"احسان" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
لفظِ احسان کا مادہ ’’ح - س - ن‘‘ ہے جس کے معنی ’’عمدہ و خوبصورت ہونا‘‘ کے ہیں۔
 
امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا حسین ہونا ہے، جو ہر لحاظ سے پسندیدہ اور عمدہ ہو اور اس کا عمدہ ہونا عقل کے پیمانے پر بھی پورا اترتا ہو، قلبی رغبت اور چاہت کے اعتبار سے بھی دل کو بھلا لگتا ہو اور یہ کہ حسی طور پر یعنی دیکھنے سننے اور پرکھنے کے اعتبار سے بھی پرکشش ہو۔ <ref>راغب اصفہانی، مفردات القرآن : 119</ref>
 
اسی سے باب افعال کا مصدر ’’احسان‘‘ ہے۔ گویا احسان ایسا عمل ہے، جس میں حسن و جمال کی ایسی شان موجود ہو کہ ظاہر و باطن میں حسن ہی حسن ہو اور اس میں کسی قسم کی کراہت اور ناپسندیدگی کا امکان تک نہ ہو۔ پس عمل کی اسی نہایت عمدہ اور خوبصورت ترین حالت کا نام ’’احسان‘‘ ہے اور اس کا دوسرا قرآنی نام ’’تزکیہ‘‘ ہے اور اس کے حصول کا طریقہ اور علم تصوف و سلوک کہلاتا ہے۔
* نیکی۔ عمل خیر وغیرہ۔
* اچھے سلوک کا اعتراف۔ ممنونیت اور اعتراف ممنونیت۔
* تصوف میں نورِ بصیرت سے حق کا مشاہدہ۔ صفات کے پردے میں ذات خداوندی کا دیدار۔ مشاہدہ صفاتیہ جس کو عین الیقین کہتے ہیں۔ <ref>ذاکٹر سید تنویر بخاری/ پروفیسر حمید اللہ جلیل: اسلام اور جدید افکار، صفحہ 49 ذکر احسان۔ مطبوعہ لاہور 1431ھ۔</ref>
 
== قرآن{{زیر}} مجید میں احسان کا مفہوم ==
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کی سنگت اختیار کرو۔ ‘‘
 
ان آیات کریمہ میں پہلے تقویٰ کا بیان ہے تقویٰ کیا ہے؟ یہ دراصل شریعت کے تمام احکام، حلال و حرام پر سختی سے عمل کرنے کا نام ہے۔ اس سے پہلے ’امنوا‘ میں عقائد و ایمانیات کا ذکر بھی آ گیا یعنی ایمان و اسلام پر مبنی شریعت کے تمام احکام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ’’احسان‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جو طریقت و تصوف کی طرف اشارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان نہ صرف شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کر کے اپنے باطنی احوال کو تقوی کے نور سے آراستہ کریں بلکہ اگر ان کو ایمان، اسلام اور احکام شریعت کی بجاآوری اور تقوی کے کمزور پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو انہیں چاہیے کہ سچے بندوں کی سنگت اختیار کر لیں جو صادقین اور محسنین ہیں اور یہی صاحبان احسان درحقیقت احسان و تصوف کی راہ پر چلنے والے صوفیائے کرام ہیں جو اللہ کے نہایت نیک اور مقرب بندے ہوتے ہیں۔ یہی وہ انعام یافتہ بندے ہیں جن کی راہ کو اللہ نے صراط مستقیم قرار دیا ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں سیدھے رستے کی نشاندہینشان دہی کرتے ہوئے دعا کرنے کی تلقین فرمائی گئی۔ ارشاد ہوتا ہے۔
 
{{ٹ}}{{ع}}اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ.{{ڑ}}{{ن}} <ref>القرآن، الفاتحہ، 1 : 5، 6</ref>
انہوں نے پھر پوچھا [[اسلام]] کیا ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
 
{{ٹ}}{{ع}}أن تشهد أن لا إله إلا اﷲ، و أن محمدا رسول اﷲ، و تقيم الصلاة، و تؤتی الزکاة، و تصوم رمضان، و تحج البيت إن استطعت إليه سبيلا.سبيلا۔{{ڑ}}{{ن}}
 
’’(اسلام یہ ہے کہ) تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالٰیٰ کے سوا کوئی [[عبادت]] کے لائق نہیں اور [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، (اور یہ کہ) تو [[نماز]] قائم کرے اور [[زکوٰۃ]] ادا کرے اور تو ماہ [[رمضان]] کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو اس کے گھر کا [[حج]] کرے۔ ‘‘
اس کے بعد جبریل امین علیہ السلام نے تیسرا سوال [[احسان]] کے بارے میں کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
 
{{ٹ}}{{ع}}الإحسان اَنْ تَعْبدَ اﷲَ کَانَّکَ تَرَاهُ، فإنْ لَمْ تَکنْ تَرَاهُ فَإنَّه يَرَاکَ.يَرَاکَ۔{{ڑ}}{{ن}} <ref>{{ٹ}}{{ع}}بخاری، الصحيح : 34، رقم : 50، کتاب الايمان، باب بيان الايمان والاسلام والاحسان و وجوب الايمان<br/> مسلم، الصحيح : 65، رقم : 1، کتاب الايمان، باب سوال جبريل النبی عن الايمان والاسلام ولإحسان و علم اشاعة{{ڑ}}{{ن}}</ref>
 
’’احسان یہ ہے کہ تو اﷲ کی [[عبادت]] اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کيفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ‘‘
 
== امام نووی کا قول ==
[[امام نووی]] رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں بندہ اپنی عبادت کو پورے کمال کے ساتھ انجام دے گا اور اس کے ظاہری ارکان آداب کی بجا آوری اور باطنی خضوع و خشوع میں کسی چیز کی کمی نہیں کرے گا۔ الغرض عبادت کی اس اعلیٰ درجے کی حالت اور ایمان کی اس اعلیٰ کيفیت کو ’’احسان‘‘ کہتے ہیں۔ <ref>{{ٹ}}{{ع}}نووی، شرح صحيح مسلم، 1 : 27، کتاب الايمان، باب سوال جبريل النبی صلی الله عليه وآله وسلم عن الايمان و الاسلام و الاحسان{{ڑ}}{{ن}}</ref>
 
== مزید پڑھیئے ==