"ہن" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
درستی
(درستی املا)
(درستی)
 
== ایرانیوں پر غلبہ ==
بہرام گور کی موت کے بعد یزدگرد جانشین ہوا تو ہنوں نے نہ صرف خود مختیاری حاصل کرلی بلکہ ایران پر حملے شروع کردیئے۔ یزدگرد کی موت کے بعد اس کا بیٹا ہرمزد تخت نشین ہوا، مگر اس کے دوسرے بیٹے فیروز نے نہیں مانا اور مدد لینے کے لیے ہنوں کے پاس پہنچ گیا اور ان سے مدد حاصل کرکے ایک لڑائی میں ھرمز کو قتل کر دیا اور ساسانی تخت حاصل کر لیا۔ فیروز نے ہنوں کو ایک خظیر رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر فیروزنے تخت حاصل کرنے کے بعد ایفائے عہد سے انکار کر دیا۔ اس پر ہنوں نے ساسانی سلطنت کے مشرقی حصہ کو تاراج کرکے اجاڑ دیا۔ فیروز نے کوشش کی کہ ہنوں کی اس سرکش کی روک تھام کرے۔ مگر وہ ناکام رہا اس لئےلیے مجبوراََ ایک خطیر رقم کے بدلے فیروز کو ہنوں سے صلح کرنی پڑی۔ مگر یہ صلح دیرپا ثابت نہیں ہوئی اور ہنوں کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔ فیروز 482ء؁ میں وہ ایک لشکر لے کر گیا اور فیروزاور ہنوں کے درمیان بلخ کے قریب جنگ ہوئی، اس جنگ میں ساسانیوں کو شکست ہوئی اور فیروز ماراگیا۔ فیروز کے جانشین بلاش نے خراج کی ادائیگی پر صلح کرلی اور ہنوں کو ایک خظیر رقم سالانہ دینا منظور کر لیا اور اس طرح ہن ساسانیوں کے باج گزار کے بجائے ساسانیوں سے خراج لینے لگے اور ساسانیوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک ہنوں کو خراج دیا۔ (افغانستان۔ معارف اسلامیہ) (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 99۔ 100)
== ترکوں کا ہونوں پر غلبہ ==
531ء؁ میں نوشیرواں عادل ساسانی خاندان کا سب سے نامور حکمران ہوا۔560ء؁ میں وسط ایشیاء کی بساط پر ایک نئی قوم نمودار ہوئی، یعنی ترکوں کی مغربی سلطنت جس کا حکمران ایل خان تھا۔ نوشیروان نے اس سے دوستانہ تعلقات قائم کرلئےکرلیے اور ترکوں کی مدد سے ہنوں پر حملے کئے، جس میں ان کا سردار مارا گیا اور انہیں شکست ہوئی، اور ان کی مملکت کا خاتمہ ہو گیا۔ مگراس علاقے پر ترکوں کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 106)
== برصغیر پر حملہ ==
ہنوں کی جنوبی یعنی زابلی سلطنت جو انہوں نے کشن حکمرانوں کو شکست دے کر حاصل کی تھی۔ وہ کشنوں کو شکست دے کر برصغیر میں داخل ہوگئے اور ۸۵۴ عیسوی میں انہوں نے پہلی مرتبہ گپتا مملکت پر حملہ کیا۔ شروع میں سکندا گپت نے بڑی حد تک ان کا مقابلہ کیا اور انہیں کامیابی سے روک لیا۔ لیکن ہنوں کے نئے نئے گروہ برابر آتے رہے اور آخر کار گپتا مملکت میں داخل ہوگئے۔ ان لڑائیوں کی تفصیلات تو نہیں ملتی ہیں، لیکن بیان کیا جاتا ہے کہ سکندا گپت خود اپنے علاقے کے وسط میں ان پر حملہ کیا تھا اور اس کے علاوہ گپتا حکومت کے سکوں کی قیمت گرگئی تھی۔ اس سے یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ ہن گپتا حکومت کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ (ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ 171۔176۔ 177)
== ہونوں کا زوال ==
ٹورامن کا جانشین مہر کولا (مہر گل) (515ء؁ تا 544ء؁) حکمران بنا۔ یہ ایک طاقتور حکمران تھا اور چالیس ملکوں سے خراج وصول کرتا تھا۔ ہندی روایات میں اسے ایک ظالم حکمران بتایا گیا ہے کہ وہ بنی نوح انسان پر ظلم توڑتا تھا۔ اس نے اپنے ظلم کا مظاہرہ مقامی لوگوں کے قتل عام سے کیا۔ اس نے امن پسند بدھوں کو تہہ بالا کرڈالا اور نہایت بے رحیمی سے ان کی خانقاہوں اور اسٹوپوں کو تباہ و برباد کرڈالا۔ اس کے ظلم و ستم نے مقامی راجاؤں کو اس کے خلاف ایک متحدہ وفاق بنانے پر مجبور کر دیا اور اسے قومی وفاق نے پہلے اسے بالادیتہ کی سردگی میں شکست دی اور اس کو بعد میں ۳۳۵ء؁ میں منڈسور کے راجہ یسودھرمن نے اسے مکمل شکست دی۔ اس کے بعد اس کی حکومت افغانستان تک محدود ہو کر رہے گئی۔ اس شکست کے بعد مہراکولا زیادہ دیر تک زندہ نہ رہا۔ (ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ 178 تا 180)
ہنوں نے وسطہ ہند اور ہند پر تقریباََ دوسو سال حکومت کی، ان کے دور میں ہندوستان میں دوبارہ ہندو مذہب کا احیاء ہوا اور بدھ مت کا ذوال شروع ہوا۔ ہن سورج کی پوجا کرتے تھے، اس لئےلیے ان کو سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر شیو مہاراج کو اپنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنے جھنڈے پر آنندی (بیل) کی تصویر بنائی تھی، جو شیو کی علامت تھی۔ چینی سیاح ہوانگ سانگ ہنوں کے آخری دور 629ء؁ میں برصغیر آیا تھا۔ اس کے سفر نامے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ کئی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور یہ ریاستیں ہنوں کی باج گزار تھیں۔ جب ہنوں کی حکومت کمزور ہوئی تو یہ ریاستیں خود مختیار ہوگئیں۔ (سبط حسن، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء، 146۔ 147)
== خاتمہ ==
43,445

ترامیم