"نظریۂ ارتقا" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  4 سال پہلے
م
درستی
م (درستی)
ارتقا (evolution) سے مراد علم [[حیاتیات]] میں ایک ایسے نظریے سے لی جاتی ہے کہ جس کے تحت تمام [[حیات|جاندار]] اجسام ، ماضی میں رہنے والے کسی ایک ہی جد{{زیر}} امجد یا مورث (ancestor) کی ترمیم شدہ اشکال ہیں<ref>Icons of evolution By Jonathan Wells ISBN 0-89526-200-2 [http://www.amazon.com/gp/product/0895262002 ایک روئےآن خطلائن کتب فروش پر]</ref>۔ ان ترامیم سے بنیادی طور پر مراد [[ڈی این اے|وراثی مادے]] میں ہونے والی ترامیم کی لی جاتی ہے؛ یعنی [[وراثہ|وراثوں]] میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں کہ جو ایک جاندار کی گذشتہ سے اگلی نسل کے درمیان واقع ہوں۔ چونکہ وراثے ہی [[لحمیات]] تیار کرتے ہیں جو کسی بھی جاندار کی [[طرز ظاہری|طرزظاہری (phenotype)]] پر براہ راست اثر پیدا کرنے والے سالمات ہیں۔ گو چند نسلوں کے مابین ، وراثی مادے میں ہونے والی یہ ترامیم بہت ہی قلیل اور ناقابل{{زیر}} شناخت ہوتی ہیں لیکن ارتقا کے نظریات دانوں کے مطابق یہ ترامیم عرصۂ دراز گذرجانے پر مجتمع ہوکر طرز ظاہری پر نمایاں اثر پیدا کرتی ہیں اور جاندار کی جسمانی ساخت تبدیل کر کہ نئی [[نوع|انواع]] وجود میں لانے کا سبب بن سکتی ہیں، اور یہ عمل کہ جس میں نئی انواع نمودار ہوتی ہیں [[انتواع|انتواع (speciation)]] کہلاتا ہے۔ ارتقا دانوں کے نزدیک [[نامیہ|نامیات (organisms)]] کے مابین پائی جانے والی ساختی مماثلت اس بات کی توثیق ہے کہ تمام انواع (یعنی تمام اقسام کے موجودہ جاندار) ایک [[نسب مشترک|نسبِ مشترک (common descent)]] سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ابتدائییییی سطور میں آیا کہ جد امجد سے شروع ہوکر نسل در نسل منتقل ہونے والی ان تبدیلیوں میں اہم کردار وراثی مادے یعنی genes کی ترامیم کا سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے اس نسبِ مشترک کے تصور کو [[تجمیعۂ وراثہ|تالابِ وراثہ (gene pool)]] کی اصطلاح سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے<ref>Futuyma, Douglas J. (2005). Evolution. Sunderland, Massachusetts: Sinauer Associates, Inc. ISBN 0-87893-187-2</ref>
 
لوئی ہیتھ لیبر (Louise Heath Leber) نے کہا ہے کہ ارتقاء کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ گھر سب سے بڑا کمرہ ہے:
43,445

ترامیم