"انٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار درستی+ربط+ترتیب+صفائی (9.7))
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
|homepage = {{URL|http://www.esrb.org/|www.ESRB.org}}
}}
'''اینٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ''' (مجلسِ درجہ بندی برائے تفریخی سوفٹویئر) [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کی ایک غیر سرکار تنظیم ہے جو گیمز کو کھیلنے والے شمالی امریکی بچوں کی عمر، شعور،شعور اور ذہنی سطح کے لحاظ سے گیمز کو مخصوص درجہ بندی میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ ویڈیو گیم صنعت کا ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت صارفین کو کسی بھی گیم میں استعمال ہونے والے تشدد یا غیراخلاقیغیر اخلاقی مواد کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔
 
== تعارف ==
 
آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں جہاں انسانی سہولت کے لیے بے شمار ایجادات وجود میں آئی ہیں وہیں کھیلوں نے بھی جدید روپ اختیار کر لیا اور کمپیوٹر کی مفید ایجاد نے ان کھیلوں کو ڈیجٹلائزڈ کرکے گھر گھر پہنچادیا ہے،
آج لاکھوں کی تعداد میں ویڈیو گیمز ٹی وی اور کنسول سے کمپیوٹر تک ہر سہولت کے مطابق بازار میں بآسانی دستیاب ہیں جنہیوں نے مقبولیت کے ساتھ متنازع حیثیت بھی اختیار کرلی ہے اور یہ بحث بھی جاری ہے کہ کمپیوٹر گیمز کا استعمال تفریح و معلومات اور ذہنی تربیت کرتا ہے یا بچوں میں طبی، نفسیاتی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل پھیلارہاپھیلا ہے.رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کمپیوٹر کا استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے اور کمپیوٹر گیمز بھی ذہنی تربیت میں معاون ہے مگر اس کا نافہمانہ استعمال بچوں میں انتہائی مہلک اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے، مغربی مفکرین اور نفسیات دان کے مطابق جدید دور میں بنائے جانے والے گیمز بچوں اور نوجوانوں میں جارحیت پیدا کر رہے ہیں، بعض ویڈیو گیمز کمپنیاں اپنے گیمز کو حقیقت سے قریب تر دکھانے اور اس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے عنصر شامل کر رہے ہیں جن میں ماردھاڑ تشدد اور خون خرابا ،خرابا، جزوی یا مکمل عریانیت ،عریانیت، جنسی تشدد، گیم کے کردار کا مجرمانہ طرز عمل یا دیگر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد رکھنے والے ویڈیو گیمز بچوں اور نوجوانوں میں نشہ اور جارحیت جیسے مسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں . نفسیات کی اصطلاح میں جارحیت سے مراد ایسا رویہ ہے جو کسی بھی شے کو نقصان پہنچائے اور ایسا ارادہ جو بدنیتی پر مبنی ہو،جارحیت کی تین قسمیں ہیں زبانیزبانی، ، جسمانی،جسمانی اور تعلقاتی، زبانی جارحیت سے مراد گیم میں کسی کردار کے ذریعہ گالی گلوچ یا فحش الفاظ کا استعمال بھی بچوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوتا ہے، تشدد چوٹ اور مارپیٹ سے مراد جسمانی جارحیت کے ہے جو سنگین اور نقصان دہ ہونے کا امکان ہوتی ہے.ہے۔ کیونکہ ایسے مناظر کی دیکھا دیکھی بچے اور نوجوان اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،ہیں اور تعلقاتی جارحیت میں عریانیت، جنسی تشدد اور غیر اخلاقی افعال، نفسیاتی ہیجان کی کیفیت پیدا کرتے ہیں .
 
ماہرین نفسیات کہتے ہیں ایسے مناظر جو بچوں ذہنی سطح اور شعوری سمجھ اور میّسر ماحول میں موجود نہ ہوں اور ویڈیو گیم کے ذریعہ ان تک پہنچیں تو اور ان کے ذہن میں ہیجان اور منفی طرز عمل کی صورت اختیار کرلیتا، ویڈیوگیم کو اگر بچہ اور نوجوان کی ذہنی سطح، عمر اور شعور کو مدنظر رکھ کر کھیلا جائے تو یہ ذہنی اور جسمانی کارکردگی کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا حل یہ نہیں کہ ویڈیو گیم کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے خطرناک قراد دے کر ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے، بلکہ یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو ہر ویڈیو گیم کھیلنے نہ دیا جائے، بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی تک عمر کے ساتھ ساتھ شعور اور ذہنی سطح میں بھی فرق ہوتا ہے، ایسے بچہ اور نوجوان جو ابھی پختہ شعور تک نہیں پہنچے ہیں انہیں تشدد و جارحیت اور غیراخلاقیغیر اخلاقی مواد سے بھرپور گیمز کی بجائے ان کے لیے ایسے مفید گیمز کو ترجیح دی جائے جو ان کی ذہنی تربیت میں اضافہ کرے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دے۔ <ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = ویڈیو گیم کی نفسیات | ربط = http://gnextmag.blogspot.com/2010/10/psychology-of-video-game.html | اخبار = جنریسن نیکسٹ | تاریخ = اکتوبر 2010ء}}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = بچوں کی نفسیات پر ویڈیو گیم کے اثرات | ربط = | اخبار = ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ | تاریخ = نومبر 2010ء}}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = بچے اور ویڈیو گیمز | ربط = http://www.express.pk/story/73291/ | اخبار = روزنامہ ایکسپریس | تاریخ = 5 جنوری 2013ء}}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = ویڈیو گیم کے عادی بچے ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں، نفسیاتی ماہرین | ربط = http://www.alhaider.net/index.php?option=com_content&view=article&id=299:2012-06-14-19-04-00&catid=75:2012-04-19-03-58-46&Itemid=29 | اخبار = الحیدر | تاریخ = 19 اپریل 2012ء}}</ref><ref>{{حوالہ خبر | نام = ویڈیو گیم | عنوان = متنازع ویڈیو گیم | ربط = http://sarailliyasi.blogspot.com/2011/04/blog-post_25.html | اخبار = سارا الیاس بلاگ}}</ref>
 
اب والدین اپنے بچوں کے لیے اچھے اور برے گیمز سے کیسے آگاہ ہوں اس کے لیے 1993ء میں امریکہ میں ان پرشدد ویڈیو گیمز کے خلاف کانگریس میں آواز اٹھائی گئی جس میں انتہائی کامیابی سے دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو گیم انڈسٹری ایک ایسا نظام وضع کرے جس سے گیم میں استعمال ہونے والے تشدد یا غیراخلاقیغیر اخلاقی مواد کے بارے میں والدین کو آگاہ کیا جاسکے، چنانچہ 1994ء میں ای ایس آر بی یعنی انٹرٹینمنٹ سافٹ وئیر ریٹنگ بورڈ کے نام سے ادارہ قائم ہوا۔
 
== درجہ بندی ==
 
=== AO ===
صرف بالغ شعور رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ،لیے، ایسے ویڈیو گیمز جن میں فحش یاغیراخلاقی مواد جزوی یا مکمل طور پر شامل ہو، جیسے گرینڈ تھیف آٹو، فارن ہائیٹ اورلولا وغیرہ
 
=== RP ===
ریٹنگ زیرغور ہیں، یہ درجہ بندی عموماّ ان گیمز پر کی جاتی ہے جن کا ابھی ڈیمو ورژن ریلیز ہوا ہو یا پھر پرموشنل ٹریلر دیا جارہاجا رہا ہو
 
=== KtoA ===
کڈز ٹو ایڈلٹ یعنی بچوں سے بالغ تک ہر ایک کی ذہنی سطح کے لیے بنائے گئےگیمگئے گیم جن میں ذہنی و دماغی مشق کے آسان گیمز ہوتے ہیں جیسے برین ایج، میتھ ٹریننگ، سائٹ ٹریننگ وغیرہ
 
== حوالہ جات ==