مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

م
حوالہ جات/روابط کی درستی
== اداکاری ==
[[فائل:Shahrukh Khan 2004.jpg|thumb|شاہ رخ خان]]<h3> 1988ء تا 1992ء (تھیٹر ، ٹی وی اور فلموں میں آمد ) </h3>شاہ رخ خان نے اداکاری کی تعلیم تھیٹر ڈائریکٹر بیری جان سے [[دہلی]] کے تھیٹر ایکشن گروپ (TAG)میں لی، سال 2007ء میں جان نے اپنے پرانے شاگرد کے بارے میں کہا،
<blockquote> "The credit for the phenomenally successful development and management of Shah Rukh's career goes to the superstar himself." (ترجمہ - شاہ رخ کے کیریئر کی غیر معمولی کامیابی کا سارا کریڈٹ اس ہی کو جاتا ہے ۔)<ref>[http://www.hindustantimes.com/art-and-culture/theatre-is-at-an-all-time-low-in-delhi/story-cdTZmWVLZbZpajDHYUYWiM.html 'Theatre is at an all-time low in Delhi' | art and culture | Hindustan Times<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> </blockquote>
 
شاہ رخ خان نے اپنا کیریئر [[1988ء]] میں [[دوردرشن]] کے سیریل "[[فوجی]]" سے شروع کیا جس نے كمانڈو ابھیمنیو رائے کا کردار ادا کیا ۔<ref>http: / /www.mid-day.com/entertainment/television/2002/october/32887.htm</ref> اس کے بعد انہوں نے اور بہت سیریلز میں اداکاری جن میں اہم تھا [[1989ء]] کا "[[سرکس]]" ، جس سرکس میں کام کرنے والے افراد کی زندگی کو بیان کیا گیا تھا اور جس کی ہدایت [[عزیز مرزا]] نے کی تھی ۔ اسی سال انہوں نے [[ارون دھتی رائے]] کی طرف سے لکھا [[انگریزی]] فلم "ان وچ اینی گیوز اٹ دوز ون " (In Which Annie Gives It Those Ones) میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا۔ یہ فلم [[دہلی یونیورسٹی]] میں طالب علم کی زندگی پر مبنی تھی۔<ref>news.bbc.co.uk/2/hi/entertainment/2204900.stm</ref>
 
اپنے والدین کی وفات کے بعد [[1991ء]] میں خان [[نئی دہلی]] سے [[ممبئی]] آ گئے۔ بالی ووڈ میں ان کا پہلا کام "[[دیوانہ (1992 فلم)|دیوانہ]]" فلم میں ہوا جو باکس آفس پر کامیاب رہی ۔<ref>[http://web.archive.org/20060408044054/www.boxofficeindia.com/1992.htm BoxOfficeIndia.Com-The complete hindi film box office site<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> اس فلم کے لیے انہیں [[فلم فیئر]] کی طرف سے بہترین نوآموز اداکار کا ایوارڈ ملا ۔ ان کی اگلی فلم تھی "[[مایا میم صاحب]]" جو کامیاب نہیں ہوئی ۔ <h3> 1993ء تا 1994ء (منفی کرداروں میں )</h3>[[1993ء]] کی ہٹ فلم "[[بازیگر (1993 فلم)|بازیگر]]" میں ایک منفی کردار ادا کرنے کے لیے انہیں اپنا پہلا [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] ملا ۔ اسی سال میں فلم "[[ڈر]]" میں عشق کے جنوں میں پاگل عاشق کا کردار ادا کرنے کے لیے ان سرهايا گیا ۔ اس سال میں فلم "[[کبھی ہاں کبھی نا]]" کے لیے انھیں فلم فیئر مبصرین(کریٹکس) بہترین اداکار کے ایوارڈسے بھی نوازا گیا ۔ [[1994ء]] میں خان نے فلم "[[انجام]]" میں ایک بار پھر جنونی اور نفسیاتی عاشق کا کردار ادا کیا اور اس کے لیے انہیں فلم فیئر بہترین منفی کردار کا ایوارڈبھی حاصل ہوا ۔ <h3>1995 تا 1998ء (رومانوی ہیرو )</h3>[[1995ء]] میں انہوں نے [[آدتیہ چوپڑا]] کی پہلی فلم "[[دلوالے دلہنیا لے جائیں گے (1995ء فلم)|دل والے دلہنیا لے جائیں گے]]" میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ فلم بالی وڈ کی تاریخ کی سب سے زیادہ کامیاب اور بڑی فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے ۔ ممبئی کے کچھ سنیما گھروں میں یہ 20 سالوں سے چل رہی ہے ۔ <ref>[http://web.archive.org/20051222235822/www.boxofficeindia.com/alltime.htm BoxOfficeIndia.Com-The complete hindi film box office site<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> اس فلم کے لیے انہیں ایک بار پھر [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] حاصل ہوا ۔اس فلم نے شاہ رخ خان کو بالی وڈ کا سپر سٹار بنا دیا۔
 
1995ء میں ان کی ایک اور فلم [[کرن ارجن]] بھی سپر ہٹ رہی۔ البتہ 1995ء میں ریلیز ہونے والی دیگر فلمیں اور سال 1996ء ان کے لیے ایک مایوس کن سال رہا چونکہ اس میں ان کی بہت ساری فلمیں ناکامی سے چوچار ہوئیں ، جن میں زمانہ دیوانہ، گڈو، او ڈارلنگ یہ ہے انڈیا، تری مورتی ، انگلش بابو دیسی میم، چاہت اور کوئلہ شامل ہیں ، ان کی بعض فلمیں مثلاً آرمی اور رام جانے اوسط درجے کی رہیں۔ <ref>[http://web.archive.org/20061015173528/www.boxofficeindia.com/shahrukhkhan.htm BoxOfficeIndia.Com-The complete hindi film box office site<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
1997ء میں انہوں نے [[یش چوپڑا]] کی [[دل تو پاگل ہے (1997ء فلم)|دل تو پاگل ہے]]، [[سبھاش گھئی]] کی [[پردیس (1997ء فلم)|پردیس]] اور [[عزیز مرزا]] کی [[يےس باس (1997ء فلم)|يےس باس]] جیسی فلموں کے ساتھ کامیابی کی طرف پھر قدم بڑھایا۔<ref>http: // web .archive.org / 20060408044031 / www.boxofficeindia.com / 1997.htm</ref> سال 1998ء میں کرن جوہر کی بطور ڈائریکٹر پہلی فلم [[کچھ کچھ ہوتا ہے (1998ء فلم)|کچھ کچھ ہوتا ہے]] اس سال کی سب سے بڑی ہٹ قرار پائی اور
شاہ رخ خان کو چوتھی بار [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] حاصل ہوا ۔ اسی سال انہیں [[منی رتنم]] کی فلم '' [[دل سے (1998ء فلم)|دل سے]] '' میں اپنے اداکاری کے لیے فلم مبصرین سے کافی تعریف ملی اور یہ فلم بھارت کے باہر کافی کامیاب رہی۔ <ref>http://web.archive.org/20051223014121/www.boxofficeindia.com/overseas.htm|</ref> <h3>1999ء تا 2003ء (کیرئیر کے اُتار چڑھاؤ)</h3>1999ء کا سال ان کے لیے کچھ خاص فائدہ مند نہیں رہا چونکہ ان کی ایک صرف فلم، [[بادشاہ (1999ء فلم)|بادشاہ]]، ریلیز ہوئی جو اوسط درجے کی رہی۔ <ref>http: // web. archive.org/20040402124634/www.boxofficeindia.com/1999.htm</ref> 2000ء میں [[آدتیہ چوپڑا]] کی [[محبتیں (2000ء فلم)|محبتیں]] میں ان کے کردار کو شدید سے بہت تعریف ملی اور اس فلم کے لیے انہیں اپنا دوسرا [[فلم فیئر مبصرین بہترین اداکار ایوارڈ]] ملا ۔ اس ہی سال آئی ان کی فلم جوش بھی ہٹ ہوئی۔ اس ہی سال میں خان نے [[جوہی چاولہ]] اور عزیز مرزا کے ساتھ مل کر اپنی خود کی فلم پروڈکشن كمپني، 'ڈريمز ان لمیٹڈ'، قائم کی ۔ اس كمپني کی پہلی فلم [[پھر بھی دل ہے ہندوستانی (2000ء فلم)|پھر بھی دل ہے ہندوستانی]]، جس میں شاہ رخ خان اور جوہی چاولہ نے اداکاری کی ، باکس آفس پہ جادو بکھیرنےمیں کامیا ب نہ ہو سکی ۔ [[کمل حسن]] کی فلم [[ہے رام (2000 ءفلم)|ہے رام]] میں بھی خان نے ایک معاون کردار ادا کیا جس کے لييے انہیں بہت سراہا گیا تاہم یہ فلم بھی ناکام ہی رہی۔
 
2001ء میں شاہ رخ خان نے [[کرن جوہر]] کے ساتھ اپنی دوسری فلم '' [[کبھی خوشی کبھی غم (2001ء فلم)|کبھی خوشی کبھی غم]] '' کی جو ایک خاندانی کہانی تھی اور جس میں دیگر کئی معروف اداکار تھے۔ یہ فلم اس سال کی سب سے بڑی ہٹ فلموں کی فہرست میں شامل تھی ۔ شاہ رخ خان کو اپنی فلم [[اشوکا (2001ء فلم)|اشوکا]]،جوکہ تاریخی شہنشاہ [[اشوک]] کی زندگی پر مبنی تھی، کے ليے بھی تعریف ملی لیکن یہ فلم بھی ناكام رہی۔ 2002 ء میں خان نے [[سنجے لیلا بھنسالی]] کی ٹریجڈی اور رومانوی فلم [[دیوداس (2002ء فلم)|دیوداس]] میں اہم کردار ادا جس کے لیے انہیں ایک بار پھر [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] دیا گیا ۔ یہ [[شرت چندر چٹوپادھيائے]] کے ناول [[دیوداس (ناول)]] پر مبنی تیسری ہندی فلم تھی۔اگلے سال شاہ رخ خان کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں، [[چلتے چلتے (2003 ءفلم)|چلتے چلتے]] اور [[کل ہو نہ ہو (2003ء فلم)|کل ہو نہ ہو]] | چلتے چلتے ایک اوسط ہٹ ثابت ہوئی ، لیکن کل ہو نا ہو، جو [[کرن جوہر]] کی تیسری فلم تھی، علاقائی اور بین الاقوامی دونوں باکس آفس میں كامياب رہی ۔ اس فلم میں شاہ رخ خان نے ایک دل کے مریض کا کردار ادا کیا جو مرنے سے پہلے اپنے ارد گرد خوشی پھیلانا چاہتا ہے اور اس اداکاری کے لیے انہیں سرهايا بھی گیا۔<ref>[http://web.archive.org/20060212104056/www.boxofficeindia.com/2003.htm BoxOfficeIndia.Com-The complete hindi film box office site<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref><h3>2004 تا 2009ء (حیات نو۔ پھر سے اُبھرنا)</h3>
 
2004ء خان کے لیے ایک اور اہم سال رہا. اس سال کی ان کی پہلی فلم تھی [[فرح خان]] ہدایت [[میں ہوں نا (2004ء فلم)|میں ہوں نا]]، جس میں شاہ رخ خان بھی شریک پروڈیوسرتھے، یہ فلم باکس آفس پر ایک بڑی ہٹ ثابت ہوئی ۔ ان کی اگلی فلم تھی [[یش چوپڑا]] كی '' [[ویر زارا (2004ء فلم)|ویر زارا]] '' جو اس سال کی سب سے کامیاب فلم تھی اور جس سے شاہ رخ خان کو اپنے اداکاری کے لیے بہت ایوارڈ اور بہت تعریف ملی۔
جنوری 2013ء ان کی تیسری فلم تھی [[اشوتوش گوواركر]] ہدایت '' [[سوادیس (2004ء فلم)|سوادیس]] '' جو ناظرین کو سینما گھروں میں لانے میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس میں شاہ رخ خان کے بھارت واپس آئے ایک تارکین وطن بھارتی کے کردار کو سرهايا گیا اور شاہ رخ خان نے اپنا چھٹا [[فلم فیئر بہترین اداکار ایوارڈ]] جیتا۔<ref>[http://web.archive.org/20041027004300/www.boxofficeindia.com/2004.htm 2004 BOX OFFICE FIGURES<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
سن 2005ء میں ان کی واحد فلم [[پہیلی (2005ء فلم)|پہیلی]] (جو [[امول پالیكر]] کی طرف سے ہدایت کردہ تھی )، باکس آفس پر ناکام رہی۔ لیکن اس میں شاہ رخ خان کی اداکاری کو سرهايا گیا۔
2006ء میں خان ایک بار پھر [[کرن جوہر]] کی فلم [[کبھی الوداع نہ کہنا (2006 ءفلم)|کبھی الوداع نہ کہنا]] میں آئے ، جس میں بھی کئی معروف اداکار شامل تھے۔ ۔ اس فلم نے بھارت میں تو کامیابی حاصل کی ہی، ساتھ ہی ساتھ یہ بیرون ملک سب سے زیادہ کامیاب ہندی فلم بھی بن گئی ۔
اسی سال شاہ رخ خان نے 1978ء کی ہٹ فلم [[ڈان (1978ء فلم)|ڈان]] کی ریمیک [[ڈان (2006ء فلم)|ڈان]] میں بھی اداکاری کی جو ایک بڑی ہٹ ثابت ہوئی ۔<ref>[http://web.archive.org/20060326011123/www.boxofficeindia.com/2006.htm BoxOfficeIndia.Com-The complete hindi film box office site<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
2007ء میں شاہ رخ خان کی دو فلمیں آئی ہے - [[چک دے! انڈیا (2007ء فلم)|چک دے! انڈیا]] اور [[اوم شانتی اوم]] ۔ [[چک دے! انڈیا (2007ء فلم)|چک دے! انڈیا]] میں خان بھارتی خاتون ہاکی ٹیم کے کوچ کے کردار میں نظر آتے ہیں جن کا مقصد بھارت کو ورلڈ کپ دلوانا تھا، اس کردار کی لیے شاہ رخ خان کو خاصی تعریف ملی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ یہ فلم ایک بڑی ہٹ بھی ثابت ہوئی ہے ۔
شاہ رخ خان 2007ء کی دوسری فلم [[اوم شانتی اوم]] میں بھی نظر آئے یہ فرح خان کی شاہ رخ خان کے ساتھ دوسری فلم ہے ۔ اس میں خان نے دوہرا کردار ادا کیا | پہلا کردار اوم ایک جونیئر آرٹسٹ ہے اور ایک حادثے میں مارا جاتا ہے اور دوسرا ایک نامی گرامی اداکار اوم کپور کا ہے ۔ یہ فلم بھی 2007ء کی ایک کامیاب فلم تھی۔<ref>[http://web.archive.org/20060326011123/www.boxofficeindia.com/2007.htm BoxOfficeIndia.Com-The complete hindi film box office site<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
شاہ رخ خان کے لیے 2008ءسال کی ابتداء کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی ان کا ٹی وی شو’ کیا آپ پانچویں پاس سے تیز ہیں‘ ، تقریباً فلاپ ہی تھا لیکن سال کے آخر میں ان کی فلم ’رب نے بنا دی جوڑی‘ باکس آفس پر کامیاب رہی۔ فلموں کے تجارتی تجزیہ نگار امود مہرہ کے مطابق ’رب نے بنا دی جوڑی نے‘ ہندستان اور غیر ممالک میں نوے کروڑ روپے کا بزنس کیا۔  2009ء میں شاہ رخ خان کی ہوم پروڈکشن کی ایک فلم ’بلو‘ آئی جو انہوں نے تیئس کروڑ روپیوں کے بجٹ کے ساتھ بنائی تھی لیکن فلم باکس آفس پر اپنا جادو نہیں دکھا سکی۔شاہ رخ خان اورعرفان خان کی دوستی پربنی فلم ’بلو‘  ملیا لم فلم کا ری میک تھی۔ یہی فلم تامل زبان میں بھی بنائی گئی جس میں مرکزی کردار رجنی کانت نے ادا کیا تھا۔<h3>2010ء تا حال (سو کروڑ کلب) </h3>2010ء میں مائی نیم اِز خان منظر عام پر آئی ، جس میں شاہ رخ خان کے ساتھ [[کاجول]] نے اداکاری کی۔فلم مائی نیم از خان میں شاہ رخ نے رضوان خان نامی ایک ایسے مسلمان شخص کا کردار نبھایا ہے جو ایسپرجر سنڈروم کا شکار ہے اور جس کی زندگی امریکہ پر ہوئے 11 ستمبر کےحملوں کے بعد بدل جاتی ہے۔ یہ فلم علاقی اور عالمی اعتبار سے سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ <ref>[http://m.urduvoa.com/a/my-name-is-khan-record-business-bollywood-84908937/1140055.html عالمی سطح پرفلم مائی نیم ازخان کا زبردست کاروبار<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> اس فلم نے 200 کروڑ روپے کا بزنس کیا۔
 
اسی سال شاہ رخ خان کا موم سے بنا مجسمہ نیویارک کے [[مادام تساؤ میوزیم]] میں سجا یا گیا ہے۔   اس سے قبل اس میوزیم میں بالی وڈ کے تین ستاروں امیتابھ بچن ،  سلمان خان   اور بالی وُڈ اداکارہ اور سابق مس ورلڈ ایشوریہ رائے  کے مجسمے  رکھے گئے تھے۔<ref>[http://www.dw.com/ur/شاہ-رُخ-خان-نیویارک-کے-مادام-تساؤ-میں/a-5906908 شاہ رُخ خان نیویارک کے مادام تساؤ میں | فن و ثقافت | DW | 13.08.2010<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
سال 2011ء میں  شاہ رخ خان  کی کرینہ کپور  کے ساتھ 24 ملین ڈالر کے بڑے بجٹ سے بنائی گئی فلم ’’را ون‘‘ اور پریانکا چوپڑا  کئے ساتھ ’’ڈان 2‘‘،  ریلیز ہوئی ۔  یہ دونوں فلمیں کامیاب رہیں ، اور اس سال کی ٹاپ فلموں میں باڈی گارڈ، ریڈی اور سنگھم کے بعد چوتھے اور پانچویں نمبر پر شاہ رخ خان کی فلمیں ’’ڈان 2‘‘اور ’’راون ‘‘ رہیں ۔ ان دونوں فلموں کی کامیابی کے ساتھ شاہ رخ خان پہلی مرتبہ دو سو کروڑ کلب میں داخل ہوگئے۔
 
== اعزازات ==
''شاہ رخ خان  کو حکومت فرانس  کی جانب سے آرڈر ڈیس آرٹس اور ڈیس لیٹرز (نائٹ آف آرٹس اور لیٹرز)   اور نائٹ آف لیجن آف آنر اعزاز عطا کیا  کیا۔ ''<ref>[http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2014/07/140702_shahrukh_get_highest_french_award_mb.shtml شاہ رخ خان کے لیے فرانس کا اعلیٰ ترین اعزاز - BBC News اردو<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>''
 
شاہ رخ خان کے ایوارڈز کی مکمل فہرست کے لیے دیکھیے '''[[شاہ رخ خان کے اعزازات]]'''
 
شاہ رخ خان نے کئی فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے جنہیں فلم بینوں نے ناصرف بے حد پسند کیا بلکہ متعدد فلموں نے باکس آفس پر بزنس کے تمام ریکارڈ اپنے نام بھی کیے۔
بھارتی فلم انڈسٹری کے کنگ اور رومانوی ہیروشاہ رخ خان بالی ووڈ کے افق پر چمکتادمکتا ستارہ ہیں جن کا تذکرہ کیے بغیر فلمی دنیا کا تعارف ادھورا ہے ۔ بالی ووڈ کے کنگ خان کانام فلم کی کامیابی اور ریکارڈ بزنس کی ضمانت سمجھا جاتا ہےاور انہوں نے یہ مقام پانے کے لیے کئی ناکامیوں کا سامنا بھی کیا ہے لیکن اس اتار چڑھاؤ کو کبھی خود پرغالب نہیں آنے دیا۔<ref>[http://www.express.pk/story/358315/ شاہ رخ خان کی باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کرنے والی فلمیں - ایکسپریس اردو<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
* فلم ’’چنائی ایکسپریس ‘‘ کا بالی ووڈ کی اب تک سب سے کامیاب فلموں میں شمارہوتا ہے۔ فلم میں مرکزی کردار شاہ رخ خان نے کیا۔ ’’چنائی ایکسپریس‘‘نے اپنی ریلیز کے پہلے دن سے ہی کئی ریکارڈاپنے نام کرنا شروع کئے۔ رومانوی فلم میں شاہ رخ خان کی ادکاری کو شائقین نے بے حدپسند کیا جب کہ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے بھی اپنے کردار سے خوب انصاف کیا،فلم نے مجموعی طور پر تقریبا4 ارب روپے کاریکارڈبزنس کرتے ہوئے کئی ریکارڈبھی اپنے نام کئے۔
* فلم اوم شانتی اوم میں شاہ رخ خان نے دپیکا پڈوکون کے ہمراہ اداکاری کی تھی۔ یہ فلم 2007 کی بلاک بسٹر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔ فلم اوم شانتی اوم ہندی سنیما پر بنائی گئی فلم تھی جس میں شاہ رخ نے ڈبل کردار ادا کیا تھا ۔
* 2004ء کی ریلیز فلم ویر زارا ہندوستانی لڑکے اور پاکستانی لڑکی کے درمیان محبت کہانی پر مبنی ہے۔ اس فلم کو ہندوستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی کافی پسند کیا تھا۔ شاہ رخ نے اس فلم میں ایک ہندوستانی سپاہی کا کردار ادا کیا تھا جسے خوب پسند کیا گیا ۔
* 2010 ءمیں ریلیز ہوئی فلم مائے نیم از خان شاہ رخ کے کیرئیر کی بہترین فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی جسے دنیا بھر میں خوب حوصلہ افزائی ملی تھی۔ اس فلم میں بولی وڈ کی بہترین جوڑی شاہ رخ اور کاجول نے ایک ساتھ کام کیا تھا ۔<ref name=":0">[http://dunyapakistan.com/41922/shahrukh-top-ten-films/ شاہ رخ خان کی دس بہترین فلمیں | Dunya Pakistan<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>
 
((((گلزار صاحب )))). شاہ رخ خان کے جیتے گئے فلمی ایوارڈز:
 
== ملک میں بڑھتی عدم رواداری پر تشویش ==
[[نومبر]] [[2015ء]] میں شاہ رخ خان نے بھارت میں بڑھتی عدم رواداری اور سیکیولر ازم کے فقدان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان باتوں کو قوم پرستوں کے آگے بدترین جرم قرار دیا۔ انہوں نے ادبی اور فلمی شخصیات کی ستائش کی جنہوں نے ان صورت حال میں انعامات واپس کیے اور ایسے قدم مستقبل میں اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔<ref>[http://indianexpress.com/article/india/politics/theres-extreme-intolerance-in-india-says-shah-rukh-khan-on-50th-birthday/ There’s extreme intolerance in India: Shah Rukh Khan on 50th birthday | The Indian Express<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> شاہ رخ کے اس بیان سے [[شیو سینا]] اور کئی دائیں محاذ کی ہندو تنظیمیں مشتعل ہوگئ تھی۔ اسی کی وجہ سے شاہ رخ خان کی 2015ء میں جاری فلم [[دل والے (2015ء کی فلم)|دل والے]] کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے احتجاج کیا گیا۔ [[مدھیہ پردیش]] کے تین شہروں [[بھوپال]]، [[اندور]] اور [[جبلپور]] میں یہ احتجاج کافی شدت اختیار کرگیا تھا۔ [[ممبئی]] کے دادر مال میں اس فلم کی نمائش کے خلاف پرزور احتجاج کر رہے شیوسینکوں کو پولیس کی جانب سے باہر نکالا گیا تھا۔<ref>روزنامہ سیاست، حیدرآباد، بھارت۔ [[19 دسمبر]]، [[2015ء]]</ref> اس کے برعکس [[کرناٹک]] کے [[دکشن کنڑا]] کے ملٹی پلیکسوں اور تھیئٹروں سے اس فلم کی نمائش کو دائیں محاذ کے احتجاج کی وجہ سے روک دیا گیا۔<ref>"Dilwale stays off screen in Dakshina Kannada"، The Hindu، دسمبر 23، 2015</ref>
 
== بیرونی روابط ==