"بلھے شاہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

6 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
(گروہ زمرہ بندی: منتقل از زمرہ:پنجابی شعراء بجانب زمرہ:پنجابی شعرا)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
}}
 
'''بلھے شاہ''' ایک [[پنجابی زبان|پنجابی]] صوفی شاعر تھے۔
 
== ابتدائی زندگی ==
بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ ہے۔ <ref>[http://www.apnaorg.com/poetry/bullahn بلھے شاہ کی زندگی]</ref>آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 1680ء میں [[مغلیہ سلطنت]] کے عروج میں [[اچ|اوچ گیلانیاں]] میں پیدا ہو ئے۔ <ref>[https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-baba-bulleh-shah بلھے شاہ کی زندگی کے بارے میں معلومات]</ref> کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد [[قصور]] کے قریب پانڈومیں منتقل ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی۔ [[قرآن]] ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق، نحو، معانی، کنز قدوری،شرح وقایہ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔ مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ ان کا جنون آمیز رشتہ ان کی مابعد الطبیعیات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ پکے وحدت الو جودی تھے، اس لیے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لیے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت ان کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ ان کی شاعری میں شرع اور عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرع بند نہیں باندھ سکتی۔
 
== زندگی ==
بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر ہیں۔ ان کا تعلق [[تصوف|صوفیاء]] کے قادریہ مکتبہمکتب فکر سے تھا۔ ان کی ذہنی نشوونما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔ ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لیے ان کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔
 
== شاعری ==
اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں”میں ” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لیے اس کا گہرا اثر ان کے افکار پر بھی پڑا۔ ان کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی،دوستی اور عالم گیر محبت کا جود رس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔
 
=== نمونہ کلام ===
 
== انتقال ==
بلھے شاہ کا انتقال 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ <ref>[http://www.poetry-chaikhana.com/B/BullehShah/ بلھے شاہ کی شاعری]</ref> ان کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
 
== ان کے کلام کے بارے میں ==