مرکزی مینیو کھولیں

تبدیلیاں

1 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
{{اسرائیل کے بادشاہ}}
 
'''رحبعام''' (انگریزی تلفظ {{IPAc-en|ˌ|r|iː|ə|ˈ|b|oʊ|.|ə|m|}}؛ {{Hebrew name|רְחַבְעָם|Reẖav'am|Rəḥaḇʻām|مطلب ”وہ جو لوگوں کو بڑا کرتا ہے“}}؛ {{lang-el|Ροβοαμ}}؛ {{lang-la|Roboam}}) ایک اسرائیل کا بادشاہ گزرا ہے۔ جس کا ذکر [[عبرانی بائبل]] میں ہے۔ [[کتاب تواریخ|تواریخ دوم]] اور [[کتاب سلاطین|سلاطین اول]] کے مطابق، یہ پہلے [[مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت)|مملکت اسرائیل]] کا بادشاہ تھا۔ لیکن بعد میں 932/931 ق۔مق۔ م میں دس قبیلوں نے بغاوت کردی اور ایک الگ ریاست [[مملکت اسرائیل (سامریہ)]] بنالی۔ اس کے نام کا ذکر [[بائبل]] میں صرف [[مملکت یہودہ]] یا جنوبی ریاست کے بادشاہ طور پر آیا ہے۔ وہ [[سلیمان (بادشاہ)|سُلیمان]] کا فرزند اور [[داؤد (بادشاہ)|داؤُد]] کا پوتا تھا۔استھا۔ اس کی والدہ [[نعمہ (سلیمان کی بیوی)|نعمہ]] تھی جس کا تعلق [[مملکت عمون|عمون]] سے تھا۔
 
== بائبل داستان ==
[[فائل:Kingdoms of Israel and Judah map 830.svg|تصغیر|250px||[[مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت)|متحدہ بادشاہت]] کے ٹکڑے، یربعام کی شمال میں [[مملکت اسرائیل]] (نقشے پر نیلا رنگ) پر حکومت اور [[رحبعام]] کا جنوب میں [[مملکت یہودہ]] پر حکومت]]
[[عبرانی بائبل]] کے مطابق سلیمان [[مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت)|متحدہ بادشاہت]] کا آخری بادشاہ تھا۔استھا۔ اس کی موت قدرتی ہوئی تھی <ref>{{cite web |url=https://www.jewishvirtuallibrary.org/jsource/History/Kings.html |title=مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت) |publisher=Jewish Virtual Library |accessdate=9 اپریل2017}}</ref>اور مرتے وقت اس کی عمر 80 سال کے قریب تھی۔ جس کے بعد [[رحبعام]] اس کا جانشین بنا۔[[اسرائیل کے بارہ قبیلے|اسرائیل کے قبیلوں]] میں سے دس قبیلے رحبعام کے خلاف تھے۔یربعامتھے۔ یربعام نے شمال میں [[مملکت اسرائیل]] پر حکومت کی اور [[رحبعام]] نے جنوب میں [[مملکت یہودہ]] پر حکومت کی۔اسکی۔ اس کے بعد دونوں مملکت کبھی یکجا نہیں ہوئیں۔
 
== حالاتِ زندگی وجنگیں==
اس کی بادشاہت کا ذکر [[کتاب سلاطین]] اول باب 12 میں آیا جو مندرجہ ذیل ہے۔:{{سخ}}
”<sup>(1)</sup> اور رحبعام [[سکم]] کو گیا کیونکہ سارا اسرائیل اسے بادشاہ بنانے کےلئےکے لیے سکم کو گیا تھا۔<sup>(2)</sup> اور جب نباط کے بیٹے یربعام نے جو ہنوز مصر میں تھا یہ سنا (کیونکہ یربعام سلیمان بادشاہ کے حضور سے بھاگ گیا تھا اور وہ مصر میں رہتا تھا۔<sup>(3)</sup> سو انہوں نے لوگ بھیج کر اسے بلوایا) تو یربعام اور اسرائیل کی ساری جماعت آ کر رحبعام سے یوں کہنے لگی۔<sup>(4)</sup> کہ تیرے باپ نے ہمارا جُوا سخت کر دیا تھا سو تو اب اپنے باپ کی اس سخت خدمت کو اور اس بھاری جوئے کو جو اس نے ہم پر رکھا ہلکا کر دے اور ہم تیری خدمت کریں گے۔ <sup>(5)</sup> تب اس نے ان سے کہا ابھی تم تین روز کے لیے چلے جاؤ تب پھر میرے پاس آنا۔ سو وہ لوگ چلے گئے۔ <sup>(6)</sup> اور رحبعام بادشاہ نے ان عمر رسیدہ لوگوں سے جو اس کے باپ سلیمان کے جیتے جی اس کے حضور کھڑے رہتے تھے مشورت لی اور کہا کہ ان لوگوں کو جواب دینے کے لیے تم مجھے کیا صلاح دیتے ہو؟۔<sup>(7)</sup> انہوں نے اس سے یہ کہا کہ اگر تو آج کے دن اس قوم کا خادم بن جائے اور اُن کی خدمت کرے اور ان کو جواب دے اور ان سے میٹھی باتیں کرے تو وہ سدا تیرے خادم بنے رہیںرہی ں گے۔ <sup>(8)</sup> پر اس نے ان عمر رسیدہ لوگوں کی مشورت جو اُنہوں نے اسے دی چھوڑ کر ان جوانوں سے جو اس کے ساتھ بڑے ہوئے تھے اور اس کے حضور کھڑے تھے مشورت لی۔ <sup>(9)</sup> اور اُن سے پوچھا کہ تُم کیا صلاح دیتے ہو تاکہ ہم ان لوگوں کو جواب دے سکیں جنہوں نے مجھ سے یوں کہا ہے کہ اُس جوئے کو جو تیرے باپ نے ہم پر رکھا ہلکا کر دے؟۔ <sup>(10)</sup> ان جوانوں نے جو اس کے ساتھ بڑے ہوئے تھے اس سے کہا تو ان لوگوں کو یوں جواب دینا جنہوں نے تجھ سے کہا ہے کہ تیرے باپ نے ہمارے جُوئے کو بھاری کِیا تُو اُس کو ہمارے لیے ہلکا کر دے ۔دے۔ سو تو اُن سے یوں کہنا کہ میری چھنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے۔ <sup>(11)</sup> اور اب گو میرے باپ نے بھاری جُوا تم پر رکھا ہے تو بھی میں تمہارے جُوئے کو اور زیادہ بھاری کروں گا ۔گا۔ میرے باپ نے تم کو کوڑوں سے ٹھیک کیا مَیں تم کو بچھُووں سے ٹھیک بناؤں گا۔ <sup>(12)</sup> سو یربعام اور سب لوگ تیسرے دن رحبعام کے پاس حاضر ہوئے جیسا بادشاہ نے اُن کو حکم دیا تھا کہ تیسرے دن میرے پاس پھر آنا۔<sup>(13)</sup> اور بادشاہ نے اُن لوگوں کو سخت جواب دیا اور عمر رسیدہ لوگوں کی اُس مشورت کو جو اُنہوں نے اُسے دی تھی ترک کیا۔ <sup>(14)</sup> اور جوانوں کی صلاح کے موافق اُن سے یہ کہا کہ میرے باپ نے تو تم پر بھاری جُوا رکھا لیکن مَیں تمہارے جُوئے کو زیادہ بھاری کروں گا ۔گا۔ میرے باپ نے تم کو کوڑوں سے ٹِھیک کِیا پر مَیں تُم کو بچھوؤں سے ٹھیک بناؤُں گا۔ <sup>(15)</sup> سو بادشاہ نے لوگوں کی نہ سنی کیونکہ یہ معاملہ خداوند کی طرف سے تھا تاکہ خداوند اپنی بات کو جو اس نے سَیلانی اخیاہ کی معرفت نباط کے بیٹے یربعام سے کہی تھی پورا کرے۔<sup>(16)</sup> اور جب سارے اسرا ئیل نے دیکھا کہ بادشاہ نے اُن کی نہ سنی تو انہوں نے بادشاہ کو یوں جواب دِیا کہ داؤد میں ہمارا کیا حصہ ہے؟ یسّی کے بیٹے میں ہماری میراث نہیں ۔نہیں۔ اے اسرائیل اپنے ڈیروں کو چلے جاؤ اور اب اے داؤد تو اپنے گھر کو سنبھال ۔سنبھال۔ سو اسرائیلی اپنے ڈیروں کو چل دِئے۔<sup>(17)</sup> لیکن جتنے اسرائیلی یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے اُن پر رحبعام سلطنت کرتا رہا۔<sup>(18)</sup> پھر رحبعام بادشاہ نے ادورام کو بھیجا جو بیگاریوں کے اوپر تھا اور سارے اسرائیل نے اُسے سنگسار کیا اور وہ مر گیا ۔گیا۔ تب رحبعام بادشاہ نے اپنے رتھ پر سوار ہونے میں جلدی کی تاکہ یروشلیم کو بھاگ جائے۔<sup>(19)</sup> یوں اسرائیل داؤد کے گھرانے(داؤد ہاؤس) سے باغی ہوا اور آج تک ہے۔ <sup>(20)</sup> اور جب سارے اسرائیل نے سنا کہ یربعام لوٹ آیا ہے تو اُنہوں نے لوگ بھیج کر اسے جماعت میں بلوایا اور اسے سارے اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور یہوداہ کے قبیلہ کے سوا کسی نے داؤد کے گھرانے کی پیروی نہ کی۔<sup>(21)</sup> اور جب رحبعام [[یروشلیم]] میں پہنچا تو اُس نے یہوداہ کے سارے گھرانے اور [[قبیلہ بنیامین]] کو جو سب ایک لاکھ اسی ہزار چنے ہوئے جنگی مرد تھے اکٹھا کِیا تاکہ وہ اسرائیل کے گھرانے سے لڑ کر سلطنت کو پھر سلیمان کے بیٹے رحبعام کے قبضہ میں کرادیں۔<sup>(22)</sup> لیکن سمعیاہ کو جومَردِ خدا تھا خدا کا یہ پیغام آیا۔<sup>(23)</sup>کہ یہوداہ کے بادشاہ سلیمان کے بیٹے رحبعام اور یہوداہ اور بِنیامِین کے سارے گھرانے اور قوم کے باقی لوگوں سے کہہ کہ۔<sup>(24)</sup> خداوند یُوں فرماتا ہے کہہ تم چڑھائی نہ کرو اور نہ اپنے بھائیوں بنی اسرائیل سے لڑو بلکہ ہر شخص اپنے گھر کو لَوٹے کیونکہ یہ بات میری طرف سے ہے ۔ہے۔ سو انہوں نے خداوند کی بات مانی اور خداوند کے حکم کے مطابق لوٹے اور اپنا راستہ لیا۔<sup>(25)</sup> تب یربعام نے افرائیم کے کوہستانی ملک میں سکم کو تعمِیر کِیا اور اُس میں رہنے لگا اور وہاں سے نِکل کر اُس نے فنوا یل کو تعمِیرکِیا۔<sup>(26)</sup> اور یربعام نے اپنے دِل میں کہا کہ اب سلطنت داؤُد کے گھرانے میں پِھر چلی جائے گی۔<sup>(27)</sup> اگر یہ لوگ [[یروشلیم]] میں خُداوند کے گھر میں قُربانی گُذراننے کو جایا کریں تو اِن کے دِل اپنے مالک یعنی یہُوداہ کے بادشاہ رحبعام کی طرف مائل ہوں گے اور وہ مجھ کو قتل کر کے شاہِ یہوداہ رحبعام کی طرف پِھر جائیں گے۔<ref>کتاب سلاطین اول باب دہم 1-27</ref>“{{سخ}}
 
=== مدتِ بادشاہت ===
 
== بیویاں اور حرمیں ==
رحبعام کی 18 بیویاں اور 60 حرمیں تھیں۔جنتھیں۔ جن سے اس کے 28 بیٹے اور 60 بیٹیاں تھیں اس کی بیویاں کے نام بہت کم درج کئےکیے گئے ہیں۔<ref> [[کتاب تواریخ]] دوم باب 12، 18-21</ref>
 
== موت اور تدفین ==