"الافضل بن صلاح الدین" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
(ٹیگ: القاب)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
 
'''الافضل بن صلاح الدین''' (Al-Afdal ibn Salah ad-Din)
({{lang-ar|الأفضل بن صلاح الدين}}) [[صلاح الدین ایوبی]] کے سات بیٹوں میں سے ایک تھا۔ وہ اپنے والد کے بعد [[دمشق]] کا دوسرا [[امیر]] بنا۔
 
[[637ء]] میں مسلم افواج کی یروشلم کی فتح کے وقت سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ [[عمر بن خطاب]] کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے [[یروشلم]] کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ [[کلیسائے مقبرہ مقدس]] کے دورہ کے دوران نماز کا وقت آ گیا،گیا اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں،گئیں اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔
 
[[1193ء]] میں اس واقہ کی یاد میں [[صلاح الدین ایوبی]] کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے میں ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام [[مسجد عمر (یروشلم)|مسجد عمر]] ہے۔ بعد ازاں[[سلطنت عثمانیہ|عثمانی سلطان]] [[عبد المجید اول]] نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔
 
[[زمرہ:1169ء کی پیدائشیں]]