"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

140 بائٹ کا اضافہ ،  2 سال پہلے
م
خودکار درستی+ربط+ترتیب+صفائی (9.7)
(درستی)
م (خودکار درستی+ربط+ترتیب+صفائی (9.7))
place=[[بصرہ]], [[عراق]]|
result=[[خلافت راشدہ]] فتح|
combatant1=[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[خلافت راشدہ]]|
combatant2=[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] حضرت عائشہ کی فوج [[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[خلافت امویہ]]|
|commander1=[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] '''[[علی بن ابی طالب]]'''<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] مالک ابن حارث النخئی الاشتر<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[حسن ابن علی]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[عمار بن یاسر]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[محمد بن ابی بکر]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[عبد الرحمن بن ابی بکر]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]][[مسلم ابن عقیل]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[ابوقتادہ]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[جابر بن عبداللہ]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[Muhammad ibn al-Hanafiyyah]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[ابوایوب انصاری]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] Abu Qatada bin Rabyee<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[قیص ابن سعد]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] Qathm bin Abbas<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[عبداللہ بن عباس]]<br/>[[Fileفائل:Imamah Flag.png|23px]] [[خزیمہ بن ثابت]]
|commander2=
[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[عائشہ بنت ابی بکر]]<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[طلحہ بن عبید اللہ]] {{KIA}}<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[محمد ابن طلحہ]] {{KIA}}<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[زبیر ابن العوام]] {{KIA}}<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] Kaab ibn Sur {{KIA}}<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[عبداللہ ابن زبیر]]<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[مروان بن حکم]] {{POW}}<br/>[[Fileفائل:Black flag.svg|23px]] [[ولید ابن عقبہ]] {{POW}}
|strength1=~20,000<ref name="books.google.co.uk">http://books.google.co.uk/books?id=axL0Akjxr-YC&pg=PT472&dq=Ali+20,000+battle+of+the+camel&hl=en&sa=X&ei=PNc-UresF4nAtQaZioGQCg&ved=0CDsQ6AEwAg#v=onepage&q=Ali%2020%2C000,000%20battle%20of%20the%20camel&f=false</ref>
|strength2=~30,000<ref name="books.google.co.uk"/>
|casualties1=~5,000<ref name="Authorhouse">Jibouri, Yasin T. Kerbalā and Beyond. Bloomington, IN: Authorhouse, 2011. Print. ISBN 14670261311-4670-2613-1 Pgs. 30</ref><ref name="Muraj al-Thahab">Muraj al-Thahab Vol. 5, Pg. 177</ref>
|casualties2=~13,000<ref name="Authorhouse"/><ref name="Muraj al-Thahab"/>
}}
'''جنگ جمل''' [[قصاص عثمان]] کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ ہے جو 10 جمادی الثانی 36 ھ مطابق 4 دسمبر 656ء لڑی گئی۔
 
== پس منظر ==
حضرت عثمان اسلام کے تیسرے خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ کے دور میں یہودیوں نے "منافقت " کا راستہ بڑے پرعزم طریقے اور منصوبہ بندی سے اختیار کیا۔طبری کی روایت ہے کہ 33-35 ہجری کے برسوں میں ایک یمنی یہودی [[عبداللہ بن سبا]] نے، جو ابن السودا کے نام سے مشہور تھا، اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ظاہری تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نمازِ فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا بھی وہ آخری شخص ہوتا۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور درود وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔
جب اس نے دیکھا کہ علی نبی {{درود}} کے بہت قریبی رشتہ دار ہیں اگر ان کے نام پر عثمان کے خلاف کام کیا جائے تو بڑا کامیاب ہوگا۔ عرب میں عبدﷲ بن سبا اپنا کام نہ کرسکا کیونکہ یہاں صحابہ کی کافی بڑی تعداد موجود تھی اس لیے اس نے عراق کے علاقے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا لیکن یہاں پر اب بھی وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایرانی بادشاہ کی محبت اور مسلمانوں کے خلا ف نفرت تھی۔ وہاں جاکر عبداﷲ بن سبا نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ یہ کیا بات کہ نبی {{درود}} کے رشتہ دار یعنی علی تو یوں ہی بیٹھے رہیں اور اِدھراُدھر کے لوگ خلیفہ بن جائیں۔ابھی وقت ہے کہ عثمان کو ہٹا کر علی کو خلیفہ بنادو۔لیکن چونکہ بصرہ عراق میں صحابہ کی بہت ہی تھوڑی تعداد تھی جو نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے کوئی عبدﷲ بن سبا کی باتوں کا جواب نہ دے سکتا اگر وہ ہوتے تو کچھ جواب دیتے لوگ آہستہ آہستہ اس کی باتوں سے متاثر ہوکر عثمان کے خلاف ہوتے گئے۔ جب بصرہ کے گورنر عبدﷲ بن عامر کو عبدﷲ بن سبا کی منافقت کی خبر ملی تو اس کو بصرہ سے نکال دیا اور یہ پھر کوفہ پہنچ گیا۔وہاں سے بھی نکلوادیا گیا پھر یہ شام پہنچا لیکن وہاں معاویہ گورنر تھے جنھوں نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا۔ عبدﷲ بن سبا کو چونکہ تمام اسلام دشمن لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لیے وہ اس کام کو چلانے کے لیےپروپیگنڈہ کرتا رہا۔ عبدﷲ بن سبا شام سے نکالے جانے کے بعد مصر پہنچا اور وہاں کام شروع کیا اور ایک اچھی خاصی جماعت بنالی جو عثمان کے خلاف ہوگئے۔
حج کا زمانہ قریب آ رہا تھا۔ خلیفہ نے مدینہ گریژن کے فوجی دستوں کو حج پر جانے کی اجازت دے دی اور مدینہ امن و امان قائم رکھنے والی فوج سے خالی ہو گیا۔ باغیوں نےخلیفہ کی رہائش گاہ کا محاصرہ کرلیا اور انہیں مسجدِ نبوی میں نمازیوں کی امامت سے روک دیا۔ غفیقی نامی ایک یمنی نے، جو ابن سبا کا نائب تھا، خلیفہ کی جگہ نمازوں کی امامت شروع کردی۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابن سبا کی طرح وہ بھی یہودی تھا کیونکہ شہادتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد اس نے اس قرآن کو پاؤں سے ٹھوکر ماری جسے شہادت کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پڑھ رہے تھے اور یہ الٹ کر خلیفہ کے گھٹنوں پر گر پڑا۔
باغیوں نے خلیفہ کی رہائش گاہ کا گیٹ جلادیا تاہم وہ اندر نہ جاسکے۔ اس پر حملہ آور محمد(بن ابو بکرؓ) کے ہمراہ پیچھے کی گلی سے ہوکر مکان کی عقبی دیوار پر چڑھ گئے اور اندر کود کر قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے خلیفہ کو شہید کرڈالا۔ انکی اہلیہ شوہر کو بچانے کی کوشش میں شدید زخمی ہوگئیں۔ ان کے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ باغیوں نے گھر میں لوٹ مار بھی کی۔ حملہ سے قبل محمد بن ابی بکرنے معمر خلیفہ کی داڑھی پکڑلی۔ جب خلیفہ نے انہیں شرم دلائی کہ "اگر آپ کے والد(ابوبکرؓ ) یہاں ہوتے اور آپ کو اس حالت میں دیکھتے ۔۔۔" تو انہوں نے داڑھی چھوڑ دی اور واپس چلے گئے تاہم دوسروں نے اپنا کام مکمل کر دیا۔ شومیٔ قسمت دیکھیے کہ باغیوں نے خلیفہ کے جسدِ خاکی کو جنت البقیع میں دفن کرنے سے بھی روک دیا اور کہا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ یہودی ہیں (استغفراللہ) اور یہ حقیقت ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو جس قطعہ اراضی پر دفن کیا گیا وہ ایک یہودی کی ملکیت تھی۔ بعد میں جب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے وہ قطعہ اراضی جس میں معصوم خلیفہ کی قبر تھی خرید کر جنت البقیع میں شامل کر دیا۔
=== شہادت عثمان کے بعد کی صورتحال ===
شہادت عثمان کے بعد باغی اب چاہتے تھے کہ اپنے جرم کا کوئی جواز پیدا کرلیں تاکہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے بچ سکیں۔ پہلے وہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور انہیں خلافت کی پیش کش کی مگر انہوں نے انہیں جھڑک کر واپس بھیج دیا۔ جس کے بعد وہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے لیکن انہوں نے بھی انہیں منہ نہ لگایا۔ پھر انہوں نے ایک اور حربہ اختیار کیاکہ مدینہ کی گلیوں میں اعلان کرنے لگے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کہو کہ وہ خلافت سنبھال لیں ورنہ ہم تمہارا قتلِ عام شروع کردیں گے۔ اس کے نتائج خاطر خواہ نکلے۔ لوگ روتے پیٹتے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور استدعا کی کہ انہیں ہتھے سے اکھڑے ہوئے باغیوں کی دستبرد سے بچائیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان کی آہ و فغاں سے متاثر ہوئے مگر کہا کہ خلافت عوام الناس کا معاملہ ہے۔ میں نہ تو آپ کے کہنے پر اور نہ ہی باغیوں کے کہنے پر اسے سنبھال سکتا ہوں۔ یہ بات تو درست ہے کہ خلیفہ کی ضرورت ہے مگر اس کے لیے لوگوں کی رائے لینا ہوگی۔ اس لیے میں کل نمازِ فجر کے بعد لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔
اگلے روز نماز کے بعد علی رضی اللہ تعالی عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر اور بے گناہ خلیفہ کے بہیمانہ قتل پر دلی دکھ اور صدمے کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ منتخب کرلیں۔ شاید سب سے پہلے چیخنے والے سبائی ایجنٹ ہی ہوں جنہوں نے کہا " صرف آپ ہی اس کے مستحق ہیں، کیونکہ آپ سب سے اچھے مسلمان ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کہنے والےسچے مسلمان ہی ہوں تاہم اس موقع پر کوئی اور نام سامنے نہ آیا اور لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کرنا شروع کردی۔ باغیوں نے دیکھا کہ بعض ممتاز اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم اس موقع پر خاموش رہے اور انہوں نے کسی قسم کی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
ان میں زید رضی اللہ تعالی عنہ بن ثابت، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ ، طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ ، زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ، اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ ، اور صہیب رضی اللہ تعالی عنہ شامل تھے۔ باغیوں کو سب سے زیادہ خدشہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے تھا۔ اس لیے وہ ان دونوں کو بہ نوکِ شمشیر مسجد میں لائے اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت نہ کی تو وہ انہیں قتل کر دیں گے۔ جب باغیوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ لا تعلق اور مصالحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ ان سے بعد میں بیعت لے لیں گے۔ چنانچہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے جبر اور دباؤ کے تحت بیعت کی۔
== جنگ جمل کی وجوہات ==
عام لوگوں کو توقع تھی کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ خلافت کا آغاز ہی قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی گرفتاری سے کریں گے مگر دن اور ہفتے گزرنے لگے اور ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ مدینہ کا کنٹرول عملی طور پر باغیوں کے ہاتھ میں تھا اور علی رضی اللہ تعالی عنہ باغیوں کی مرضی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے۔
اب مدینہ سے ایک اور خط پورے عالمِ اسلام میں پھیلایا گیا جس میں کہا گیا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ بننے کے لیے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کرایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو اس الزام پر یقین آنے لگا۔ یہ فطری بات تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ اور بچوں کو ہر شخص سے زیادہ دلچسپی تھی کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف نظامِ انصاف کو حرکت میں لایا جائے۔ اس لیے،شاید مدینہ سے مایوس ہوکر، آپ کی اہلیہ نے اپنی کٹی ہوئی انگلیاں اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا خون آلود کرتا جو بوقتِ شہادت زیبِ تن کیے ہوئے تھے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شام بھجوادیا جو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان پر زور دیا کہ قتلِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقام لیا جائے۔ غالباً سبائیوں نے بھی شام سے خطوط علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھجوائے جن میں انہیں بھڑکایا گیا کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خلافت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور راہِ اسلام سے بھی ہٹ گئے ہیں۔ اس قسم کے خطوط جب ایک تسلسل اور منصوبہ بندی کے ساتھ آئیں تو اپنا اثر ضرور دکھاتے ہیں۔ اس موقع پر اپنے مخلص دوستوں کے مشوروں کو نظر انداز کرکے علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سمیت صوبائی گورنروں کو شہادتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے سانحہ کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وہ خلافت کا منصب سنبھال چکے ہیں اب وہ نہ صرف خود نئے خلیفہ کی بیعت کریں بلکہ اپنے اپنے صوبوں میں بھی خلیفہ کے لیے بیعت لیں۔ انہوں نے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام خط میں انہیں گورنر کے منصب سے معزول کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ چارج نئے گورنر کے حوالے کردیں۔
سبائیوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی لیکن وہ آسانی سے ان کے چکر میں آنے والے نہ تھے۔ انہوں نے علیؓ کے خط کا جواب نہایت نرمی سے دیا اور کہا کہ جب قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو گرفتار کرکے سزا دے دی جائے گی وہ بیعت کرلیں گے۔
== جنگ جمل واقعات ==
اسی اثناء میں سبائیوں کی طرف سے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا اور دوسری ازواجِ مطہراات کو خط بھجوائے گئے جن میں الزام لگایا گیا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سزا دینے سے انکاری ہیں اور امہات المومنین ہونے کی حیثیت سے آپ کا یہ حق اور فرض ہے کہ آپ اپنے "بچے" عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتلوں کےسروں کا مطالبہ کریں۔ بصرہ سے آنے والے خطوط میں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر امہات المومنینؓ بصرہ آئیں وہ تو وہ انہیں ہر ممکن مدد کے لیے حاضر پائیں گی۔
کچھ عرصہ بعد طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ جانے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوگئے۔ ان کی منزل بصرہ تھی۔ مورخوں کا کہنا ہے کہ ان کی روانگی سے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر انہوں نے بصرہ کے خزانے پر قبضہ کرلیا اور وہاں کی فوج ان سے مل گئی تو وہ حکومت کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے بھی عراق جانے کا قصد کرلیا۔ ادھر ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ان کے بھائی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل زور دے رہے تھے کہ وہ سیاست میں سرگرم حصہ لیں۔ اسی اثناء میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنے کچھ قریبی عزیزوں کے ہمراہ عراق تشریف لے گئیں۔ بصرہ کے نزدیک ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد جمع ہوجانے والوں اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
جنگ جمل مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ ہے جس میں بھائی نے بھائی کا خون بہایا۔ اس جنگ کے شعلے مزید بھڑکے اور حضرت [[امیر معاویہ]] نے قصاص عثمان کا مطالبہ کر دیا۔ اور شام میں بغاوت کی۔ جس کی سرکوبی کے لیے [[جنگ صفین]] لڑی گئی۔ یوں مسلمانوں کی عظیم ریاست چند باغیوں کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اور اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔
 
== قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ کون؟ ==
حضرت علی کی فوج میں ایک تعداد باغیوں اور قاتلان عثمان کی تھی اس لیے وہ خود بھی بے بس تھے کہ ان سے کس طرح جان چھڑا سکیں ۔ان فوجیوں اور باغیوں کے بارے میں علی کے الفاظ پڑھیے جو ـ"نہج البلاغہ "میں نقل ہوئے ہیں۔ "میں روز اول سے تمھاری غداری کے انجام کا انتظار کر رہا ہوں اور تمھیں فریب خوردہ لوگوں کے انداز سے پہچان رہا ہوں"(صفحہ 45)
"میں تو تم میں سے کسی کو لکڑی کے پیالہ کا بھی امین بناؤں تو یہ خوف رہے گا کہ وہ کنڈا لے بھاگے"(صفحہ 69)
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات|2}}
== بیرونی روابط ==
* [http://ebooks.i360.pk/2013/11/06/jang-jamal-aur-jang-sufain-ka-yahudi/ جنگ جمل اور جنگ صفین کا یہودی پس منظر]
{{اہم اسلامی معرکے}}
 
[[زمرہ:پہلا فتنہ]]
[[زمرہ:650ء کی دہائی کے تنازعات]]
[[زمرہ:ایشیا میں 656ء]]
[[زمرہ:656ء]]
[[زمرہ:خلفائےایشیا راشدینمیں کی جنگیں656ء]]
[[زمرہ:بصرہ]]
[[زمرہ:پہلا فتنہ]]
[[زمرہ:خلافت راشدہ]]
[[زمرہ:خلفائے راشدین کی جنگیں]]
[[زمرہ:مسلم خانہ جنگیاں]]