"ابو مصعب الزرقاوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

درستی
(درستی املا)
(درستی)
== گرفتاری ==
 
جب القاعدہ کی قیادت سوڈان منتقل ہوگئی اور الزرقاوی اپنے نئے لیڈر المقدصی کے ساتھ 1993ء میں واپس اردن چلے گئے۔ دونوں نے التوحید کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور اردن میں حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے لیے اسلحہ اکٹھا کرنے لگے۔ 13ستمبر 1993ء کو اسرائیل اور پی ایل او میں امن معاہدہ ہو گیا۔ الزرقاوی اس معاہدے کے خلاف کھل کر سامنے آگئےآ گئے اور 29مارچ 1994ء کو گرفتار کرلئے گئے۔ یہ وہ گرفتاری تھی جس نے ایک نئے الزرقاوی کی تشکیل شروع کی ۔1995ء میں الزرقاوی کو عمر قید کی سزادی گئی اور انہیں عمان سے 85کلو میٹر جنوب میں واقع السوقہ جیل بھیج دیا گیا جو ریگستان میں تھی۔ اس جیل میں الزرقاوی کے پاؤں کے ناخن نوچے گئے ، جسم پر زخم لگا کر نمک چھڑ کا گیا اور کئی کئی ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ اس جیل میں چھ ہزار سے زائد قیدی بند تھے جن میں سے اکثر کا جرم یہ تھا کہ وہ عرب اسرائیل امن معاہدے کو یہودیوں کی فتح سمجھتے تھے۔ اس معاہدے پر تنقید کرنے والے اردن کے ایک صحافی فواد حسین کو بھی السوقہ جیل میں بند کیا گیا ۔ فواد کی اسی جیل میں الزرقاوی کے ساتھ ملاقات ہوئی ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے الزرقاوی پر ظلم بڑھتا گیا اس کی شخصیت میں سے لچک ختم ہوتی گئی۔ الزرقاوی نے اپنے ساتھی فقیہہ الشاوش کی مدد سے جیل میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب ہمیں اپنی قوم کی تقدیر اپنے خون سے لکھنی ہے۔
 
== رہائی ==
 
1999ء میں اردن کے بادشاہ شاہ حسین کی موت کے بعد انکے بیٹے عبداللہ نے اقتدار سنبھالا تو الزرقاوی کو عام معافی کے نتیجے میں رہائی مل گئی۔ رہائی کے فوراً بعد وہ پشاور آگئے۔آ گئے۔ یہاں الزرقاوی کے ویزے کی معیاد ختم ہوگئی اور انہیں پشاور جیل جانا پڑا ۔کچھ ساتھیوں کی کوشش سے رہائی کے بعد الزرقاوی نے افغانستان کا رخ کیا۔ جلال الدین حقانی کے ذریعہ الزرقاوی نے ہرات میں ایک عسکری تربیت کا کیمپ قائم کرنے کی اجازت حاصل کی۔
 
== القاعدہ ==
اسی زمانہ میں جب القاعدہ کی قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات استوار ہوچکے تھے لیکن وہ القاعدہ میں شامل ہونے سے گریزاں تھے کیونکہ وہ بدستور اس نظریے کے حامی تھے کہ جس طرح طالبان نے افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کی ہے اسی طرح عرب مجاہدین کو بھی اپنے ممالک میں اسلامی حکومتوں کے قیام کے لیے جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے۔ دسمبر2001ء میں وہ ہرات سے قندھار آگئےآ گئے کیونکہ امریکی فوج افغانستان میں داخل ہوچکی تھی اور عرب مجاہدین کا ہر طرف شکار کیا جارہا تھا۔ اردنی صحافی فواد حسین کا دعویٰ ہے کہ قندھار میں بمباری کے دوران الزرقاوی زخمی ہوگئے لیکن کسی طرح اسامہ بن لادن کے پاس تورا بورا پہنچ گئے ، وہاں سے فرار ہو کر خوست اور پھر شمالی وزیرستان پہنچے ۔ یہیں چند دن قیام کیا اور پھر کوئٹہ کے راستے سے افغانستان میں داخل ہو کر ایران کو نکل گئے۔ ایران میں گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کی مدد سے 2003ء میں وہ عراق چلے گئے۔ ایرانی شہر زاہدان سے بغداد تک انکا القاعدہ سے رابطہ رہا لیکن وہ القاعدہ میں شامل نہ ہوئے۔ اب ایک نئی وجہ اختلاف یہ تھی کہ القاعدہ اہل تشیع کے خلاف کارروائیوں کی مخالف تھی لیکن الزرقاوی کا کہنا تھا کہ اہل تشیع نے افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کا ساتھ دیا اس لیے ان پر حملے جائز ہیں۔
 
== عراق ==
43,445

ترامیم