونے کی جگہ کے بارے کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ نووا سکوشیا میں پہلی یورپی آبادی 1604 میں قائم ہوئی۔ اسی سال فرانسیسیوں نے پیرے ڈگوا سیور ڈی مونٹس کی قیادت میں اکاڈیا کا پہلا دارلخلافہ پورٹ رائل پر بنایا۔ یہ جگہ اناپولس بیسن کے منبع پر ہے۔ فرانسیسی مچھیروں نے کانسو میں اسی سال اپنی آبادی قائم کی۔
1620 میں پلائی ماؤتھ کونسل فار نیو انگلینڈ نے کنگ جیمز اول برائے انگلینڈ اور ششم آف سکاٹس نے یہ اعلا ن کیا کہ اکاڈیا کا سارا ساحل اور بحر اوقیانوس کی کالونیاں جو چیساپیک بے کے جنوب میں تھیں، سب کی سب نیو انگلینڈ ہیں۔ سکاٹش لوگوں کی پہلی آبادی کا تحریری ثبوت یہ بتاتا ہے کہ یہ لوگ یہاں 1621 میں براعظم شمالی امریکہ میں آباد ہوئے۔ 29 ستمبر 1621 کو کالونی کا چارٹر آف فاؤنڈیشن جیمز چہارم نے ویلم الیگزینڈر جو پہلے ارل آف سٹرلنگ تھے، کو پیش کیا۔ 1622 میں اولین آبادکار سکاٹ لینڈ سے روانہ ہوئے۔ ہنر مند افراد کی کمی کے باعث یہ آبادکاری ناکام ہو گئی اور 1624 میں جیمز چہارم نے ایک اور نیا اعلان جاری کیا۔ اس اعلان کی منظوری کے لئےلیے ولیم الیگزیندر کی خدمت میں یا تو چھ پوری طرح سے مسلح اور تندرست و توانا مزدور پیش کئے جاتے یا پھر تین سو مرک کی ادائیگی کافی رہتی۔ چھ ماہ تک کسی نے بھی جیمز کی پیش کش کو قبول نہیں کیا حتٰی کہ جیمز کو خود سے لوگوں کو جانے پر مجبور کرنا پڑا۔
 
1627 میں لوگوں کی دلچسپی مزید بڑھ گئی اور زیادہ لوگ نووا سکوشیا جانے کے لئےلیے تیار ہونے لگے۔ تاہم 1627 میں فرانس اور انگلینڈ کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔ فرانسیسیوں نے دوبارہ سے پورٹ رائل پر اپنی آبادی دوبارہ قائم کی۔ بعد ازاں اسی سال سکاٹش اور انگریز فوج نے اکٹھا ہو کر فرانسیسی آبادی کو تہس نہس کر دیا اور انہیں نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ 1629 میں پورٹ رائل پر پہلی سکاٹش آبادی قائم ہوئی۔ کالونی کے چارٹر نے قانونی طور پر نووا سکوشیا کو سکاٹ لینڈ کے مین لینڈ کا حصہ قرار دیا۔ تاہم 1631 میں کنگ چارلس اول کے ماتحت سوزا کی ٹریٹی ہوئی جس نے نووا سکوشیا کو واپس فرانس کے حوالے کر دیا۔ سکاٹش لوگوں کو چارلس نے کالونی مستحکم ہونے سے قبل ہی اسے خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ فرانسیسیوں نے میکماق اور دیگر قبائل کے علاقوں کا قبضہ سنبھال لیا۔
 
1654 میں کنگ لوئز چودہ آف فرانس نے نواب کولس ڈینی کو اکاڈیا کا گورنر مقرر کر کے اسے تمام ضبط شدہ زمینیں اور وہاں موجود معدنیات کے حقوق بھی دے دیے۔ کنگ ولیم کی جنگ کے دوران برطانویوں نے اس پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن برطانیہ نے جنگ کے اختتام پر ریسوک کی ٹریٹی کے تحت یہ علاقہ دوبارہ فرانس کے حوالے کر دیا۔ ملکہ این کی جنگ کے دوران یہ علاقہ برطانیہ کی وفادار فوج کے قبضے میں لے لیا اور اس پر اٹرچٹ کی 1713 کی ٹریٹی کے تحت قبضہ برقرار رکھا۔ فرانس نے پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ اور کیپ برٹن آئی لینڈ کا قبضہ سنبھالے رکھا اور لوئیز برگ پر قلعہ بھی بنایا تاکہ سمندر سے آنے والے کیوبک کے راستے کا نظم و نسق سنبھالا جا سکے۔ امریکی کالونی کے دستوں نے اس پر قبضہ کیا تاہم برطانیہ نے اسے پھر فرانس کے حوالے کر دیا۔ مگر 1755 کی فرنچ اینڈ انڈین جنگ کے دوران یہ علاقہ پھر اپنے قبضے میں لے لیا۔
اسی وقت ہی تاج برطانیہ نے اس طرح زمین تقیسم کرنا شروع کی جس سے یہاں کی تجارت کی اکثریت برطانیہ کے ساتھ ہی ہو۔ مثلاً جون 1764 میں بورڈ آف ٹریڈ نے شاہی وفاداروں کو بڑی مقدار میں زمینیں عطا کیں۔ ان میں تھامس پاونل، رچرڈ اوسوالڈ، ہمفرے براڈ سٹریٹ، جان وینٹ ورتھ، تھامس تھوروٹن اور لندن کے بیرسٹر لیوٹ بلیک بورن شامل ہیں۔ دو سال بعد 1766 میں لیوٹ بلیک بورن کے گھر ایک ملاقات میں ڈیوک آف رٹلینڈ کے مشیر، اوسوالڈ اور اس کے دوست جیمز گرانٹ جو ان کی نووا سکوشیا میں ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا تاکہ وہ برطانوی مشرقی فلوریڈا پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں۔
 
وقت کے ساتھ ساتھ کالونی کی حدود بدلتی رہیں۔ نووا سکوشیا کو 1754 میں سپریم کورٹ ملی جس کے لئےلیے جوناتھن بیلچر کو تعنیات کیا گیا۔ 1758 میں اپنی قانون ساز اسمبلی بھی دی گئی۔ 1763 میں کیپ بریٹن آئی لینڈ نووا سکوشیا کا حصہ بن گیا۔ 1769 میں سینٹ جانز آئی لینڈ جو موجودہ دور کا پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ہے، الگ کالونی بن گیا۔ سن بری کی کاؤنٹی کو 1765 میں بنایا گیا اور اس میں موجودہ دور کی تمام نیو برنزوک اور مشرقی مین پینوبسکاٹ دریا تک بھی اس کا حصہ بنائی گئیں۔ 1784 میں کالونی کا مغربی بڑا حصہ الگ کر کے اسے نیو برنزوک کا صوبہ بنا دیا گیا۔ مین والا حصہ نئی امریکی ریاست میسا چوسٹس کو ملا۔ کیپ بریٹین کو 1784 میں الگ کالونی بنایا گیا تاکہ اسے نووا سکوشیا کو 1820 میں واپس کیا جا سکے۔
 
نصف سے زیادہ نوواکوشین لوگوں کے آباؤ اجداد یہاں اکاڈین لوگوں کے انخلاٗ کے دوران آئے۔ 1759 سے 1768 تک 8000 کاشتکاروں نے گورنر چارلس لارنس کی یہاں آباد ہونے کی درخواست کو قبول کیا۔ کئی سال بعد امریکہ کے ہاتھوں برطانیہ کی شکست کے بعد تیس ہزار ٹوری یعنی برطانوی وفادار امریکہ سے ہجرت کر کے ادھر آباد ہوئے۔ ان دنوں نووا سکوشیا کینیڈا کے میری ٹائم علاقوں پر مشتمل تھا۔ ان میں سے چودہ ہزار نیو برنزوک گئے اور سولہ ہزار موجودہ دور کی نووا سکوشیا کو اپنا نیا گھر بنانے میں لگ گئے۔ ان میں سے تین ہزار افراد سیاہ فام بھی تھے جن میں سے ایک تہائی جلد ہی 1792 میں سیرالیون چلے گئے۔ یہ لوگ فری ٹاؤن کے اصل آباد کار بن گئے۔ ان لوگوں کی روانگی کمیٹی فار ریلیف آف دی بلیک پوور کے تحت ہوئی۔ ہائی لینڈ سکاٹس جو گیلک بولتے تھے، کیپ بریٹن اور دیگر مغربی حصوں میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوران ہجرت کر کے آئے ۔ ان میں سے ایک ہزار افراد السٹر سکاٹ تھے جو وسطی نووا سکوشیا میں آباد ہوئے اور ہزار سے زیادہ کسان مہاجرین جو یارکشائر اور نارتھمبر لینڈ سے 1772 اور 1775 کے دوران یہاں آئے۔
2005 میں فی کس آمدنی 31344 ڈالر سالانہ تھی جو کینیڈا کی اوسط فی کس آمدنی سے تقریباًً تین ہزار ڈالر کم اور کینیڈا کے امیر ترین صوبے یعنی البرٹا سے نصف تھی۔
 
کان کنی یہاں کی اہم صنعت ہے اور یہاں جپسم، نمک اور بیریٹ نکلتا ہے۔ 1991 سے اب تک گہرے سمندر میں تیل اور گیس بھی معیشت کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ زراعت ابھی بھی صوبے کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ نووا سکوشیا کے وسط میں لمبر اور کاغذ کی صنعتیں بھی ملازمتوں کے لئےلیے اہم ہیں۔
 
نووا سکوشیا کی سیاحت کی صنعت میں 6500 براہ راست اور 40000 بالواسطہ ملازمتیں ہیں۔
نووا سکوشیا کی حکومت پارلیمانی جمہوریہ ہے۔ اس کی یک ایوانی مقننہ باون اراکین پر مشتمل ہے۔ اسے نووا سکوشیا ہاؤس آف اسمبلی کہا جاتا ہے۔ کینیڈا کی سربراہ ملکہ الزبتھ دوم نووا سکوشیا کی ایگزیکٹو کونسل کی بھی سربراہ ہیں۔ یہ کونسل صوبائی حکومت کی کابینہ کا کام کرتی ہے۔ ملکہ کی ذمہ داریاں ان کی جگہ لیفٹینٹ گورنر سرانجام دیتا ہے۔ حکومت کا سربارہ پریمئر روڈنی میک ڈونلڈ ہیں جنہوں نے 22 فروری 2006 کو عہدہ سنبھالا۔ ہیلی فیکس میں مقننہ اور لیفٹینٹ گورنر کے دفاتر ہیں۔
 
صوبائی آمدنی کا بڑا حصہ افرادی اور تجارتی سطح پر لگائے گئے ٹیکس ہیں۔تمباکو اور شراب پر بھی ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ اٹلانٹک لاٹری کارپوریشن میں بھی صوبے کے حصص ہیں اور تیل اور گیس کی رائلٹی سے بھی معقول آمدنی ہوتی ہے۔ 2006 اور 2007 کے [[مالی سال]] کے لئےلیے صوبے کا بجٹ چھ اعشاریہ نو ارب ڈالر تھا جس میں اندازہً سات کروڑ بیس لاکھ کی رقم اخراجات سے زیادہ تھی۔ وفاق سے ملنے والی آمدنی ایک ارب اڑتیس کروڑ پچاسی لاکھ ڈالر ہے جو صوبائی آمدنی کا بیس فیصد ہے۔ اگرچہ کئی سالوں سے نووا سکوشیا کا بجٹ مناسب ہوتا تھا لیکن اس کی وجہ سے کل بجٹ کا خسارہ یا قرضہ جات اب بارہ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ نتیجتاً کل آمدنی کا بارہ فیصد حصہ ان قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ صوبے کو وفاقی جی ایس ٹی میں سے ایچ ایس ٹی کا حصہ ملتا ہے۔
 
نووا سکوشیا میں تین بار ایسی حکومتیں بنی ہیں جو دیگر پارٹیوں کی حمایت سے اکثریت حاصل کرسکی تھیں۔ اس کی وجہ نووا سکوشیا میں انتخابی حلقوں کی کچھ اس طرح سے تقسیم ہے کہ کسی ایک جماعت کے لئےلیے اکثریت حاصل کرنا کافی مشکل ہے۔نووا سکوشیا مین لینڈ کے دیہات پروگریسو کنزرویٹو جبکہ ہیلی فیکس کی میونسپلٹی کی تمام تر حمایت نیو ڈیمو کریٹس کے پاس ہے۔ کیپ بریٹن زیادہ تر لبرل کو ووٹ دیتاہے تاہم چند یاک پروگریسو کنزرویٹو اور نیو ڈیمو کریٹ بھی چنے جا سکتے ہیں۔اس طرح تین مختلف جماعتوں کو تقریباًً یکساں ووٹ ملتے ہیں۔
 
پچھلے انتخابات 13 جون 2006 کو ہوئے تھے جن میں پروگریسو کنزرویٹو کو 23، نیو ڈیمو کریٹ کو 20 اور لبرل کو 9 نشستیں ملیں۔
وزیر تعلیم صوبے میں تعلیم کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے جیسا کہ تعلیمی ایکٹ اور سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پرائیوٹ سکولوں سے متعلق ایکٹوں میں بیان کیا گیا ہے۔ وزیر اور محکمہ تعلیم کے اختیارات کو گورنر ان کونسل ریگولیشن کے تحت کنٹرول کئے جاتے ہیں۔
 
نووا سکوشیا میں بچوں کے لئےلیے 450 سے زائد سکول ہیں۔ پبلک سکول بارہویں جماعت تک تعلیم دیتے ہیں۔ صوبے میں کچھ پرائیوٹ سکول بھی ہیں۔تعلیم عامہ سات علاقائی ریجنل سکول مہیا کرتے ہیں جو انگریزی اور فرانسیسی میں تعلیم کے ذمہ دار ہیں۔ نووا سکوشیا کمیونٹی کالج کے صوبے میں تیرہ کیمپس ہیں۔ کمیونٹی کالج تربیت اور تعلیم پر زور دیتا ہے اور اسے 1988 میں صوبے کے دیگر ووکیشنل سکولوں کو اس میں ضم کر کے بنایا گیا۔
صوبے میں بارہ یونیورسٹیاں اور کالج ہیں جنمیں ڈلہوزی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کنگز کالج، سینٹ میری یونیورسٹی ہیلی فیکس، ماؤنٹ سینٹ ونسنٹ یونیورسٹی، نووا سکوشیا کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن، اکاڈیا یونیورسٹی، یونیورسٹی سینٹ اینے، سینٹ فرانکس زایور یونیورسٹی، نووا سکوشیا زرعی کالج، کیپ بریٹن یونیورسٹی اور اٹلانٹک سکول آف تھیولوجی شامل ہیں۔
 
43,445

ترامیم